ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ شیطان اور ایک عابد کے درمیان تکرار ہو گئی۔
عابد کا مؤقف تھا کہ ہر برائی کے پیچھے شیطان کا ہاتھ ہوتا ہے،
جبکہ شیطان کا دعویٰ تھا کہ انسان خود ہی خرابی پیدا کرتا ہے۔
وہ بولا:
“میں تو صرف گانٹھ کھولتا ہوں، باقی کام انسان خود کر لیتا ہے۔”
عابد یہ بات ماننے کو تیار نہ تھا۔
شیطان نے کہا:
“ٹھہرو، میں تمہیں یہ بات ثابت کر کے دکھاتا ہوں۔”
وہ عابد کو ایک درخت کے پاس لے گیا، جہاں ایک گدھا بندھا ہوا تھا۔
شیطان نے گدھے کی رسی کھول دی۔
گدھا کھیتوں کی طرف بھاگا اور کھڑی فصل کو تباہ کرنے لگا۔
جب کسان کی بیوی نے یہ منظر دیکھا تو وہ غصّے سے بے قابو ہو گئی اور اس نے گدھے کو ایک ڈنڈا مار دیا۔ ڈنڈا کچھ اس انداز اور شدت سے لگا کہ گدھے وہیں ڈھے کر مر گیا۔
گدھے کی لاش دیکھ کر اس کا مالک شدید غصّے میں آ گیا اور اس نے کسان کی بیوی کو گولی مار دی۔
جب کسان کو خبر ملی تو وہ اپنی بیوی کی موت پر اس قدر مشتعل ہوا کہ اس نے گدھے کے مالک کو گولی مار دی۔
جب گدھے کے مالک کی بیوی کو اپنے شوہر کی موت کی خبر ملی تو وہ غصّے سے اندھی ہو گئی۔
اس نے اپنے بیٹوں کو حکم دیا کہ وہ کسان کا گھر جلا دیں۔
شام کو بیٹے گئے اور ماں کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے کسان کے گھر کو آگ لگا دی،
یہ سوچ کر کہ شاید کسان بھی گھر میں جل کر مر جائے۔
لیکن ایسا نہیں ہوا۔
کسان واپس آیا اور اپنا جلا ہوا گھر اور بچوں کی لاشیں دیکھیں تو گدھے کے مالک کی بیوی اور اس کے تینوں بیٹوں کو قتل کر دیا۔
اس کے بعد کسان نے توبہ کی اور شیطان کو کوسنے لگا۔
یہ سن کر شیطان ناراض ہو گیا اور بولا:
“میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا۔
میں نے صرف گدھے کی رسی کھولی تھی۔
ہر شخص نے ردِعمل دیا اور ہر ردِعمل پہلے سے زیادہ شدید تھا،
یوں سب نے اپنے اندر چھپی خباثت کو باہر دھکیل دیا۔”
منقول
شیطان تو شرط جیت گیا مگر ہمیں سوچ میں چھوڑ گیا۔
کئی بار بات معمولی سی ہوتی ہے لیکن ہم اسے طول دے کرا اتنا بڑھا دیتے ہیں کہ پھر سمیٹنا بھی ممکن نہیں رہتا۔
اگر کوئی آپ کو گالی دی، غصہ کرے یا زیادتی کرے تو کم از کم ایک بار صبر کا دامن ضرور تھامیں۔ جواب دینے، ردِعمل ظاہر کرنے یا کسی سے بدلہ لینے سے پہلے رک جائیں اور ایک لمحے کے لیے سوچیں۔
کبھی کبھی شیطان ہمارے درمیان صرف گدھا چھوڑ دیتا ہے،
باقی سب کچھ ہم خود کر لیتے ہیں!
عین ممکن ہے کہ ایک لمحے کا صبر آپ کی نسلوں کو بچا لیں یا پھر عین ممکن ہے کہ ایک لمحے کا طیش اور بے صبری آپ کو پستی کی گہرائیوں میں دھکیل دیں۔
کم از کم ایک بار… شیطان کے سامنے مزاحمت کریں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
