چیٹیوں کا احتساب

چیٹیوں کا احتساب

ایک وسیع و عریض جنگل تھا جہاں طاقتور جانوروں کی حکومت قائم تھی۔ بڑے جانور اپنی مرضی سے فیصلے کرتے تھے، جبکہ چھوٹے جانداروں کی کسی کو پرواہ نہ تھی۔ ہاتھی راستے بناتے، شیر قانون نافذ کرتا اور بھینسے گوداموں کی نگرانی کرتے۔ دوسری طرف چوہے، گلہریاں اور خاص طور پر چیٹیاں خاموشی سے اپنی زندگی گزارتی تھیں۔

چیٹیاں جنگل کی سب سے محنتی مخلوق تھیں۔ وہ صبح سے شام تک اناج، بیج اور پتے اٹھا کر زمین کے نیچے میلوں لمبی سرنگیں بناتی تھیں۔ بظاہر ان کا وجود بہت چھوٹا تھا، مگر ان کی محنت جنگل کی زندگی کو قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی تھی۔

ایک سال طاقتور جانوروں کی کونسل نے اعلان کیا کہ دریا پر ایک عظیم بند تعمیر کیا جائے گا تاکہ خشک سالی کے دنوں میں کوئی جانور پیاسا نہ رہے۔

ہاتھی نے فخر سے کہا:
“ہم ایسا بند بنائیں گے جو پورے جنگل کے لیے زندگی کا ذریعہ بنے گا۔”

شیر بادشاہ نے اس منصوبے کی منظوری دی اور محافظ بھینسوں کو چندہ جمع کرنے کا حکم دیا۔ ہر جانور کو اپنا حصہ ڈالنا تھا۔ بندروں نے پھل جمع کیے، اودبلاؤ نے لکڑیاں کاٹیں، پرندوں نے ٹہنیاں اٹھائیں اور چیٹیوں کو ریت کے ذرات اور چھوٹے پتھر لانے کی ذمہ داری دی گئی۔

ملکہ چیٹی نے کہا:
“ہم چھوٹی ضرور ہیں، مگر اپنا فرض پوری دیانت سے ادا کریں گی۔”

دن گزرتے گئے۔ چیٹیاں قطار در قطار چلتی رہیں اور اپنی پیٹھ پر ریت کے ذرات اٹھا کر بند کی جگہ پہنچاتی رہیں۔ ان کی مسلسل محنت سے زمین بلند تو ہونے لگی، مگر حیرت انگیز طور پر بند کی اونچائی میں کوئی خاص اضافہ نظر نہ آیا۔

چند ماہ بعد چیٹیوں نے محسوس کیا کہ ہر رات ریت اور لکڑیوں کے ڈھیر غائب ہو جاتے ہیں۔ ادھر ہاتھی کا ذاتی تالاب بڑا ہوتا جا رہا تھا اور محافظ بھینسوں نے دریا کنارے اپنی نئی آرام گاہ بنا لی تھی۔

ایک دن ایک نوجوان چیٹی “کیری” بول اٹھی:
“ہم روزانہ اتنی محنت کرتے ہیں، مگر بند کہاں ہے؟ ہماری محنت آخر جا کہاں رہی ہے؟”

بڑی چیٹیوں نے ڈرتے ہوئے کہا:
“ہم جیسے چھوٹے جانداروں کو طاقتوروں سے سوال نہیں کرنا چاہیے۔”

کیری نے جواب دیا:
“اگر ہم نہیں پوچھیں گے، تو پھر کون پوچھے گا؟”

یہ سن کر چیٹیوں نے تحقیق کا فیصلہ کیا۔

پتوں اور پتھروں کے پیچھے چھپ کر انہوں نے دیکھا کہ محافظ بھینسے بند کے لیے لائی گئی لکڑیاں چرا رہے ہیں، ہاتھی ریت اپنے نجی تالاب کی طرف موڑ رہا ہے اور لگڑ بگڑ جنگل کا سامان باہر فروخت کر رہے ہیں۔

