ایک عید… ایک سوال… اور ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والی سچی کہانی
عیدالاضحیٰ کی صبح تھی۔
ہر طرف قربانی کے جانوروں کی آوازیں، خوشیوں کی رونقیں، اور گوشت تقسیم ہونے کی باتیں ہو رہی تھیں… مگر ہمارے گھر میں عجیب خاموشی تھی۔
میری چھوٹی بیٹی شازیہ آہستہ سے میرے پاس آئی اور بولی:
“بابا… ہمیں بھی گوشت ملے گا نا؟”
میں نے مسکرا کر کہا:
“ہاں بیٹا، اللہ سب کو دیتا ہے۔”
لیکن اُس کی اگلی بات نے دل چیر دیا…
“بابا… پچھلی عید پر بھی کسی نے ہمیں گوشت نہیں دیا تھا… ہمیں تو گوشت دیکھے بھی ایک سال ہو گیا۔”
میں نے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا:
“بیٹا، اللہ کا شکر ادا کیا کرو… اُس نے ہمیں بھوکا نہیں رکھا۔”
نمازِ عید کے بعد مسجد میں امام صاحب فرما رہے تھے:
“قربانی کا اصل حق غریب اور محتاج لوگوں کا ہے، انہیں ہرگز نہ بھولیں۔”
مگر شاید یہ بات صرف خطبوں تک محدود رہ گئی تھی…
گھنٹے گزرتے گئے… مگر ہمارے دروازے پر کوئی دستک نہ ہوئی۔
بیوی نے دھیرے سے کہا:
“میں نے پیاز اور ٹماٹر کاٹ دیے ہیں… آپ کہیں سے گوشت لے آئیں۔”
دل بہت بھاری تھا، مگر بچیوں کی خاطر ایک جاننے والے ڈاکٹر صاحب کے گھر چلا گیا۔
دروازہ کھلا تو ادب سے کہا:
“ڈاکٹر صاحب… اگر کچھ گوشت بچا ہو تو…”
انہوں نے بات مکمل ہونے سے پہلے ہی سخت لہجے میں کہا:
“پتہ نہیں کہاں کہاں سے مانگنے والے آ جاتے ہیں!”
اور دروازہ زور سے بند کر دیا۔
وہ لمحہ شاید زندگی کے مشکل ترین لمحوں میں سے ایک تھا…
پھر میں اقبال چاچا کے پاس گیا۔ انہوں نے خاموشی سے ایک شاپر دیا اور اندر چلے گئے۔
گھر آ کر دیکھا تو اُس میں صرف ہڈیاں اور چربی تھی۔
بیوی نے مسکرا کر کہا:
“کوئی بات نہیں… میں چٹنی بنا دیتی ہوں۔”
اتنے میں شازیہ آئی اور بولی:
“بابا… مجھے گوشت نہیں کھانا، میرے پیٹ میں درد ہو رہا ہے۔”
میں سمجھ گیا… بیٹی مجھے تسلی دے رہی ہے۔
اس دن پہلی بار اپنے بچوں کے سامنے رو پڑا…
بیوی اور بچیاں بھی خاموش آنکھوں سے آنسو بہاتی رہیں۔
اسی دوران دروازے پر دستک ہوئی۔
محلے کا اکرم سبزی والا کھڑا تھا۔
وہ بولا:
“آزاد بھائی! میرا بھائی گاؤں سے گوشت لایا ہے۔ ہم اکیلے نہیں کھا سکتے… یہ آپ رکھ لیں۔”
شاپر کھولا تو تین چار کلو تازہ گوشت تھا۔
آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل پڑے…
اور دل سے دعا نکلی:
“یا اللہ! اکرم کے رزق، عزت اور خوشیوں میں برکت عطا فرما۔”
اگلے دن شدید بارش ہوئی۔ بجلی چلی گئی، اور دو دن تک نہ آئی۔
تیسرے دن جب میں شازیہ کے ساتھ باہر نکلا تو ایک ایسا منظر دیکھا جس نے روح ہلا دی…
ڈاکٹر صاحب اور اقبال چاچا کے گھر کے باہر سڑا ہوا گوشت پڑا تھا۔
پلاسٹک کے شاپر پھٹے ہوئے تھے، اور کتے اُس گوشت پر جھپٹ رہے تھے۔
شازیہ نے میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا…
اور معصومیت سے پوچھا:
“بابا… کیا کتوں کے لیے قربانی کی تھی؟”
میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا…
عید کی اصل خوشی صرف جانور ذبح کرنے میں نہیں…
بلکہ کسی بھوکے کے چہرے پر مسکراہٹ لانے میں ہے۔
آپ کے آس پاس بھی شاید کوئی “آزاد بھائی” رہتا ہو…
کوئی شازیہ آج بھی گوشت کے انتظار میں ہو…
خدارا، اس عید صرف گوشت نہ بانٹیں…
احساس بانٹیں، محبت بانٹیں، اور اُن لوگوں تک پہنچیں جو واقعی اس حق کے مستحق ہیں۔
معزیز قارئین ایک غریب سفید پوش فیملی کے لیے راشن کی اشد ضرورت ہے اللہ کی رضا کے لیے مدد کی درخواست ہے ان کی مدد میں ساتھ دیں عید کی کچھ خوشی ان کے بچے بھی منالیں
