کامیابی صرف طاقت سے نہیں، تیاری، صبر اور درست وقت کے انتخاب سے ملتی ہے۔

کامیابی صرف طاقت سے نہیں، تیاری، صبر اور درست وقت کے انتخاب سے ملتی ہے۔

جنگل میں کئی دنوں سے ایک عجیب خوف پھیلا ہوا تھا۔ ہر صبح کوئی نہ کوئی خبر لاتا کہ پہاڑ کے اُس پار واقع دوسرا جنگل جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔ وہاں کے درختوں کے درمیان دن رات فوجی مشقیں ہو رہی تھیں، ہتھیار جمع کیے جا رہے تھے، سپاہیوں کی تعداد بڑھائی جا رہی تھی اور یہ بات بھی جنگل کے کانوں تک پہنچ چکی تھی کہ دشمن کا ارادہ صرف فتح حاصل کرنا نہیں بلکہ اس پورے جنگل کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینا ہے۔ جنگل کے جانوروں نے اپنے بچوں کو گھروں سے باہر نکلنے سے روک دیا تھا۔ بازار سنسان ہونے لگے تھے۔ پرندے بھی درختوں پر بیٹھ کر خوش گپیوں کے بجائے آنے والی تباہی کی خبریں سناتے تھے۔ شیر بادشاہ کے لیے یہ خوف کچھ اور بھی بڑا تھا۔ اس کے باپ، دادا اور پردادا اسی جنگل پر حکومت کرتے آئے تھے اور اسے سب سے زیادہ فکر اپنی جان سے نہیں بلکہ اس سلطنت کی تھی جسے اس کے آباؤ اجداد نے برسوں سنبھال کر رکھا تھا۔ وہ راتوں کو جاگتا، نقشے دیکھتا، سپہ سالاروں سے مشورے کرتا اور پھر بھی اسے کوئی ایسا راستہ دکھائی نہ دیتا جس سے اس طوفان کو روکا جا سکے۔ آخر ایک رات اس نے جنگل کی سب سے دانا ہستی کو بلانے کا حکم دیا۔ بوڑھی لومڑی دربار میں پہنچی تو اس کے چہرے پر وہ اطمینان تھا جو کسی ایسے شخص کے چہرے پر ہوتا ہے جس نے زندگی میں اتنے طوفان دیکھ لیے ہوں کہ اب بادلوں کی گرج اسے خوف زدہ نہیں کرتی۔ شیر نے اسے دیکھتے ہی کہا، “اماں! میں پریشان ہوں۔ دشمن کی تیاری ہم سے کئی گنا زیادہ ہے۔ مجھے لگتا ہے اس بار ہمارا جنگل نہیں بچے گا۔” بوڑھی لومڑی چند لمحے اسے دیکھتی رہی، پھر اچانک ہنس پڑی۔ شیر کو اس کی ہنسی کچھ عجیب لگی۔ اس نے کہا، “میں اپنی سلطنت کے اجڑنے کی فکر میں ہوں اور آپ ہنس رہی ہیں؟” لومڑی نے کہا، “بادشاہ سلامت! میں اس لیے ہنس رہی ہوں کہ آپ نے اتنی بڑی مصیبت کا علاج ڈھونڈنے کے لیے پورے جنگل میں سب سے سمجھدار جانور بلائے اور آخر میں مجھے بھی یاد کر لیا۔” شیر نے کہا، “تو پھر کوئی راستہ بتائیے۔” لومڑی نے فوراً کہا، “گدھے کو بلائیے۔” شیر نے چونک کر پوچھا، “گدھے کو؟” لومڑی نے کہا، “جی ہاں، اور اسے آج ہی جنگل کا سپہ سالار مقرر کر دیجیے۔” شیر نے سمجھا شاید بڑھاپے نے لومڑی کی عقل پر پردہ ڈال دیا ہے۔ بولا، “میں دشمن کے سامنے اپنی فوج کا سپہ سالار گدھے کو بھیجوں؟” لومڑی نے جواب دیا، “جی ہاں۔” شیر نے پھر پوچھا، “اور اگر دشمن نے اسے دیکھ کر ہم پر حملہ کر دیا تو؟” لومڑی مسکرائی، “بس یہی تو میں چاہتی ہوں۔” شیر کچھ نہ سمجھا، مگر جنگ کے دنوں میں کبھی کبھی عقل کا سب سے بڑا امتحان یہ ہوتا ہے کہ آدمی اپنی عقل کو کچھ دیر کے لیے کسی دوسرے کی عقل کے حوالے کر دے۔ چنانچہ گدھے کو بلایا گیا۔ اسے جب بتایا گیا کہ آج سے وہ جنگل کا سپہ سالار ہے تو پہلے تو اسے یقین ہی نہ آیا۔ پھر اس نے گردن اونچی کی، سینہ پھلایا اور ایسے چلنے لگا جیسے ساری عمر فوج کی قیادت کرتا آیا ہو۔ شیر نے اسے ہدایت دی، “دشمن کے جنگل میں جاؤ، مذاکرات کرو۔ اگر وہ پوچھیں کہ تم کس حیثیت سے آئے ہو تو کہنا کہ میں اس جنگل کا سپہ سالار ہوں۔” گدھے نے پوچھا، “اور اگر وہ مجھ سے جنگی حکمتِ عملی پوچھیں؟” لومڑی نے فوراً کہا، “جو دل میں آئے کہہ دینا۔” گدھے نے خوش ہو کر کہا، “یہ کام تو میں بہت اچھا کر سکتا ہوں!” اگلی صبح گدھا دشمن کے جنگل میں پہنچ گیا۔ وہاں کے محافظ اسے دیکھ کر چونکے۔ انہوں نے پوچھا، “تم کون ہو؟” گدھے نے گردن اکڑا کر جواب دیا، “میں اس جنگل کا سپہ سالار ہوں۔” خبر فوراً دشمن کے بادشاہ تک پہنچی۔ اسے یقین نہیں آیا کہ سامنے والے جنگل کا سپہ سالار ایک گدھا ہے۔ اسے دربار میں بلایا گیا۔ دشمن بادشاہ نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا اور پوچھا، “کیا واقعی تم وہاں کی فوج کے سپہ سالار ہو؟” گدھے نے کہا، “صرف سپہ سالار نہیں، جنگی معاملات میں میری رائے کے بغیر وہاں پتہ بھی نہیں ہلتا۔” بادشاہ نے پوچھا، “تمہاری فوج کتنی ہے؟” گدھے نے بے فکری سے کہا، “اتنی کہ اگر سب کو ایک قطار میں کھڑا کر دیں تو قطار کہاں ختم ہوگی، ہمیں خود نہیں معلوم۔” دشمن بادشاہ نے اسے عجیب نظروں سے دیکھا۔ گدھا مزید بولا، “اور ایک بات یاد رکھنا، اگر جنگ ہوئی تو تمہیں سب سے پہلے میرے ساتھ مقابلہ کرنا پڑے گا۔” دشمن بادشاہ نے سوچا، “یہ کیسا سپہ سالار ہے؟” پھر اس نے اپنے وزیروں کی طرف دیکھا۔ ایک وزیر نے آہستہ سے کہا، “حضور! اگر سامنے والے جنگل کا سپہ سالار ہی ایسا ہے تو اندازہ کیجیے، اس کے سپاہی کیسے ہوں گے!” دوسرے نے کہا، “شاید وہاں عقل کی کمی ہے، اسی لیے گدھے کو فوج کی کمان دے دی گئی ہے۔” بادشاہ نے چند لمحے سوچا اور بولا، “ہم مہینوں سے جس جنگ کی تیاری کر رہے تھے، شاید اس کے لیے اتنی تیاری کی ضرورت ہی نہیں۔ اگر دشمن کا سپہ سالار یہ ہے تو اس جنگل کی فوج ہمارے سامنے کیا ٹھہرے گی؟” گدھے نے جانے سے پہلے ایک اور ایسی بات کہہ دی جس نے دشمن کے آخری شبہ کو بھی ختم کر دیا۔ اس نے کہا، “دیکھو، میں تمہیں ایک موقع دیتا ہوں۔ ابھی واپس جاؤ، اپنی فوج تیار کرو، پھر جب ہمارا بادشاہ خود میدان میں آئے گا تو تمہیں سمجھ آ جائے گی کہ میں تمہارے لیے کتنا خطرناک تھا۔” دشمن بادشاہ نے اس جملے کو بھی اپنی فتح کی علامت سمجھا۔ اس نے فوراً حکم دیا، “جس جنگ کی ہم نے مہینوں بعد منصوبہ بندی کی تھی، وہ آج سے دو دن بعد نہیں، بلکہ پرسوں صبح شروع ہوگی۔ ہم انہیں تیاری کا وقت نہیں دیں گے۔” خبر جب شیر کے جنگل پہنچی کہ دشمن کی فوج توقع سے کہیں پہلے حملہ کرنے والی ہے تو پورے جنگل میں کہرام مچ گیا۔ جانور ایک دوسرے کو دیکھ کر رونے لگے۔ کسی نے کہا، “ہم گئے!” کسی نے کہا، “اب کوئی نہیں بچا سکتا!” کسی نے کہا، “گدھے کو سپہ سالار بنا کر بھیجا تھا، اس نے جنگ اور جلدی کروا دی!” صرف بوڑھی لومڑی ایک درخت کے نیچے بیٹھی مسکرا رہی تھی۔ ایک خرگوش نے حیرت سے پوچھا، “اماں! پورا جنگل ماتم کر رہا ہے اور آپ ہنس رہی ہیں؟” لومڑی نے کہا، “بیٹا، یہی تو ہماری پہلی کامیابی ہے۔” خرگوش نے پوچھا، “کامیابی؟ دشمن تو دو دن بعد حملہ کرنے والا ہے!” لومڑی نے کہا، “وہ دو دن بعد نہیں، اپنی پوری تیاری کے بغیر حملہ کرنے والا ہے۔” ادھر دشمن کی فوج واقعی پوری طاقت کے ساتھ حملے کے لیے نکلی، مگر اسے معلوم نہ تھا کہ وہ اپنی سب سے بڑی طاقت خود پیچھے چھوڑ آیا ہے۔ اس کے پاس مہینوں کی تیاری کا منصوبہ تھا، مگر اب جلد بازی نے اسے ادھورا چھوڑ دیا تھا۔ جنگ چھڑی تو شیر کی فوج نے وہ مزاحمت کی جس کا دشمن نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ جو جنگ پہلے ناممکن دکھائی دیتی تھی، وہ گھنٹوں میں دشمن کے لیے وبال بن گئی۔ شیر کے سپاہیوں نے ہر محاذ پر ایسا مقابلہ کیا کہ دشمن کی صفیں بکھرنے لگیں۔ آخرکار دشمن کی فوج پسپا ہونے پر مجبور ہوگئی۔ جنگل میں فتح کے نعرے بلند ہوئے اور وہی جانور جو دو دن پہلے اپنے انجام پر ماتم کر رہے تھے، آج خوشی سے ایک دوسرے کو گلے لگا رہے تھے۔ شیر نے سب سے پہلے بوڑھی لومڑی کو دربار میں بلایا۔ وہ آئی تو شیر نے حیرت سے کہا، “اماں! آج بھی میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ نے کیا کیا۔ آپ نے تو بظاہر میرے جنگل کے سب سے بڑے عہدے پر سب سے کم عقل جانور کو بٹھایا، دشمن نے اسے دیکھا اور ہنسنے کے بجائے ہمیں ختم کرنے کے لیے فوراً حملہ کر دیا، پھر بھی ہم جیت گئے۔” لومڑی نے کہا، “بادشاہ سلامت! جنگ ہمیشہ تلوار سے نہیں جیتی جاتی، کبھی دشمن کے ذہن میں ایک تصویر بنا دینا بھی کافی ہوتا ہے۔ میں جانتی تھی کہ گدھا دشمن کے دربار میں کیا کرے گا۔ وہ وہاں جا کر کوئی فوجی راز نہیں بتائے گا، کوئی پیچیدہ جنگی منصوبہ نہیں بنائے گا؛ وہ صرف وہی کرے گا جو وہ ہمیشہ کرتا ہے—اپنی حماقت کو ذہانت سمجھ کر بیان کرے گا۔ دشمن نے جب ہمارے سپہ سالار کو دیکھا تو اس نے ہمارے پورے جنگل کا اندازہ اسی ایک جانور سے لگا لیا۔ اس نے سوچا، ‘اگر سپہ سالار ایسا ہے تو سپاہی کیسے ہوں گے؟’ یہی اس کی سب سے بڑی غلطی تھی۔” شیر نے کہا، “مگر اگر وہ ہمیں کمزور سمجھ کر حملہ نہ کرتا تو؟” لومڑی نے جواب دیا، “تب بھی ہمیں وقت مل جاتا، اور وقت ہماری اصل طاقت تھا۔ مگر ہم نے اسے وقت سے پہلے حملہ کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس نے اپنی مہینوں کی تیاری کو دو دن کی جلد بازی میں بدل دیا، اور جو دشمن اپنے منصوبے پر قائم نہ رہ سکے، اس کی بڑی سے بڑی فوج بھی بکھر سکتی ہے۔” شیر کچھ دیر خاموش رہا، پھر بولا، “تو اصل ہتھیار گدھا نہیں تھا؟” لومڑی مسکرائی، “نہیں بادشاہ سلامت، اصل ہتھیار دشمن کی جلد بازی تھی۔ گدھا تو صرف وہ آئینہ تھا جس میں دشمن نے اپنی خواہش کے مطابق ہماری تصویر دیکھ لی۔”

حاصلِ سبق:
کامیابی صرف طاقت سے نہیں، تیاری، صبر اور درست وقت کے انتخاب سے ملتی ہے۔ جو شخص تیاری کیے بغیر صرف اپنی طاقت کے گھمنڈ میں فیصلہ کرتا ہے، وہ معمولی سی چال کے سامنے بھی اپنی بڑی طاقت گنوا سکتا ہے۔ اور کبھی کبھی دشمن کو شکست دینے کے لیے اسے اپنی ہی جلد بازی کا شکار بنا دینا کافی ہوتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner