اشفاق احمد بیان کرتے ہیں کہ میری بیوی بانو قدسیہ یونیورسٹی میں پڑھاتی تھیں۔ میں روزانہ انہیں گاڑی میں یونیورسٹی چھوڑنے جاتا۔
گیٹ پر پہنچ کر میں گاڑی سے اترتا، دوسری طرف جا کر دروازہ کھولتا، بانو قدسیہ اترتیں اور اپنی سہیلیوں کے ساتھ یونیورسٹی میں داخل ہو جاتیں۔
چھٹی کے وقت بھی میں انہیں لینے آتا، گاڑی سے اتر کر دروازہ کھولتا اور انہیں عزت سے گاڑی میں بٹھا کر گھر لے آتا۔
یہ منظر روزانہ دیکھ کر ان کی سہیلیاں کہتیں:
“واہ! ان دونوں میں کتنی محبت ہے۔ اللہ ہمیں بھی ایسا شوہر دے!”
وہ مجھے کسی شاہی نوکر کی طرح دروازہ کھولتے اور بانو قدسیہ کو شہزادی کی طرح گاڑی سے اترتے دیکھتیں۔
مگر انہیں کیا معلوم تھا کہ حقیقت کچھ اور ہے…
ہماری گاڑی کا دروازہ اندر سے خراب تھا، اس لیے مجھے ہر بار باہر نکل کر دروازہ کھولنا پڑتا تھا! 🤣
کبھی کبھی لوگ جسے محبت سمجھ رہے ہوتے ہیں، اس کے پیچھے صرف… خراب دروازہ بھی ہو سکتا ہے! 😂


