ایک گاؤں میں نئی نئی بجلی لگی تو جیسے پورے گاؤں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ہر گھر کے باہر بلب لگ گئے، بچوں نے تالیاں بجائیں، بوڑھوں نے شکرانے کے نفل ادا کیے اور عورتوں نے سوچا اب رات کے کام آسان ہو جائیں گے۔ گاؤں کے لوگ سادہ دل تھے، مگر خوشی سے بھرپور۔
مہینہ گزرا تو بجلی کا پہلا بل آیا۔ بجلی کمپنی کے دفتر میں جب پورے گاؤں کا ریکارڈ نکالا گیا تو سب حیران رہ گئے۔ پورے گاؤں میں ایک یونٹ بھی بجلی استعمال نہیں ہوئی تھی! افسران کو یقین نہ آیا، انہوں نے سمجھا شاید میٹر خراب ہیں یا کوئی تکنیکی خرابی ہے۔
کمپنی نے فوراً ایک نمائندہ گاؤں بھیجنے کا فیصلہ کیا تاکہ حقیقت معلوم کی جا سکے۔
اگلے دن ایک پڑھا لکھا نوجوان نمائندہ گاؤں پہنچا۔ اس نے دیکھا کہ واقعی ہر گھر کے باہر بلب لگے ہوئے ہیں، تاریں کھینچی گئی ہیں اور میٹر بھی لگے ہوئے ہیں۔ اسے تو سب کچھ ٹھیک نظر آیا، مگر مسئلہ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
وہ گاؤں کے چوہدری کے پاس گیا، جو ایک معزز اور سمجھدار آدمی مانا جاتا تھا۔
نمائندے نے ادب سے کہا،
“چوہدری صاحب، ہمیں شکایت ہے کہ آپ کے گاؤں میں بجلی استعمال ہی نہیں ہو رہی، جبکہ سب کچھ لگا ہوا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے؟”
چوہدری مسکرایا اور بولا،
“نہیں جی، ہم تو بجلی استعمال کرتے ہیں، خوب کرتے ہیں!”
نمائندہ حیران ہو گیا،
“اگر استعمال کرتے ہیں تو پھر بل صفر کیوں آیا؟”
چوہدری نے اپنے انداز میں کہا،
“آؤ، میں تمہیں دکھاتا ہوں ہم کیسے استعمال کرتے ہیں۔”
وہ نمائندے کو ساتھ لے کر ایک گھر میں گیا۔ وہاں ایک بلب چھت پر لگا ہوا تھا، مگر بند تھا۔ نمائندے نے پوچھا،
“یہ کیوں بند ہے؟”
گھر والے نے کہا،
“جب ہمیں رات کو روشنی چاہیے ہوتی ہے تو ہم بلب جلا لیتے ہیں، اور جب سو جاتے ہیں تو بند کر دیتے ہیں تاکہ بجلی ضائع نہ ہو!”
نمائندہ کچھ الجھا، مگر بولا،
“ٹھیک ہے، مگر پھر بھی تھوڑی بہت بجلی تو خرچ ہونی چاہیے تھی۔”
چوہدری ہنسا اور بولا،
“اصل بات ابھی باقی ہے۔”
پھر وہ اسے ایک اور گھر لے گیا۔ وہاں ایک عجیب منظر تھا۔ ایک آدمی چارپائی پر بیٹھا تھا اور اس کے پاس ایک لالٹین رکھی تھی۔ نمائندے نے پوچھا،
“یہ لالٹین کیوں جل رہی ہے جب بجلی موجود ہے؟”
آدمی نے بڑے فخر سے جواب دیا،
“دیکھو جی، ہم بجلی کو صرف ضرورت کے وقت استعمال کرتے ہیں۔ جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو بلب جلا لیتے ہیں، باقی وقت لالٹین استعمال کرتے ہیں تاکہ بجلی بچائی جا سکے!”
نمائندہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔
پھر چوہدری اسے گاؤں کے چوک میں لے گیا اور بولا،
“اصل راز یہاں ہے۔”
چوک میں ایک بڑا سا بلب لگا ہوا تھا۔ چوہدری نے بتایا،
“رات کو جب پورا گاؤں جمع ہوتا ہے تو ہم یہ ایک بلب جلا لیتے ہیں، سب لوگ اس کی روشنی میں بیٹھ جاتے ہیں، گپ شپ کرتے ہیں، کام بھی کر لیتے ہیں۔ پھر جب سب اپنے گھروں کو جاتے ہیں تو بلب بند کر دیتے ہیں۔”
نمائندے کی سمجھ میں اب کچھ کچھ آنے لگا تھا، مگر وہ اب بھی حیران تھا کہ ایک یونٹ بھی کیوں نہیں آیا۔
اس نے پوچھا،
“لیکن آپ کے گھروں کے میٹر تو لگے ہوئے ہیں، وہ کچھ تو ریکارڈ کرتے ہوں گے؟”
چوہدری نے ہلکی سی کھانسی کی اور آہستہ سے کہا،
“اصل میں… ہم نے ایک طریقہ نکالا ہے۔”
نمائندہ چونک گیا،
“کیا طریقہ؟”
چوہدری نے مسکراتے ہوئے بتایا،
“ہم جب بلب جلاتے ہیں تو پہلے میٹر کا مین سوئچ بند کر دیتے ہیں، پھر بلب جلا لیتے ہیں۔ جب کام ختم ہو جاتا ہے تو بلب بند کر کے میٹر کا سوئچ دوبارہ آن کر دیتے ہیں۔ اس طرح بجلی بھی استعمال ہو جاتی ہے اور یونٹ بھی نہیں بنتے!”
یہ سن کر نمائندہ ایک لمحے کے لیے بالکل خاموش ہو گیا، پھر اس کے منہ سے بے اختیار نکلا،
“یہ تو… یہ تو سیدھی سیدھی چوری ہے!”
چوہدری نے بڑی معصومیت سے کہا،
“چوری؟ نہیں جی! ہم تو صرف احتیاط کر رہے ہیں۔ بجلی مہنگی ہے نا!”
نمائندہ اب ہنسے یا روئے، اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ اس نے سوچا کہ یہ لوگ واقعی سادہ ہیں یا بہت چالاک۔
پھر اس نے پورے گاؤں کا جائزہ لیا۔ ہر گھر میں یہی طریقہ تھا۔ کہیں لوگ پنکھا چلاتے وقت میٹر بند کر دیتے، کہیں بچے پڑھائی کے وقت بلب جلاتے اور ساتھ ہی سوئچ آف کر دیتے۔ سب کو یہی یقین تھا کہ وہ بجلی بچا رہے ہیں۔
نمائندہ واپس کمپنی کے دفتر پہنچا اور ساری رپورٹ پیش کی۔ افسران پہلے تو حیران ہوئے، پھر ہنسنے لگے۔
ایک بزرگ افسر نے کہا،
“یہ گاؤں والے بے وقوف نہیں ہیں، بلکہ اپنی سمجھ کے مطابق ہوشیار ہیں۔ مگر انہیں صحیح علم نہیں ہے۔”
چنانچہ کمپنی نے فیصلہ کیا کہ گاؤں میں ایک آگاہی مہم چلائی جائے۔
چند دن بعد وہی نمائندہ دوبارہ گاؤں گیا، مگر اس بار وہ صرف تحقیق کے لیے نہیں بلکہ سمجھانے کے لیے آیا تھا۔
اس نے گاؤں والوں کو اکٹھا کیا اور بڑے پیار سے سمجھایا،
“دیکھو بھائیو، جب تم میٹر بند کر کے بجلی استعمال کرتے ہو تو یہ قانون کے خلاف ہے۔ اس سے نہ صرف کمپنی کو نقصان ہوتا ہے بلکہ تمہارے لیے بھی خطرہ ہے۔”
پہلے تو گاؤں والے گھبرا گئے، مگر جب نمائندے نے نرمی سے بات کی تو سب نے توجہ سے سنا۔
چوہدری نے سر جھکا کر کہا،
“ہمیں واقعی علم نہیں تھا، ہم تو سمجھتے تھے ہم بجلی بچا رہے ہیں۔”
نمائندے نے مسکرا کر کہا،
“بجلی بچانا اچھی بات ہے، مگر صحیح طریقے سے۔ جیسے غیر ضروری بلب بند رکھنا، کم استعمال کرنا، مگر چوری نہیں کرنا۔”
گاؤں والوں نے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ ایسا نہیں کریں گے۔
اگلے مہینے جب بل آیا تو اس میں کچھ یونٹس درج تھے۔ اس بار کمپنی والے حیران نہیں ہوئے، بلکہ خوش ہوئے کہ گاؤں والوں نے صحیح طریقہ اپنا لیا ہے۔
گاؤں میں بھی ایک نئی سمجھ پیدا ہو گئی تھی۔ اب وہ واقعی بجلی بچاتے تھے، مگر ایمانداری کے ساتھ۔
اور چوہدری اکثر ہنستے ہوئے کہتا،
“پہلے ہم بجلی بھی چلاتے تھے اور عقل بھی بند رکھتے تھے… اب دونوں ساتھ ساتھ چل رہی ہیں!”
