بدقسمتی

بدقسمتی



ایک انٹرویو کے دوران میں اردو میں سوالات کر رہا تھا، جبکہ امیدوار ہر سوال کا جواب انگریزی میں دے رہا تھا۔

میں نے پوچھا: ’’محترم! آپ کی تعلیم کتنی ہے؟‘‘

کہنے لگے: ’’سر! میں نے اردو میں ایم اے کیا ہے۔‘‘

میں نے بتایا: ’’میری تعلیم ایم فل کیمسٹری ہے۔ یہ بتانے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ میں کیمسٹری کا طالب علم ہونے کے باوجود تمام گفتگو اور سوالات اردو میں کر رہا ہوں، جبکہ آپ اردو ادب کے طالب علم ہونے کے باوجود انگریزی میں بات کر رہے ہیں۔‘‘

کہنے لگے: ’’سر! مجھے ایک دوست نے مشورہ دیا تھا کہ انگریزی بولنے سے سامنے والے پر اچھا تاثر پڑتا ہے۔‘‘

قصور ان کا بھی نہیں، کیونکہ ہمارے معاشرے میں انگریزی، جو محض ایک زبان ہے، اب معیار اور قابلیت کی علامت بن چکی ہے۔

انگریزی بولنے والے کو ذہین، تعلیم یافتہ اور پُرکشش سمجھا جانے لگا ہے، جبکہ اپنی زبان میں بات کرنے والے کو اکثر کم تر نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

حالانکہ زبان محض اظہار کا ذریعہ ہوتی ہے، ذہانت، قابلیت اور علم کا پیمانہ نہیں۔

میری نظر میں اس سے بڑی فکری بدقسمتی کیا ہوگی کہ ہم نے ایک غیر ملکی زبان کو اپنی قابلیت کا معیار بنا لیا اور اپنی زبان پر فخر کرنا بھول گئے!


Leave a Reply

NZ's Corner