بہت زمانہ پہلے کی بات ہے۔ ایک سلطنت میں ایک ایسا شہزادہ رہتا تھا جس کا مزاج کانٹوں سے بھی زیادہ چبھنے والا تھا۔ غرور اس کے سر پر سوار رہتا اور بدتمیزی اس کی زبان پر ناچتی تھی۔ رعایا تو درکنار، اس کے اپنے خادم بھی اس کے رویّے سے عاجز آ چکے تھے۔
ایک روز قسمت نے پلٹا کھایا۔ زور دار بارشوں کے باعث دریا بپھر گیا اور سیلاب کا ریلہ ہر شے کو اپنے ساتھ بہائے لیے جا رہا تھا۔ انہی دنوں شہزادہ بھی دریا کے تیز دھار پانی میں جا گرا۔ کچھ روایتیں کہتی ہیں کہ اس کے نوکروں نے، جو اس کی سخت مزاجی سے تنگ آ چکے تھے، اسے دھکا دے دیا۔
موت اس کے سر پر منڈلا رہی تھی۔ بڑی مشکل سے اسے ایک بہتا ہوا درخت کا تنا ہاتھ آ گیا۔ وہ اسی کے سہارے جان بچانے کی کوشش کرنے لگا۔
اسی تنے سے تین اور بے بس مخلوقات بھی چمٹ گئیں: ایک سانپ، ایک چوہا اور ایک طوطا۔ چاروں سیلاب کے رحم و کرم پر تھے۔
ادھر دریا کے کنارے ایک نیک دل راہب اپنی جھونپڑی میں رہتا تھا۔ جب اس کی نظر ان مصیبت زدہ جانوں پر پڑی تو اس کا دل پسیج گیا۔ اس نے جان جوکھوں میں ڈال کر سب کو بچا لیا اور اپنی جھونپڑی میں لے آیا۔ وہاں آگ روشن کی، انہیں گرمائش دی اور ان کی تیمارداری کی، یہاں تک کہ سب صحت یاب ہو گئے۔
جب رخصت ہونے کا وقت آیا تو سانپ ادب سے بولا:
“اے مہربان راہب! آپ نے مجھ پر احسان کیا ہے۔ اگر کبھی ضرورت پڑے تو میرے بل کے پاس آ کر صرف ‘سانپ’ پکار دیجیے گا۔ میرے پاس ایک پوشیدہ خزانہ ہے، وہ سب آپ کا ہوگا۔”
پھر چوہا آگے بڑھا اور بولا:
“میرے آقا! میں بھی آپ کا احسان مند ہوں۔ میرے بل پر آ کر ‘چوہا’ کہیے گا، جو کچھ میرے پاس ہے آپ کی نذر کر دوں گا۔”
طوطا اپنی چونچ جھکاتے ہوئے بولا:
“میرے پاس سونا چاندی تو نہیں، لیکن اگر کبھی بھوک لگے تو مجھے یاد کیجیے گا۔ میں آپ کے لیے عمدہ چاولوں کا انتظام کر دوں گا۔”
تینوں جانوروں کے دل شکرگزاری سے لبریز تھے۔
لیکن شہزادہ؟
اس کے دل میں تو کچھ اور ہی پک رہا تھا۔
اس نے دل ہی دل میں زہر آلود مسکراہٹ کے ساتھ سوچا:
“اس راہب نے مجھے سب سے آخر میں بچایا تھا۔ وقت آنے دو، میں اس احسان کا ایسا بدلہ دوں گا کہ عمر بھر یاد رکھے گا!”
وقت گزرتا گیا۔
ایک دن راہب نے سوچا کہ کیوں نہ ان سب احسان مند مخلوقات سے مل آیا جائے۔ چنانچہ وہ پہلے سانپ کے پاس گیا۔ سانپ نے وعدے کے مطابق خزانے کا ڈھیر اس کے قدموں میں رکھ دیا۔
پھر وہ چوہے کے پاس گیا۔ چوہے نے بھی اپنی جمع پونجی اس کے حوالے کر دی۔
اس کے بعد وہ طوطے کے پاس پہنچا۔ طوطا اپنے وعدے پر قائم نکلا۔ اس نے کھیتوں سے عمدہ چاول اکٹھے کر کے راہب کی خدمت میں پیش کیے۔
آخرکار راہب بادشاہی محل کی طرف روانہ ہوا، کیونکہ اب وہی شہزادہ تخت نشین ہو چکا تھا۔
محل میں پہنچتے ہی اس نے اپنی آمد کی اطلاع دی۔
بادشاہ نے جب راہب کا نام سنا تو اس کی آنکھوں میں پرانی کینہ پروری بھڑک اٹھی۔
اس نے غصے سے حکم دیا:
“اس شخص کو گرفتار کرو اور خوب کوڑے مارو!”
حکم شاہی تھا، سپاہیوں نے تعمیل کی۔
بے چارہ راہب کوڑے کھاتا رہا اور درد سے کراہتے ہوئے کہنے لگا:
“واہ رے دنیا! کہاوت سچ ہی کہتی ہے کہ بعض اوقات ڈوبتے کو بچانا بھی مصیبت کو گلے لگانا ہوتا ہے۔”
سپاہیوں کو یہ عجیب بات لگی۔ انہوں نے پوچھا:
“بابا! آخر ماجرا کیا ہے؟”
تب راہب نے ابتدا سے انتہا تک پوری داستان سنا دی۔
سپاہیوں نے جب سنا کہ جس شخص نے بادشاہ کی جان بچائی تھی، آج اسی کے ساتھ یہ سلوک ہو رہا ہے، تو ان کا خون کھول اٹھا۔
انہوں نے کہا:
“جو شخص احسان کا بدلہ ظلم سے دے، وہ تاج و تخت کا حق دار نہیں!”
چنانچہ رعایا اور سپاہیوں نے مل کر ناشکرے بادشاہ کو تخت سے اتار دیا اور اس نیک دل راہب کو بادشاہ بنا دیا، جس کا دل رحم، انصاف اور شکرگزاری سے روشن تھا۔
یوں ایک ظالم اور ناشکرا حکمران اپنے غرور کے بوجھ تلے گر گیا، اور ایک نیک انسان عزت و وقار کے تخت پر جا بیٹھا۔
سبق
احسان کا بدلہ احسان سے دینا انسانیت کی پہچان ہے۔ جو شخص نیکی کو بھول جاتا ہے اور محسن کے خلاف سازش کرتا ہے، وہ آخرکار اپنے ہی کھودے ہوئے گڑھے میں گرتا ہے۔ شکرگزاری دلوں کو بلند کرتی ہے، جبکہ ناشکری انسان کو رسوائی کے اندھیروں میں دھکیل دیتی ہے۔
کہاوت:
“احسان فراموشی وہ آگ ہے جو پہلے دوسروں کو نہیں، اپنے ہی گھر کو جلاتی ہے۔” #منقول
