دنیا کی تاریخ میں اگر کوئی شخص صرف قبائلی سردار سے نکل کر دنیا کی سب سے بڑی زمینی سلطنت بنا گیا تو وہ چنگیز خان تھا اس کی سلطنت بحر الکاہل سے لے کر یورپ کے دروازے تک تھی تقریباً ڈھائی کروڑ مربع کلومیٹر اور بھی بہت لوگ نکلے ہیں سلطنت عثمانیہ ارطغرل اور عثمان اور سلطان اورحان نے بھی چھوٹے قبیلے سے بڑی ریاست بنائی تھی لیکن چنگیز خان جتنی جلدی اور قانونی بنائی تھی حضرت عمر فاروق رض کی علاوہ بہت کم لوگوں نے بنائی ہے لوگ اکثر چنگیز خان کو صرف تلوار اور طاقت تک محدود کرتے ہیں میں نے منگولوں پر بہت تحقیق کی ہے اصل میں
اس کا راز صرف تلوار نہیں تھا اس کا راز نظم و ضبط چست و چالاکی تیزی و جاسوسی تھا چنگیز خان نے دیکھا کہ منگول قبائل آپس میں لڑ کر مر رہے ہیں ہر قبیلہ الگ ہر سردار الگ قانون اس نے سب سے پہلے ان کو ایک قانون کے نیچے لایا جس کا نام تھا یاسا ..یاسا کوئی عام قانون نہیں تھا یہ فوج سیاست عدالت تجارت شادی چوری جھوٹ سب کے لیے ایک ہی ضابطہ تھا
یاسا کے کچھ اصول بہت سخت تھے
چوری پر موت کی سزا جھوٹ بولنے پر سخت سزا فوج سے بھاگنے والے کو موت
دشمن کو دھوکہ دینے سے منع نہیں بلکہ جنگی چال سمجھا جاتا تھا
تمام مذاہب کو آزادی لیکن ریاست کے خلاف بولنے پر فوراً موت جاسوسی کا پورا نظام – ہر دس آدمی پر ایک نگران جاسوسی کا نظام بہت دلچسپ تھا اس پر الگ بات ہوگی چنگیز خان نے کہا تھا میں چاہتا ہوں کہ ایک کنواری لڑکی سر پر سونے کا تھال رکھ کر میری سلطنت کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک چلی جائے اور کوئی اس کو ہاتھ نہ لگائے ایسا مضبوط قانون ہو اور یہ نظم یاسا سے آیا
چنگیز کے بعد اس کے بیٹوں اوغتائی جوجی چغتائی نے اسی یاسا کو جاری رکھا لیکن تاریخ میں ایک عجیب بات ہوئی کسی بھی غیر منگول بادشاہ نے یاسا کو اپنانے کی ہمت نہیں کی کیونکہ یاسا اپنانے کا مطلب تھا خود کو چنگیز کا غلام ماننا سوائے ایک شخص کے اور وہ تھا امیر تیمور
امیر تیمور تیرہ سو چھتیس میں سمرقند کے قریب ایک چھوٹے سے قصبے کش میں پیدا ہوا وہ نسلاً برلاس قبیلے سے تھا برلاس ترک قبیلہ تھا لیکن وہ چغتائی خان کی فوج کا حصہ رہا تھا اس لیے اس کی رگوں میں ترکی خون تھا اور تربیت میں منگولی جنگی سوچ تھا
تیمور بچپن سے خود کو چنگیز خان کا وارث کہتا تھا حالانکہ وہ چنگیز کی نسل سے نہیں تھا اس میں اختلاف ہے تو اس لیے اس نے دو کام کیے پہلا اس نے چنگیز کی نسل کی ایک شہزادی سے شادی کی تاکہ وہ گورکان یعنی چنگیز کا داماد کہلائے اسی لیے اس کو امیر تیمور گورکان بھی کہتے ہیں دوسرا اس نے کھلے عام کہا کہ میں یاسا کو زندہ کروں گا
مورخین کہتے ہیں کہ تیمور کو فخر تھا کہ لوگ اسے منگول کہیں لیکن وہ مکمل منگول نہیں تھا وہ زبان ترک بولتا تھا مذہب اسلام تھا لیکن فوجی نظام منگول تھا وہ ایک تضاد تھا خود اس نے اپنے یاداشت میں لکھا ہے کہ میں منگولی ہو لیکن مورخین لکھتے ہیں وہ برلاس ترک قبیلے تعلق رکھتا تھا واللہ اعلم
دنیا میں بہت کم فاتح ایسے گزرے ہیں جنہوں نے خود اپنی آپ بیتی لکھی ہو سکندر اعظم نے نہیں لکھی چنگیز خان نے نہیں لکھی لیکن تیمور نے لکھی اس کتاب کا اصل نام تزک تیموری یا توزک تیموری ہے اردو میں اس کو تزک بابری کی طرح سمجھو توزک کا مطلب ہے ضابطے یادداشتیں حالات زندگی
