پہاڑوں کے دامن میں بسی ایک خاموش خانقاہ سے دو ذین بھکشو سفر پر نکلے۔ صبح کی نرم دھوپ زمین پر سنہری چادر بچھا رہی تھی اور ہوا درختوں کی شاخوں میں کسی مدھر راگ کی طرح گنگنا رہی تھی۔
ایک بزرگ بھکشو تھے، جن کے چہرے پر سکون کا نور جھلکتا تھا، اور ایک نوجوان بھکشو، جو عبادت و ریاضت میں تو کوشاں تھا مگر ابھی دل کی گہرائیوں سے ناواقف تھا۔
چلتے چلتے وہ ایک تیز بہاؤ والی ندی کے کنارے پہنچے۔
وہاں ایک نوجوان عورت کھڑی تھی۔ اس کے چہرے پر پریشانی کے سائے تھے۔ ندی کا پانی اتنا تیز تھا کہ وہ تنہا اسے پار کرنے کی ہمت نہ کر سکتی تھی۔
اس نے جھجکتے ہوئے کہا:
“مہربانی فرما کر میری مدد کیجیے، میں اس پار جانا چاہتی ہوں مگر پانی سے ڈرتی ہوں۔”
بزرگ بھکشو نے ایک لمحہ بھی ضائع نہ کیا۔ انہوں نے شفقت سے سر ہلایا، عورت کو اپنے کندھوں پر بٹھایا اور محتاط قدموں سے ندی پار کرا دی۔
دوسرے کنارے پہنچ کر انہوں نے عورت کو آرام سے اتارا۔ عورت نے شکریہ ادا کیا اور اپنی راہ چل دی۔
مگر نوجوان بھکشو کے دل میں ایک طوفان اٹھ چکا تھا۔
وہ خاموش رہا، مگر اس کی خاموشی میں ناراضی کی چنگاریاں سلگ رہی تھیں۔ اس کے ذہن میں بار بار یہی خیال گردش کرتا رہا:
“ہمیں عورت کو چھونے سے منع کیا گیا ہے۔ پھر استاد نے ایسا کیوں کیا؟”
گھنٹے گزرتے گئے۔
سورج ڈھلنے لگا، راستے لمبے ہوتے گئے، مگر نوجوان بھکشو کے دل کا بوجھ ہلکا نہ ہوا۔
آخرکار اس نے خود کو روک نہ پایا اور قدرے تلخی سے بولا:
“استاد! آپ نے آج ایک عورت کو اپنے ہاتھوں سے اٹھایا۔ کیا یہ ہمارے اصولوں کے خلاف نہیں؟ کیا یہ گناہ نہیں؟”
بزرگ بھکشو نے قدم روکے، مسکرائے اور آہستہ سے بولے:
“بیٹے! میں نے تو اس عورت کو کئی گھنٹے پہلے ندی کے کنارے چھوڑ دیا تھا…”
پھر انہوں نے نوجوان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا:
“…مگر تم ابھی تک اسے اپنے دل اور دماغ میں اٹھائے پھر رہے ہو۔”
یہ الفاظ بجلی بن کر نوجوان بھکشو کے دل پر گرے۔
اچانک اسے احساس ہوا کہ جس عورت کو استاد نے چند لمحوں کے لیے اپنے کندھوں پر اٹھایا تھا، اسے وہ خود کئی گھنٹوں سے اپنے ذہن میں ڈھو رہا تھا۔
اس کا سر شرمندگی سے جھک گیا۔
اس دن اسے معلوم ہوا کہ اصل بوجھ جسم پر نہیں، دل پر ہوتا ہے؛ اور اصل قید زنجیروں کی نہیں، خیالات کی ہوتی ہے۔
بزرگ بھکشو نے نرم لہجے میں کہا:
“زندگی میں کچھ کام رحم، محبت اور ضرورت کے تحت کیے جاتے ہیں۔ اگر نیت صاف ہو تو انہیں انجام دے کر چھوڑ دینا چاہیے۔ جو گزر گیا، اسے دل میں قید مت کرو، ورنہ وہ تمہاری روح پر بوجھ بن جائے گا۔”
شام کی سرخی آسمان پر پھیل رہی تھی، مگر نوجوان بھکشو کے اندر ایک نئی صبح طلوع ہو چکی تھی۔
سبق
بعض لوگ واقعات کو لمحوں کے لیے جیتے ہیں، اور بعض انہیں برسوں اپنے دل میں اٹھائے پھرتے ہیں۔
نفرت، غصہ، ملال اور پرانی باتوں کا بوجھ دراصل دوسروں کو نہیں، ہمیں تھکاتا ہے۔
جو کام کرو، اخلاص سے کرو؛ اور جو گزر جائے، اسے جانے دو۔
کیونکہ جسے ہاتھ چھوڑ دیتے ہیں، اسے دل میں اٹھائے رکھنا سب سے بھاری بوجھ ہے۔
“ماضی کو کندھوں پر نہیں، راستے کے کنارے چھوڑ دو؛ ورنہ سفر مختصر اور بوجھ عمر بھر کا ہو جاتا ہے۔”
