بڑھتی سردی میں ایک بار پھر پیشِ خدمت ہے…
چکن سوپ عرف مُرغی کا جُوس
😅😅😅
دنیا میں جتنی بھی چیزوں سے جُوس نکالا جاتا ھے اُن میں سب سے زیادہ جوس پاکستان میں ”مُرغی“سے نکالا جاتا ہے۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں ایک مُرغی سے تقریباً 450 بیرل یا 2500 گیلن یعنی دس ہزار لیٹر تک جوس کشید کیا جا سکتا ہے۔
امکان غالب ہے کہ مستقبل قریب میں اس کو برآمد کر کے اچھا خاصا زرِمبادلہ کمایا جا سکتا ھے.
یہ دنیا کا واحد جُوس ہے جو گرم کر کے پیا جاتا ہے۔ مگر اب تو لوگ ماڈرن ہو گئے ہیں اور اب اسے یخنی یا سُوپ کے نام سے پکارتے ہیں۔
البتہ پرانے زمانے میں ریڑھی والے بڑے فخر سے لکھواتے تھے
”طاقت کا خزانہ ٠٠٠٠مرغی کا جوس“
دراصل یہ وہ پانی ہوتا ہے جس سے مُرغی کی میت کو مسلسل تین دن تک غسل دیا جاتا ہے اور ہمارے ملک کے سجیلے جوان حرارتِ جاں کیلئے اِن ریڑھیوں کے گردا گرد بیٹھ جاتے ہیں اور سوپ پی کر ایسے انگڑاٸی لیتے ہیں جیسے نرگس ڈانس شروع کرنے سے پہلے انگڑاٸی لیتی ہے۔
درحقیت یہ وہ کَلف زدہ پانی ہوتا ہے، جو دس منٹ بعد ٹھنڈا ہو کر نا صرف جوڑوں میں بیٹھ جاتا ہے بلکہ سینہ بھی بند ہو جاتا ہے۔
پورے پاکستان کی طرح ہمارے شہر میں بھی سَرِشام اِن مرغیوں کے جنازے منظرِعام پر آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ جہاں پر مُرغی کی میت کو پتیلے سے ایک فٹ دُور تختہ دار پر لٹکا دیا جاتا ہے اور ایک پوے کی مدد سے رسمِ غسل شروع ہو جاتی ہے۔
اور لوگ کسی عقیدت مند کی طرح ریڑھی کے اطراف کھڑے ہوکر اس مُتبرک پانی سے جسم کو حرارت بہم پہنچاتے نظر آتے ہیں۔
اس دوران سوپ پینے کی مسحور کُن آواز… شُڑڑڑڑ، شپ… شڑڑڑڑ… شڑڑڑڑ… سے شہر کی ہر گلی فضا گونج اُٹھتی ہے۔
مٶرخ شِکوہ کرتے ہوٸے لکھتا ہے کہ یخنی والوں پر سے میرا ایمان اُسی دِن سے اُٹھ گیا۔
جب رات بارہ بجے مجھے کسی کام کے لیے بازار جانا ہوا تو ایک دہل دہلا دینے والا منظر میرے سامنے تھا
12 بجے کے بعد اُسی بچے ہوۓ ”سوپ“ سے زمین پر چھڑکاؤ کیا جا رہا تھا اور مرغی کی میت کو کپڑے میں لپیٹ کر فریج میں رکھا جا رہا تھا۔
تاکہ…
سَند رھے اور وقتِ ضرورت اگلے دِن کام آۓ۔“
😅😅😅
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
