ایک نیک دل انسان کی استغفار کی حکایت

ایک نیک دل انسان کی استغفار کی حکایت



ایک دفعہ ایک بہت بڑے بزرگ کو عراق کے ایک گاؤں میں رات ہو گئی۔ وہ ایک مسجد میں گیا، لیکن چوکیدار نے اسے وہاں سے نکال دیا۔ وہ مسجد کے باہر فرش پر سو گیا۔ چوکیدار نے اسے پاؤں سے پکڑا اور گھسیٹ کر مسجد سے دور کر دیا۔

ایک خدا ترس آدمی بزرگ کو اپنے گھر لے گیا۔ وہ شخص چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے ہر وقت استغفار کرتا رہتا تھا۔

صبح ہوئی تو بزرگ نے اس سے پوچھا:

’’کیا آپ کو استغفار پڑھنے کا کوئی فائدہ بھی ہوا ہے؟‘‘

اس نے جواب دیا:

’’جی ہاں! میری ہر دعا قبول ہوئی، سوائے اس دعا کے کہ میری ملاقات فلاح بزرگ سے ہو جائے۔‘‘

بزرگ نے مسکرا کر کہا:

’’میں ہی وہ بزرگ ہوں، اور دیکھو، اللہ تعالیٰ نے کس طرح مجھے گھسیٹ کر تمہارے پاس پہنچا دیا۔‘‘

سبق: استغفار کو اپنی زندگی کا معمول بنائیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگنا ایک عظیم عبادت ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner