الو کی عقلمندی –

الو کی عقلمندی –

سائبیریا کے گھنے اور پُراسرار جنگل میں جہاں دن کے وقت بھی رات کا سماں رہتا تھا، وہاں ایک خوبصورت اور برا اُلو رہتا تھا، اس کا نام نور تھا۔نور کو سارا جنگل عقلمند اور دانا سمجھتا تھا۔جنگل کے تمام جانور مشکل وقت میں اس سے مشورہ کرنے آتے تھے، وہ ہمیشہ ایسا مشورہ دیتا جو سننے والے کی پریشانی دور کر دیتا تھا۔
نور ایک پرانے صنوبر کے درخت کی کھوہ میں رہتا تھا۔لیکن جب وہ بوڑھا ہو گیا تو نوجوان ہوتی نسل اس کا دبے لفظوں میں مذاق اُڑانے لگی تھی کہ یہ تو تنہائی پسند ہے اور ہر وقت خاموش رہتا ہے، اس کی عقلمندی کی صرف کہانیاں ہی مشہور ہیں کچھ نہیں کرتا۔نوجوان لومڑی زیادہ گستاخ تھی وہ اکثر کہتی تھی کہ نور چاچا اتنا ہی سمجھدار ہے تو ہمیں شکاریوں سے محفوظ رہنے کے طریقے بتائے جس سے ہم شکاریوں کا شکار ہونے سے بچ سکیں۔

نور چاچا ان کی سب باتیں سنتا لیکن کچھ کہتا نہیں تھا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ کچھ سچائیاں وقت کے ساتھ ہی سمجھ آتی ہیں۔
اللہ کا کرنا بھی ایسا ہوا کہ چند دنوں میں ہی جنگل میں خطرہ منڈلانے لگا اور ایک دن جنگل میں ایک خطرناک انسان بڑی سی بندوق لئے داخل ہوا، جس کے ساتھ اس کے دو تین ساتھی اور بھی تھے۔وہ درختوں میں چھپے جانوروں کو نشانہ بنا رہے تھے۔
جانور ڈر کر اِدھر اُدھر بھاگ رہے تھے۔لومڑی اور اس کے دوست بھی جان بچا کر بھاگ رہے تھے اور چھپنے کے لئے کوئی مناسب جگہ تلاش کر رہے تھے مگر انہیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کہاں چھپیں۔اتنے میں انہیں بوڑھے اُلو کی گونج دار آواز سنائی دی جو انہیں صنوبر کے درخت کی جڑوں میں چھپنے کا مشورہ دے رہا تھا کیونکہ صنوبر کا یہ درخت ایک ہزار سال پرانا تھا جس کی جڑیں بہت پھیلی ہوئی تھیں۔
پہلے تو لومڑی اور اس کے دوستوں کو یہ بات مناسب نہیں لگی کیونکہ انہیں وہاں چھپنے کو کچھ نظر نہیں آ رہا تھا، پھر انہوں نے عقلمند اُلو کی بات مان لی اور صنوبر کی جڑوں کی طرف بڑھے تو انہیں راستہ خود بخود نظر آنے لگا۔دراصل صنوبر کے درخت کی جڑوں کے نیچے ایک بڑی سرنگ تھی اور وہ سب اس میں باآسانی چھپ سکتے تھے۔اُلو جانتا تھا کہ درخت کے نیچے ایک ایسی سرنگ ہے جس کا کسی انسان کو علم نہیں لہٰذا سارے جانور شکاریوں سے محفوظ ہو گئے اور شکاری وہاں کسی جانور کو نہ پا کر مایوس واپس لوٹ گئے۔

جب سب کچھ ٹھیک ہو گیا تو گستاخ لومڑی اور اس کے دوست باہر آئے اور بوڑھے اُلو سے کہی گئی اپنی باتوں کے لئے بہت شرمندہ ہوئے کہ انہوں نے اُلو کی عقل پر شک کیا تھا جس نے آج ان کی جان بچائی۔
لومڑی بولی، ”ہم آپ سے بہت شرمندہ ہیں کہ ہم نے آپ کی عقل پر شک کیا لیکن اب ہم سمجھ گئے ہیں کہ بڑے ہمیشہ صحیح بات کرتے ہیں اور آج ہم سمجھ گئے ہیں کہ عقلمندی زیادہ بولنے میں نہیں بلکہ خاموشی میں چھپی ہے اسی لئے آپ کسی سے فالتو بات نہیں کرتے۔

بوڑھے اُلو نے دانائی بھرا جملہ کہا، ”امام غزالی کا فرمان ہے کہ دانائی کے دس جزو ہیں جن میں سے نو خاموشی میں چھپے ہیں جبکہ دسواں گوشہ نشینی میں۔“ اس دن کے بعد سے نئی نسل بھی بزرگ اُلو کو عقلمند اور دانا سمجھنے لگی اور اپنے بڑوں کی طرح ان سے ہر مشکل میں مشورہ کرنے لگی۔

Leave a Reply

NZ's Corner