ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک وسیع صحرا کے کنارے ایک شکاری رہتا تھا۔ اس کا پیشہ جنگل سے جانور پکڑنا تھا۔ وہ مختلف جانوروں کو جال میں پھنساتا، اپنے باڑے میں لا کر باندھ دیتا اور پھر انہیں دور دراز شہروں میں مہنگے داموں فروخت کر دیتا۔
اس کے باڑے میں ہرن تھے، جنگلی گھوڑے تھے، نیل گائے تھیں، لومڑیاں تھیں، جنگلی خرگوش تھے اور کئی نایاب پرندے بھی تھے۔ ہر جانور آزادی کی یاد میں تڑپتا رہتا تھا اور ہر رات اپنی قسمت پر آہیں بھرتا تھا۔
ایک دن شکاری جنگل سے ایک بوڑھا اونٹ پکڑ لایا۔
اونٹ کا جسم کمزور تھا، گردن لمبی تھی اور آنکھوں میں عجیب سی سنجیدگی تھی۔ باقی جانوروں نے اسے دیکھا تو کچھ نے ہمدردی کی اور کچھ نے مذاق اڑایا۔
ایک ہرن بولا:
“بیچارے! ابھی ابھی گرفتار ہوا ہے۔”جنگلی گھوڑا ہنسا:
“اگر کبھی بھاگنے کا موقع ملا بھی تو یہ ہمیں کہاں پکڑ پائے گا؟”
اونٹ خاموش رہا۔ وہ صرف آسمان کو دیکھتا اور کچھ سوچتا رہتا۔ چند ہفتوں بعد ایک رات شکاری بہت تھکا ہوا تھا۔ کھانا کھا کر گہری نیند سو گیا۔ آدھی رات کے وقت تیز ہوا چلی۔ ہوا کے زور سے باڑے کا ایک کمزور حصہ ٹوٹ گیا۔
سب سے پہلے ایک ہرن نے راستہ دیکھا۔پھر ایک گھوڑا باہر نکلا۔ پھر باقی جانور بھی۔
چند لمحوں میں پورا باڑا خالی ہو چکا تھا۔ آزادی کی خوشی میں سب جانور پاگلوں کی طرح دوڑنے لگے۔ ہرن ہوا سے باتیں کر رہے تھے۔ گھوڑے گرد اڑا رہے تھے۔ نیل گائیں لمبی لمبی چھلانگیں لگا رہی تھیں۔
خرگوش تو زمین کو چھوئے بغیر دوڑتے محسوس ہوتے تھے۔ سب ایک دوسرے کو دیکھ کر خوش ہو رہے تھے۔
مگر اسی دوران کسی کی نظر اونٹ پر پڑی۔ وہ سب سے پیچھے تھا۔
ایک گھوڑا قہقہہ لگا کر بولا:
“دیکھو! یہ بھی آزادی حاصل کرنے نکلا ہے”۔
ایک ہرن طنزاً بولا: “ہم تو صبح تک جنگل پہنچ جائیں گے، یہ شاید اگلے ہفتے پہنچے گا”۔
سب ہنسنے لگے۔ مگر اونٹ خاموش رہا۔ وہ اپنی رفتار سے چلتا رہا۔ صبح ہوتے ہی شکاری جاگ اٹھا۔ جانوروں کو غائب دیکھ کر اس کے ہوش اڑ گئے۔
وہ فوراً چند لوگوں کے ساتھ اپنے شکاری گھوڑوں پر سوار ہوئے اور جانوروں کا تعاقب شروع کر دیا۔
شروع میں تیز رفتار جانور بہت آگے نکل چکے تھے۔ مگر چند گھنٹے بعد ان کی سانسیں پھولنے لگیں۔ ہرن ایک جگہ رک کر سستانے لگے۔ گھوڑے پانی کی تلاش میں بھٹکنے لگے۔
خرگوش جھاڑیوں کے نیچے چھپ گئے۔ نیل گائیں تھکن سے چور ہو گئیں۔
آزادی کی خوشی میں وہ اتنی تیزی سے بھاگے تھے کہ کچھ ہی وقت میں اپنی تمام طاقت ہی ختم کر بیٹھے تھے۔
شکاری ایک ایک کر کے سب تک پہنچتا گیا۔ کوئی تھکن کی وجہ سے پکڑا گیا۔
کوئی بھوک سے کمزور ہو گیا۔
کوئی راستہ بھول گیا۔ شام تک تقریباً تمام جانور دوبارہ قید ہو چکے تھے۔
مگر اونٹ کہیں بھی نہ ملا۔ نہ وہ سب سے تیز تھا۔ نہ سب سے خوبصورت۔ نہ سب سے طاقتور۔ لیکن اس کے قدم رکے نہیں تھے۔ وہ نہ ابتدا میں جوش میں آیا تھا اور نہ درمیان میں مایوس ہوا تھا۔
وہ مسلسل چلتا رہا۔
ایک قدم، پھر دوسرا قدم، پھر تیسرا قدم اور اسی طرح شام ہونے سے پہلے وہ صحرا عبور کر گیا۔ اگلی صبح اس کے سامنے جنگل تھا۔ وہی جنگل جہاں سے اسے پکڑا گیا تھا۔
وہ خاموشی سے جنگل میں داخل ہو گیا۔ دوسری طرف شکاری ابھی تک اسے تلاش کر رہا تھا۔ مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔
اونٹ وہاں پہنچ چکا تھا جہاں باقی سب جانور ابتدا ہی سے پہنچنا چاہتے تھے۔
وقت گزرتا گیا۔ شکاری شکار کرتا رہا، نئے شکاری آتے رہے، پرانے جانور فروخت ہوتے رہے اور ان کی جگہ نئے جانور قید ہو کر آتے رہے۔ مگر ایک بات اس باڑے میں نسل در نسل زندہ رہی۔ جب کبھی کوئی جانور آزادی کی بات کرتا، بھاگنے کا منصوبہ بناتا یا مایوس ہو کر کہتا کہ “اس قید سے نکلنا ناممکن ہے”، تو بوڑھے جانور آہستہ سے اس اونٹ کا ذکر چھیڑ دیتے۔ وہ کہتے: “ہم نے اپنی آنکھوں سے ایک اونٹ دیکھا تھا جسے سب سے سست، سب سے کمزور اور سب سے ناکارہ سمجھتے تھے۔ جب سب جانور آزادی کی دوڑ میں اسے پیچھے چھوڑ کر اس پر ہنس رہے تھے، تب بھی وہ خاموشی سے چلتا رہا۔ آخرکار سب دوبارہ پکڑے گئے، مگر وہی ایک واحد جنگل تک پہنچ سکا۔” پھر وہ نئے جانوروں سے کہتے: “آزادی تک پہنچنے کے لیے ہمیشہ تیز دوڑنا ضروری نہیں ہوتا، کبھی کبھی بس رکے بغیر چلتے رہنا کافی ہوتا ہے۔” اور یوں وہ بوڑھا اونٹ، جو برسوں پہلے جس کے بھاگنے پر ہنسے تھے، قید جانوروں کے لیے امید، صبر اور استقامت کی ایک زندہ مثال بن گیا۔
اخلاقی سبق:
زندگی میں کامیابی ہمیشہ سب سے تیز دوڑنے والوں کو نہیں ملتی، بلکہ اکثر وہ لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو مسلسل چلتے رہتے ہیں۔ جوش وقتی فائدہ دے سکتا ہے، مگر استقامت انسان کو منزل تک پہنچاتی ہے۔ بہت سے لوگ ابتدا میں ہم سے آگے نکل جاتے ہیں، لیکن جو شخص ثابت قدم رہے، وہی آخرکار اپنی منزل پا لیتا ہے۔
