ایک ملک کا بادشاہ سخت بیمار ہو گیا۔ نہ بخار اترتا تھا، نہ نیند آتی تھی، نہ کھانے میں دل لگتا تھا۔ ملک کے نامور طبیب، حکیم اور معالج اس کا علاج کرنے آئے، مگر کوئی بھی اسے شفا نہ دے سکا۔
آخرکار ایک بزرگ حکیم دربار میں حاضر ہوا۔ اس نے بادشاہ کا بغور معائنہ کیا، اس کی آنکھوں میں جھانکا اور پھر کہا:
“بادشاہ سلامت! آپ کی بیماری کی دوا کسی دواخانے میں نہیں ملے گی۔ آپ کو ایک ایسے شخص کی قمیض پہننی ہوگی جو دل سے مطمئن ہو، اپنے رب سے راضی ہو، لوگوں سے راضی ہو اور اپنی قسمت پر خوش ہو۔”
بادشاہ نے فوراً حکم دیا کہ پورے ملک میں ایسے شخص کی تلاش کی جائے۔
وزیر اور سپاہی نکل کھڑے ہوئے۔
وہ امیروں کے دروازوں پر گئے، علماء کے پاس گئے، تاجروں، درویشوں اور معزز لوگوں سے ملے۔ ہر شخص بظاہر خوش دکھائی دیتا تھا، لیکن جب اس کے دل کی کیفیت جاننے کی کوشش کی گئی تو معلوم ہوا کہ کوئی دولت کی فکر میں مبتلا ہے، کوئی عزت کے پیچھے پریشان ہے، کوئی اولاد کی وجہ سے بے چین ہے اور کوئی آنے والے کل کے خوف میں گرفتار ہے۔
ہر چہرے پر مسکراہٹ تھی، مگر دل بے سکون تھے۔
کئی دن گزر گئے، مگر ایسا کوئی شخص نہ ملا جس کے دل میں حقیقی اطمینان ہو۔
ایک دن واپسی پر وزیروں نے شہر سے دور ایک جھونپڑی کے باہر ایک فقیر کو دیکھا۔
وہ ایک بوسیدہ چٹائی پر بیٹھا تھا، اس کے کپڑے سادہ تھے، پاؤں ننگے تھے، لیکن اس کے چہرے پر عجیب سی روشنی اور آنکھوں میں بے مثال سکون تھا۔
وزیر نے پوچھا:
“کیا تم خوش ہو؟”
فقیر مسکرایا اور بولا:
“الحمدللہ! میں تو خود کو دنیا کے سب سے خوش نصیب لوگوں میں شمار کرتا ہوں۔ مجھے کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہوتی۔”
وزیر کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔
اس نے فوراً کہا:
“ہمیں تمہاری قمیض چاہیے۔ بادشاہ کی صحت کا دارومدار اسی پر ہے۔”
فقیر زور سے ہنس پڑا اور بولا:
“میری قمیض؟ پہلے یہ تو دیکھ لو کہ میرے پاس قمیض ہے بھی یا نہیں!”
یہ کہہ کر اس نے اپنا کرتا ہٹایا۔
وزیر حیران رہ گیا…
اس کے جسم پر کوئی قمیض تھی ہی نہیں۔
وزیر واپس محل پہنچا اور سارا واقعہ بادشاہ کو سنا دیا۔
بادشاہ دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔
پھر اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
اس نے آہستہ سے کہا:
“اب میں سمجھ گیا ہوں کہ سکون کسی قمیض میں نہیں ہوتا، سکون دل میں ہوتا ہے۔ جس کے دل میں قناعت ہو، شکر ہو اور اللہ پر بھروسہ ہو، وہی حقیقی دولت مند ہے۔”
اس دن کے بعد بادشاہ کی سوچ بدل گئی۔
اس نے اپنی دولت کا بڑا حصہ ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیا، سادگی اختیار کی اور زندگی کو ایک نئے انداز سے جینا شروع کر دیا۔
لوگوں نے حیران ہو کر پوچھا:
“بادشاہ سلامت! آپ نے یہ سب کیوں کر دیا؟”
وہ مسکرایا اور بولا:
“کیونکہ میں نے وہ خزانہ پا لیا ہے جس کی تلاش میں ساری عمر بھٹکتا رہا… دل کا سکون۔”
🌿 سبقِ زندگی:
🔹 حقیقی خوشی دولت، محلات اور قیمتی لباس میں نہیں بلکہ دل کے اطمینان میں ہے۔
🔹 قناعت اور شکر وہ دولت ہیں جو ہر امیری سے بڑھ کر ہیں۔
🔹 جس انسان کے دل سے لالچ، خوف اور بے جا خواہشات نکل جائیں، وہی اصل میں سکون پا لیتا ہے۔
🔹 دنیا کی چیزیں وقتی خوشی دے سکتی ہیں، مگر دائمی سکون صرف مطمئن دل کو نصیب ہوتا ہے۔
💭 یاد رکھیے!
سکون خریدنے کے لیے کسی خاص قمیض کی ضرورت نہیں، بلکہ ایک مطمئن دل کی ضرورت ہوتی ہے۔
