گاؤں میں ایک غریب بڑھئی رہتا تھا۔ اس کا نام کریم تھا۔
ایک دن اسے جنگل کے راستے میں ایک پرانا لکڑی کا صندوق ملا۔ جب اس نے کھولا تو اندر سونے کے سکے اور زیورات تھے۔
کریم کی حالت بہت خراب تھی۔ گھر میں کھانے کے لیے بھی مشکل سے کچھ ہوتا تھا۔
وہ صندوق گھر لے آیا، مگر ساری رات سو نہ سکا۔
صبح ہوتے ہی اس نے گاؤں میں اعلان کروا دیا:
“جس کا صندوق گم ہوا ہے، وہ میرے پاس آ جائے۔”
دو دن بعد ایک بوڑھا تاجر آیا۔
اس نے صندوق دیکھتے ہی رونا شروع کر دیا۔
“بیٹا! یہ میری زندگی بھر کی کمائی ہے۔”
کریم نے فوراً صندوق اس کے حوالے کر دیا۔
تاجر حیران رہ گیا۔
“تم چاہتے تو سب کچھ اپنے پاس رکھ سکتے تھے۔”
کریم مسکرایا:
“جو میرا نہیں، وہ میرا کیسے ہو سکتا ہے؟”
تاجر خاموشی سے چلا گیا۔
چند ہفتوں بعد گاؤں میں ایک نئی لکڑی کی فیکٹری بنی۔
لوگ حیران رہ گئے جب معلوم ہوا کہ اس کا مالک وہی بوڑھا تاجر ہے۔
اس نے کریم کو بلایا اور کہا:
“میں نے تمہاری امانت داری آزمائی تھی۔”
“آج سے یہ فیکٹری تم سنبھالو، کیونکہ دولت سے زیادہ قیمتی چیز امانت داری ہے۔”
اس دن کریم کو سمجھ آیا کہ بعض اوقات انسان جو چیز اللہ کے لیے چھوڑ دیتا ہے، اللہ اسے اس سے بہتر عطا کر دیتا ہے۔
سبق
امانت داری وقتی فائدہ شاید کم دے، مگر زندگی بھر کی عزت ضرور دیتی ہے۔
کبھی کبھی ایک صحیح فیصلہ پوری زندگی بدل دیتا ہے۔
اگر آپ کریم کی جگہ ہوتے تو کیا کرتے؟
