ایک بکری اور کوے کی کہانی

ایک بکری اور کوے کی کہانی

کسی جنگل میں ایک بکری
بہت بے فکری سے اِدھر اُدھر گھوم رہی تھی۔اُسے دیکھ کر ایک کوے کو بہت حیرت ہوئی، اس نے بکری سے پوچھا، ”تم اتنی بے خوف ہو کر کیسے جنگل میں گھوم رہی ہو کیا تمہیں شیر کا خوف نہیں؟“
بکری نے کہا، ”بھائی کوے، میری بے فکری کا سبب یہ ہے کہ کچھ عرصے پہلے ایک شیرنی اپنے دو بچے چھوڑ کر مر گئی تھی، میں نے ان پر ترس کھا کر دودھ پلا کر پروان چڑھایا اور اب وہ جوان ہیں اور انہوں نے جنگل میں اعلان کر رکھا ہے کہ ہماری بکری ماں کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہ دیکھے اسی لئے اب کسی جانور میں ہمت نہیں کہ مجھے نقصان پہنچائے۔
“
کوے نے سوچا کاش مجھے بھی ایسی نیکی کرنے کا موقع ملے اور پرندوں کی دنیا میں مجھے بھی ایسا احترام حاصل ہو جائے۔


اب اس کے شب و روز ایسی ہی نیکی انجام دینے کی تلاش میں گزرتے۔ایک روز وہ یہی سوچتا ہوا اڑا جا رہا تھا کہ اس نے نیچے دریا میں ایک چوہے کو ڈبکیاں کھاتے دیکھا اس نے اسے نیکی کا سنہری موقع جانا، وہ فوراً نیچے اترا اور چوہے کو دریا سے نکال کر ایک پتھر پر لِٹایا اور اپنے پروں سے ہوا دینے لگا تاکہ وہ ہوش میں آ جائے جوں ہی چوہے کے حواس بحال ہوئے۔


اس نے کوے کے پر کترنے شروع کر دیئے۔کوا نیکی کی دھن میں مگن تھا اور چوہا اپنی کار گزاری میں مصروف۔جب وہ بالکل خشک ہو چکا تو اس نے اپنے بل کی طرف دوڑ لگا دی۔کوا نیکی کر کے بڑی موج میں تھا، اس نے جیسی ہی اڑان بھرنے کی کوشش کی، منہ کے بل زمین پر آ گرا اور اڑنے سے معذور ہو کر زمین پر ہی اچھلنے لگا اور گھسٹ گھسٹ کر چلنے لگا۔اتفاقاً بکری ادھر سے گزری تو اس نے پو چھا، ”بھائی کوے تم پر کیا آفت آن پڑی۔
“
کوا غصے سے بولا، ”یہ سب تمہارا کیا دھرا ہے، تمہاری باتوں سے متاثر ہو کر میں نے نیکی کرنے کی چاہ میں چوہے کی جان بچائی، مگر وہ تو میرے ہی پَر کتر کر بھاگ نکلا بکری نے ہنس کر کہا، بے وقوف اگر نیکی کرنی تھی تو کسی شیر کے بچے کے ساتھ کرتا چوہا تو اپنا چوہا پن دکھائے گا۔بد ذات اور بد نسل کے ساتھ نیکی کرنے والے کا وہی حال ہوتا ہے جو تمہارا ہوا ہے۔کوے کے بچے موتی چگنے سے ہنس نہیں بن جاتے اور کھارے پانی کے کنویں میں منوں میٹھا ڈالنے کے بعد بھی اُس کا پانی کھارا ہی رہتا ہے

Leave a Reply

NZ's Corner