یہ کتاب آج بھی موجود ہے فارسی ترجمے میں اور اردو میں بھی ملتی ہے اس کتاب کو پڑھو تو ایسا لگتا ہے جیسے تیمور خود تمہارے سامنے بیٹھ کر بات کر رہا ہے وہ اپنی کمزوریاں بھی بتاتا ہے اور اپنی طاقت بھی یہ کتاب پشاور روالپنڈی کمیٹی چوک لاہور ہر جگہ ملتا ہے میرے پاس پی ڈی ایف میں موجود ہے میں اپنے گروپ میں بیجھتا ہو وہاں سے ڈاؤنلوڈ کرو
اس کتاب میں وہ دو تین واقعات لکھتا ہے جو اس کی نفسیات بتاتے ہیں
وہ لکھتا ہے کہ میں سولہ سال کا تھا مدرسے میں ایک ہم جماعت نے مجھے غریب سمجھ کر میری توہین کی مجھے سب کے سامنے حقیر کہا میں اس رات سو نہ سکا دوسرے دن میں نے اس کو ویرانے میں لے جا کر تیر مارا وہ مر گیا یہ میرا پہلا قتل تھا وہ لکھتا ہے مجھے اس کے بعد نہ ڈر لگا نہ ندامت ہوئی بلکہ ایک عجیب سا سکون اور طاقت کا احساس ہوا میں سمجھ گیا کہ دنیا میں عزت مانگنے سے نہیں چھیننے سے ملتی ہے یہ واقعہ یہاں میں نے مختصر لکھا لیکن اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے اندر بچپن سے ہی انتقام کا جذبہ تھا
دوسرا واقعہ وہ لکھتا ہے کہ انیس سال کی عمر میں میں سمرقند گیا وہاں ایک سپہ سالار نے میری ذہانت دیکھی اور مجھے اپنی فوج میں لے لیا اکیس سال کی عمر میں میں امیر بن گیا یعنی صرف اکیس سال کی عمر میں میرے ہاتھ میں تلوار بھی تھی اور تخت بھی یہ وہ عمر ہے جب آج کا نوجوان کالج میں ہوتا ہے
اج کا نوجوان پانچ کلو وزن بھی نہیں اٹھا سکتا ٹک ٹاک کی پیچھے لگا ہوا ہے
توزک تیموری میں وہ اپنی جنگی چالیں بھی لکھتا ہے وہ کہتا ہے میں نے کبھی دشمن پر سیدھا حملہ نہیں کیا پہلے جاسوس بھیجے پھر دشمن کے اندر پھوٹ ڈالی پھر رات کو حملہ کیا وہ کہتا ہے جنگ تلوار سے نہیں دماغ سے جیتی جاتی ہے جو بندہ توزک تیموری پڑھتا ہے وہ دو چیزوں میں پھنس جاتا ہے
ایک طرف وہ دیکھتا ہے کہ تیمور بہت ذہین ہے وہ ریاست کیسے چلاتا ہے شہر کیسے بساتا ہے فنکاروں کو کیسے بلاتا ہے اس نے سمرقند کو دنیا کا سب سے خوبصورت شہر بنایا آج بھی سمرقند میں گور امیر بی بی خانم مسجد شاہ زندہ سب تیمور کی بنائی ہوئی ہیں وہ علماء کی بہت عزت کرتا تھا تاریخ میں لکھا ہے کہ اس نے کبھی کسی عالم دین کو قتل نہیں کیا نماز کا پابند تھا ہر جنگ سے پہلے علماء سے دعا لیتا تھا دوسری طرف اس کی سفاکی ہے وہ خود لکھتا ہے کہ میں نے کئی بار انسانوں کے سروں کے مینار بنوائے اس کا مقصد دہشت پھیلانا تھا وہ کہتا تھا اگر ایک شہر میں مینار بنا دوں تو دس شہر بغیر لڑے ہتھیار ڈال دیں گے اس سے میری فوج کے سپاہی بچ جائیں گے یہ منگول سوچ تھی چنگیز بھی یہی کرتا تھا وہ جنگ کے بعد لاشوں کو دیکھ کر جو کیفیت بیان کرتا ہے وہ ایک عجیب نفسیات ہے وہ کہتا ہے مجھے ایک سرور آتا تھا یہ اس دور کے ہر بڑے فاتح کی نفسیات تھی وہ خون کو فتح کی نشانی سمجھتے تھے یہ سب اس نے خود اپنے ہاتھوں سے لکھی ہے اسی لیئے ایک فوجی جوان کو تزک بابری پڑھنا چاہیے تاکہ اس میں جنگی خونی بہادری پیدا ہو جائیں
