ایک شہر میں ایک بہت بڑا کنجوس رہتا تھا۔ وہ اتنا بخیل تھا کہ اپنی ذات پر بھی ایک روپیہ خرچ کرتے ہوئے اس کی جان نکلتی تھی۔ اس کی ایک ہی خواہش تھی کہ کبھی بغیر پیسے خرچ کیے کوئی اچھی چیز کھانے کو مل جائے۔
ایک دن اس کے ایک امیر دوست نے اسے اپنے گھر کھانے پر بلایا۔ کنجوس خوشی خوشی وہاں پہنچا۔ دوست نے رات کے کھانے میں بہت ہی لذیذ اور مہنگی تلی ہوئی مچھلی (Fried Fish) بنوائی ہوئی تھی۔ مچھلی اتنی خوشبودار تھی کہ کنجوس کے منہ میں پانی آگیا۔
کنجوس نے بغیر وقت ضائع کیے مچھلی کھانا شروع کی اور اتنی تیزی سے کھائی کہ مچھلی کا ایک بڑا اور تیز کانٹا اس کے گلے میں پھنس گیا۔ کنجوس کا دم گھٹنے لگا، اس کا چہرہ لال ہو گیا اور وہ کھانسنے لگا۔
امیر دوست پریشان ہو گیا اور نوکر سے بولا: “جلدی بھاگو اور سامنے گلی سے ڈاکٹر کو لے کر آؤ!”
ڈاکٹر کا نام سنتے ہی کنجوس، جو کہ گلے میں پھنسے کانٹے کی وجہ سے بول بھی نہیں پا رہا تھا، نے بڑی مشکل سے اپنے دوست کا ہاتھ پکڑا اور اشارے سے نوکر کو روکا۔ اس نے ہچکیاں لیتے ہوئے ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں کہا:
“ٹھہرو… ٹھہرو! ڈاکٹر کو مت بلانا۔ وہ آنے کی فیس مانگے گا۔ اس سے بہتر ہے کہ نوکر کو مچھلی والے بازار بھیجو اور میرے لیے ایک اور مچھلی منگوا لو… شاید دوسری مچھلی کا نوالہ کھانے سے یہ پہلا کانٹا خود ہی نیچے اتر جائے… اور اس بہانے مجھے ایک اور مچھلی کھانے کو بھی مل جائے گی!”
دوست اس کی حالتِ زار پر ہنسے بغیر نہ رہ سکا کہ انسان مر رہا ہو تب بھی اس کی کنجوسی اور لالچ ختم نہیں ہوتی۔
نتیجہ (Moral):
کنجوسی اور لالچ کا کوئی علاج نہیں (Greed and miserliness know no bounds)۔ کنجوس انسان اپنی جان خطرے میں ڈال سکتا ہے لیکن پیسہ خرچ نہیں کر سکتا۔
