ایک دانا قاضی کا فیصلہ…انصاف جو سب کو یاد رہ گیا

ایک دانا قاضی کا فیصلہ…انصاف جو سب کو یاد رہ گیا

ایک شخص قاضی کے پاس شکایت لے کر آیا۔

اس نے کہا:

“جناب! میں روٹی لے کر گھر جا رہا تھا۔ راستے میں اس شخص کی دکان کے پاس سے گزرا۔ یہ دہکتے کوئلوں پر کباب بھون رہا تھا۔ کبابوں کی خوشبو اتنی دلکش تھی کہ میں وہیں رک گیا اور اپنی روٹی کھانے لگا۔ میں نے صرف خوشبو سے لطف اٹھایا، کباب کا ایک ٹکڑا بھی نہیں کھایا۔

جب میں جانے لگا تو دکان دار نے مجھے روک لیا اور کہا کہ کبابوں کی خوشبو کی قیمت ادا کرو!”

قاضی نے دکان دار سے پوچھا:

“تم کتنی قیمت چاہتے ہو؟”

دکان دار بولا:

“پانچ درہم۔”

قاضی نے روٹی کھانے والے شخص سے کہا:

“پانچ درہم نکالو اور زمین پر ایک ایک کرکے گرا دو۔”

اس نے ایسا ہی کیا۔ عدالت میں موجود سب لوگوں نے سکوں کے گرنے کی آواز سنی۔

پھر قاضی نے دکان دار سے پوچھا:

“کیا تم نے سکوں کی آواز سنی؟”

اس نے جواب دیا:

“جی ہاں، خوب سنی۔”

قاضی مسکرایا اور بولا:

“بس، تمہارا معاوضہ ادا ہو گیا۔ اس شخص نے کبابوں کی صرف خوشبو سے فائدہ اٹھایا تھا، اور تم نے سکوں کی صرف آواز سے اپنی قیمت وصول کر لی۔”

دکان دار خاموش رہ گیا۔

جو چیز حقیقت میں دی ہی نہیں گئی، اس کی قیمت مانگنا انصاف نہیں بلکہ لالچ ہے،

Leave a Reply

NZ's Corner