بغداد دمشق دہلی اصفہان اناطولیہ سب اس کے گھوڑوں کے نیچے آئے جہاں کے لوگوں نے اطاعت کر لی وہاں اس نے امن دیا بازار آباد کیے جہاں انکار کیا وہاں تباہی آئی چنگیز خان کے بعد اگر کسی نے مسلمان شہروں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا تو وہ تیمور تھا توزک تیموری میں ایک باب پٹھانوں کے بارے میں ہے تیمور لکھتا ہے کہ میں نے دنیا میں پٹھانوں سے زیادہ سخت جان قوم نہیں دیکھی واقعہ یہ ہے کہ جب تیمور افغانستان کے پہاڑی علاقوں سے گزر رہا تھا تو وہاں کے پٹھان قبائل نے اس کی فوج کو روک لیا منگول گھوڑے پہاڑوں پر نہیں چل سکتے تھے لیکن پٹھان پیدل لڑنے میں ماہر تھے کئی دن تک جنگ ہوتی رہی تیمور کی فوج کو بہت نقصان ہوا آخر میں تیمور نے ایک چال چلی اس نے کہا ان کو قتل مت کرو ان کو اپنی فوج میں شامل کر لو مجھے ایسے بہادر لوگ چاہیے چنانچہ بہت سے پٹھان قبائل اس کی فوج میں شامل ہو گئے یہی پٹھان بعد میں اس کے ہندوستان پر حملے میں اس کے ساتھ تھے دہلی پر حملے میں پٹھان دستوں نے اہم کردار ادا کیا تیمور خود مانتا ہے کہ اگر پٹھانوں کو دشمن بنا کر چھوڑ دیتا تو وہ سمرقند تک اس کا پیچھا کرتے تیمور کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی انقرہ کی جنگ تھی چودہ سو دو میں اناطولیہ کے میدان میں
اس وقت سلطنت عثمانیہ کی سلطان بایزید یلدرم یورپ میں جہاد کر رہا تھا قسطنطنیہ کے قریب پہنچ گیا تھا یورپ کے عیسائی بادشاہ اس سے ڈر رہے تھے اسی وقت تیمور مشرق سے آیا اور کہا کہ اناطولیہ میرا ہے بایزید نے کہا تم مسلمان ہو کر مسلمان سے کیوں لڑتے ہو آؤ مل کر یورپ فتح کرتے ہیں لیکن تیمور نے کہا زمین پر دو تلواریں اور بادشاہت نہیں رہ سکتیں انقرہ میں جنگ ہوئی دونوں طرف مسلمان تھے ہزاروں مسلمان مارے گئے بایزید گرفتار ہو گیا اور قید میں ہی مر گیا اس جنگ سے سلطنت عثمانیہ بیس سال پیچھے چلی گئی یورپ کو سانس مل گئی اگر وہ جنگ نہ ہوتی تو شاید قسطنطنیہ سو سال پہلے فتح ہو جاتا
یہیں سے جنرل عاصم تیمور اور جرنیلوں کے زوال کی شروعات ہوئی طاقت کا نشہ سب سے بڑا نشہ ہے وہ اپنے محل جس کا نام مورخین نے لکھا ہے کہ جی ایچ کیو تھا وہ سمجھ بیٹھا کہ اس کے سوا کوئی نہیں حکومت میرا پارلیمنٹ میرا حکومت میرا لیکن اللہ کا قانون ہے چودہ سو پانچ میں جب وہ چین پر حملہ کرنے جا رہا تھا تو راستے میں بیمار ہو کر مر گیا اس کی عمر انہتر سال تھی مرتے ہی اس کی سلطنت ٹوٹ گئی اس کے بیٹے آپس میں لڑ پڑے دوسری طرف سلطنت عثمارنیہ جس کو اس نے توڑا تھا وہ دوبارہ اٹھی اور اگلے چھ سو سال تک دنیا پر حکومت کی اگر کوئی کہے تیمور صرف ظالم تھا تو یہ ناانصافی ہے کیونکہ اس نے علم کو زندہ کیا سمرقند کو دنیا کا مرکز بنایا یاسا جیسا نظام دے کہ عوام کو مار کر ریاست کو مضبوط کیا اگر کوئی کہے وہ صرف ہیرو تھا تو یہ بھی جھوٹ ہے کیونکہ اس نے مسلمانوں کا خون بہایا شہر اجاڑے اور اپنی طاقت کے نشے میں امت کو کمزور کیا اصل بات یہ ہے کہ تیمور ایک تضاد تھا وہ بیک وقت مسجد بھی بناتا تھا اور مینار بھی وہ عالم کو بٹھاتا بھی تھا اور تلوار بھی چلاتا تھا اللہ کا قانون دیکھو آج دنیا صلاح الدین ایوبی کو عزت سے یاد کرتی ہے سلطان محمد فاتح کو یاد کرتی ہے سلطنت عثمارانیہ کو یاد کرتی ہے لیکن انشاء عاصم تیمور کا نام صرف کتابوں میں ہوگا اور یوٹیوب پر ہوگا لوگ اس کی تلوار سے ڈرتے ہیں لیکن اس سے محبت نہیں کرتے کیونکہ تاریخ میں عزت صرف اس کو ملتی ہے جو انصاف کرے اور قوم کو جوڑے جو خون بہائے وہ وقتی فاتح بنتا ہے دلوں کا فاتح نہیں بنتا
طاقت انسان کو خدا نہیں بناتی بندوق وقتی طور پر جھکا سکتی ہے لیکن دل صرف انصاف سے جیتے جاتے ہیں