چیٹیاں سخت غصے میں آ گئیں۔

ملکہ چیٹی نے کہا:
“یہ منصوبہ سب کے فائدے کے لیے تھا، مگر کچھ لوگ دوسروں کی محنت پر اپنی عیش و عشرت قائم کر رہے ہیں۔”

چیٹیوں نے تمام چھوٹے جانداروں کا اجلاس بلایا۔ چوہے، مینڈک، بھونرے اور چڑیاں سب جمع ہوئے۔

ملکہ چیٹی نے اعلان کیا:
“ہم تعداد میں بہت زیادہ ہیں۔ اگر ہم متحد ہو جائیں تو طاقتوروں کو بھی جواب دینا پڑے گا۔”

اگلی صبح چیٹیاں کام پر جانے کے بجائے کونسل کے درخت کے سامنے جمع ہو گئیں۔ جب ہاتھی وہاں پہنچا تو زمین پر چیٹیوں کا سمندر دیکھ کر حیران رہ گیا۔

اس نے غرور سے پوچھا:
“تم نے کام کیوں روک دیا؟”

ملکہ چیٹی آگے بڑھی اور بولی:
“جب تک ہمیں یہ نہیں بتایا جاتا کہ بند کا کیا بنا، ہم ریت کا ایک ذرہ بھی نہیں اٹھائیں گی۔”

محافظ بھینسے ہنسنے لگے:
“تم ہماری باز پرس کرنے والی کون ہوتی ہو؟ تم تو محض کیڑے مکوڑے ہو۔”

لیکن چیٹیاں اپنی جگہ پر ڈٹی رہیں۔

کچھ ہی دیر میں چوہے بھی ان کے ساتھ آ ملے، پرندے اوپر منڈلانے لگے، اور کچھوے اور ہرن بھی وہاں پہنچ گئے۔ پورا جنگل اس منظر کو دیکھنے لگا۔

کچھوے نے آہستہ سے کہا:
“انہیں جواب دیا جائے۔”

پرندے چہچہائے:
“چیٹیاں سچ جاننے کا حق رکھتی ہیں۔”

جب ہاتھی نے دیکھا کہ پورا جنگل جواب کا مطالبہ کر رہا ہے، تو وہ گھبرا گیا۔

آخرکار حقیقت سامنے آ گئی۔

سامان کا غلط استعمال ہوا تھا اور بند کا کام ابھی تک صحیح طور پر شروع بھی نہیں ہوا تھا۔

شیر بادشاہ غضب ناک ہوا اور دھاڑا:
“جنگل کے جانوروں کی محنت کسی کی ذاتی آسائش کے لیے نہیں!”

محافظ بھینسوں کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا، چوری شدہ سامان واپس لایا گیا اور بند کی تعمیر دوبارہ شروع ہوئی—مگر اس بار سب جانوروں کی نگرانی میں۔

اس دن کے بعد چیٹیوں کو کبھی معمولی نہیں سمجھا گیا۔

جنگل کے تمام جانوروں نے جان لیا کہ ایک چھوٹی سی آواز بھی حق اور انصاف کی حفاظت کر سکتی ہے۔

اور تب سے جب بھی رہنما کونسل کے درخت کے نیچے جمع ہوتے، وہ احتیاط سے زمین کی طرف دیکھتے تھے…

کیونکہ چیٹیاں اب بھی جاگ رہی تھیں۔ 🐜

سبق آموز بات:
کوئی بھی اتنا چھوٹا نہیں ہوتا کہ احتساب کا مطالبہ نہ کر سکے۔ جب عام لوگ متحد ہو کر سوال کرتے ہیں تو طاقتوروں کو جواب دینا پڑتا ہے۔ معاشرے میں انصاف اس وقت قائم رہتا ہے جب عوام باشعور، متحد اور بیدار ہوں۔ چھوٹی چھوٹی آوازیں مل کر بڑی سے بڑی طاقت کو جھکا سکتی ہیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner