بلاعنوان۔۔۔۔!

بلاعنوان۔۔۔۔!

ایک زمانے کی بات ہے، ایک غریب کسان اور اس کی محنتی بیوی ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتے تھے۔ روز وہ عورت مکھن بلوتتی، پھر اسے گول گول پیڑوں میں ڈھالتی تھی۔ ہر پیڑے کا وزن بالکل ایک کلوگرام رکھا جاتا۔
کسان وہ مکھن شہر کے وہاں ایک دکاندار کو بیچ دیتا اور اس کے عوض گھر کی ضرورت کی چیزیں خرید لیتا۔

ایک دن دکاندار کو شک ہوا۔ 
اس نے خود مکھن کے پیڑ تولنے کا فیصلہ کیا۔

حیرت اور غصے سے اس نے دیکھا کہ ہر “ایک کلوگرام” پیڑے کا وزن صرف نو سو گرام کے لگ بھگ تھا — تقریباً ایک چوتھائی پاؤنڈ کم۔ وہ طیش میں آگیا اور دوسرے دن جب کسان مکھن لے کر آیا تو دکاندار نے اسے روک لیا۔

وہ بولا: 
“میں اب تجھ سے سودا نہیں کروں گا! تم مجھ سے دھوکا کر رہے ہو — مکھن کو پورا وزن کہہ کر بیچتے ہو جبکہ یہ ہلکا نکلتا ہے!”

غریب کسان نے نظریں جھکا لیں اور دھیرے سے بولا: 

“جناب، معاف کیجیے… ہمارے گھر میں ترازو نہیں۔ ہم تو مکھن کا وزن اسی چینی سے کرتے ہیں جو آپ سے خریدی تھی — جتنا وزن آپ نے دیا، میں نے اتنا ہی لوٹایا ہے۔

یاد رکھیں: 
**جس پیمانے سے آپ دوسروں کو تولتے ہیں، ایک دن وہی پیمانہ آپ کے لیے بھی استعمال ہوگا۔**

***

2 comments

Leave a Reply

NZ's Corner