امیر تاجر اور دانا بزرگ…… ایک سبق آموز کہانی

امیر تاجر اور دانا بزرگ…… ایک سبق آموز کہانی



ایک شہر میں ایک نہایت امیر اور سخی تاجر رہتا تھا۔ وہ دوسروں کی مدد کرنے میں کبھی پیچھے نہیں ہٹتا تھا، مگر اس کی ایک بڑی کمزوری تھی… سستی!

وہ زیادہ تر وقت بستر پر گزارتا۔ نہ چلنا پسند کرتا، نہ جسمانی محنت۔ آہستہ آہستہ اس کا وزن بڑھتا گیا اور صحت اتنی خراب ہوگئی کہ ایک دن وہ اپنے بستر سے خود اٹھنے کے قابل بھی نہ رہا۔

گھر والوں نے بہت علاج کروائے، مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔

ایک دن انہیں ایک بزرگ کا پتا چلا جو لوگوں کی رہنمائی کے لیے مشہور تھے۔ وہ تاجر کو لے کر بزرگ کے پاس پہنچے۔

بزرگ نے کہا:

“میں اس کا علاج ضرور کروں گا، لیکن ایک شرط ہے… اسے خود چل کر میرے پاس آنا ہوگا۔”

اگلے دن تاجر بڑی مشکل سے چلتا ہوا بزرگ کے گھر پہنچا، مگر بزرگ وہاں موجود نہ تھے۔

اگلے دن پھر سے بزرگ کے پاس پیدل گیا لیکن وہ پھر وہاں موجود نہیں تھے ۔

پھر اگلے دن بھی…

تاجر کو روزانہ پیدل چلنا پڑتا، اور یہی مشقت آہستہ آہستہ اس کے لیے دوا بن گئی۔

کچھ ہی دنوں میں اس کی سانس بہتر ہونے لگی، جسم ہلکا محسوس ہونے لگا اور قدموں میں طاقت واپس آنے لگی۔

کئی دن بعد جب وہ بزرگ کے پاس پہنچا تو بزرگ مسکرا کر بولے:

“اب تمہیں کسی دوا کی ضرورت نہیں۔ تمہاری دوا تمہارے اپنے قدموں میں تھی۔”

تاجر کو اپنی غلطی سمجھ آ گئی۔

اس نے جان لیا کہ دولت انسان کو آسائش تو دے سکتی ہے، مگر صحت صرف حرکت، محنت اور اعتدال سے ملتی ہے۔

🌿 سبق:
سستی جسم کو کمزور کرتی ہے، جبکہ مسلسل حرکت انسان کو صحت، طاقت اور زندگی کی خوشی دیتی ہے۔

صحت واقعی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے، اسے بیماری آنے سے پہلے سنبھال لینا چاہیے۔

Leave a Reply

NZ's Corner