بادشاہ اور مچھیرا

بادشاہ اور مچھیرا

ایک قدیم ساحلی شہر میں ایک غریب مگر محنتی مچھیرا اپنی بیوی کے ساتھ ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں رہتا تھا۔ اس کی کل پونجی ایک پرانی کشتی، ایک جال اور محنت کرنے والے دو ہاتھ تھے۔

ایک دن جال کھینچا تو اس میں ایک نہایت نایاب اور خوبصورت مچھلی پھنس گئی۔ مچھیرے نے سوچا:

“آج یہ مچھلی اپنی بیوی کے لیے لے جاؤں گا، وہ بہت خوش ہوگی۔”

مگر بیوی نے مچھلی دیکھ کر کہا:

“یہ عام مچھلی نہیں۔ اسے بادشاہ کو تحفے میں دے آؤ، شاید وہ بڑا انعام دے دیں۔”

مچھیرا مچھلی لے کر محل پہنچ گیا۔

بادشاہ نے مچھلی دیکھی تو بہت خوش ہوا اور پوچھا:

“یہ تمہیں کہاں سے ملی؟”

مچھیرا بولا:

“حضور! اللہ نے میرے جال میں ڈال دی۔”

بادشاہ اس کی سچائی سے متاثر ہوا اور بولا:

“مانگو، جو چاہو مانگو۔”

مچھیرا کچھ دیر سوچتا رہا، پھر بولا:

“حضور! ایک مضبوط کشتی عطا فرما دیجیے۔”

بادشاہ نے فوراً حکم دیا کہ اسے بہترین کشتی دی جائے۔

مگر مچھیرا مطمئن نہیں تھا اس کے دل میں خیال آیا:

“کاش! کشتی کے ساتھ کچھ اچھے جال بھی مانگ لیتا… یا سونے کے سکے… یا شاید ایک بڑا گھر!”

بادشاہ نے اس کے چہرے پر چھپی بے اطمینانی دیکھ لی۔

وہ مسکرایا اور بولا:

“لگتا ہے تم ابھی اپنے فیصلے سے مطمئن نہیں۔ جاؤ، اچھی طرح سوچ لو۔ کل پھر آنا۔”

اگلے دن مچھیرا واپس آیا۔

بادشاہ نے پوچھا:

“اب کیا چاہتے ہو؟”

مچھیرا بولا:

“دریا کے کنارے ایک بڑی جاگیر۔”

بادشاہ نے وہ بھی دے دی۔

لیکن مچھیرا پھر سوچنے لگا:

“جاگیر تو اچھی ہے، مگر اگر پوری بندرگاہ مانگ لیتا تو؟”

بادشاہ نے اگلے دن کی مہلت دے کر  اس کی خواہش پوری کر دی۔

لیکن پھر مچھیرا سوچنے لگا:

“بندرگاہ کیوں؟ پورا شہر مانگنا چاہیے!”

بادشاہ نے شہر بھی دے دیا۔

مگر مچھیرے کا دل پھر بھی مطمئن نہ ہوا۔

خواہشیں بڑھتی گئیں۔

کشتی سے جاگیر، جاگیر سے بندرگاہ، بندرگاہ سے شہر… اور شہر سے آگے صوبہ۔

ہر بار بادشاہ صرف مسکراتا اور کہتا:

“جاؤ، پھر سوچ لو اور کل آ جاؤ۔”

سال گزرتے گئے۔

ایک صبح مچھیرا حسبِ معمول محل پہنچا تو وہاں عجیب خاموشی تھی۔ جھنڈے سرنگوں تھے اور سپاہیوں کے چہرے افسردہ۔

اس نے پوچھا:

“کیا ہوا؟”

جواب ملا:

“بادشاہ کا انتقال ہو گیا ہے۔”

مچھیرا ساکت رہ گیا۔

وہ آہستہ آہستہ گھر واپس آیا۔

بیوی نے پوچھا:

“آج کیا مانگا؟”

مچھیرا خاموش رہا، پھر آنکھیں جھکا کر بولا:

“آج پہلی بار سمجھ آیا ہے کہ میں ہر بار کل کے لیے کچھ بڑا مانگتا رہا… مگر وہ کل کبھی آیا ہی نہیں۔”

وہ کچھ دیر خاموش رہا، پھر بولا:

“بادشاہ مجھے ہر بار کچھ نہ کچھ دیتا رہا، مگر میں جو ملتا تھا اسے دیکھنے کے بجائے اس کے بارے میں سوچتا رہا جو ابھی نہیں ملا۔ آخرکار میرے پاس سب کچھ مانگنے کے مواقع تھے، مگر قناعت کا ایک لمحہ بھی نہ تھا۔”

بیوی بھی خاموش ہو گئی۔

مچھیرا سمندر کی طرف دیکھتے ہوئے بولا:

“انسان کی سب سے بڑی محرومی یہ نہیں کہ اسے کم ملا… بلکہ یہ ہے کہ اسے جو ملا، وہ بھی اسے کبھی کافی نہ لگا۔”

Leave a Reply

NZ's Corner