ایک رات تین چوروں نے ایک امیر آدمی کے گھر میں نقب لگا کر بہت سا مال و دولت چرا لیا۔ وہ سارا مال ایک تھیلے میں ڈال کر قریبی جنگل کی طرف نکل گئے تاکہ وہاں چھپ کر آپس میں تقسیم کر لیں۔
جنگل میں پہنچ کر وہ بہت تھک چکے تھے اور انہیں سخت بھوک بھی لگ رہی تھی۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ ایک چور قریبی گاؤں سے کھانا لے آئے، جبکہ باقی دو چور تھیلے کی حفاظت کریں۔
جو چور کھانا لینے گیا، اس کے دل میں لالچ اور بد نیتی پیدا ہو گئی۔ اس نے سوچا:
“اگر میں ان دونوں کو ختم کر دوں تو سارا مال میرا ہو جائے گا۔”
اس نے کھانا خریدا اور اس میں زہریلی چیز ملا دی تاکہ دونوں ساتھی کھا کر مر جائیں۔
دوسری طرف جنگل میں موجود دونوں چور بھی کم برے نہ تھے۔ انہوں نے بھی یہ منصوبہ بنایا کہ جب تیسرا ساتھی کھانا لے کر واپس آئے گا تو وہ اسے قتل کر دیں گے، تاکہ سارا مال وہ دونوں آپس میں بانٹ لیں۔
جب وہ چور کھانا لے کر واپس آیا تو دونوں نے اس پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ خوش ہو کر اس کے لائے ہوئے کھانے پر ٹوٹ پڑے، لیکن انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ اس میں زہر ملا ہوا ہے۔
کچھ ہی دیر میں دونوں نے بھی تڑپ کر جان دے دی۔
یوں تینوں چور اپنی ہی لالچ، دھوکے اور ظلم کی وجہ سے ایک دردناک انجام کو پہنچے۔
سبق:
جو شخص دوسروں کے لیے برائی سوچتا ہے، آخرکار وہی برائی اسے بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ بدی کا بدلہ ہمیشہ بدی ہی ہوتا ہے۔


