ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ شدید سردی میں ملانصرالدین کی اپنے دوستوں کے ساتھ ایک انوکھی شرط لگ گئی۔
مُلا کے دوستوں نے کہا:
“ملا! اگر تم ایک پوری رات پہاڑی پر بغیر آگ جلائے گزار لو، تو ہم تمہیں ایک سونے کا سکہ دیں گے، اور اگر نہ گزار سکے تو تم ہمیں ایک دن کا کھانا کھلاؤ گے۔”
ملا نصرالدین نے یہ شرط قبول کر لی۔
انہوں نے ایک کتاب اور موم بتی لی اور پہاڑی پر رات گزارنے چلے گئے۔ موم بتی جلا کر ساری رات کتاب پڑھتے رہے اور کتاب میں یوں کھو گئے کہ رات گزرنے کی خبر ہی نہ ہوئی۔
صبح جب واپس آئے تو دوستوں سے کہا:
“میں جیت گیا ہوں، اب مجھے میرا سونے کا سکہ دو۔”
دوست بولے:
“ملا! کیا تم نے واقعی آگ استعمال نہیں کی؟”
ملا نے جواب دیا:
“نہیں، میں کتاب اور موم بتی لے گیا تھا۔ اس موم بتی کی روشنی میں کتاب پڑھتے پڑھتے رات گزر گئی۔”
دوست فوراً بول اٹھے:
“ہم سمجھ گئے۔ موم بتی کی آگ کی وجہ سے تمہیں سردی محسوس نہیں ہوئی۔ لہٰذا تم ہار چکے ہو اور اب ہمیں ایک دن کا کھانا کھلانا ہوگا۔”
ملا نصرالدین نے کچھ دیر سوچا، پھر بات مان لی اور کھانے کے لیے ایک دن مقرر کر دیا۔
مقررہ دن دوست ملا کے گھر پہنچے، لیکن وہاں کھانے کا کوئی انتظام نظر نہیں آ رہا تھا۔
انہوں نے کہا:
“ملا! لگتا ہے کھانا ابھی تک تیار نہیں ہوا۔”
ملا نے جواب دیا:
“نہیں، ایسا نہیں ہے، کھانا تیار ہو رہا ہے، بس تھوڑا سا مزید وقت لگے گا۔”
دو تین گھنٹے گزرنے کے بعد دوستوں نے پھر پوچھا۔
“ملا! کتنی دیر باقی ہے۔”
ملا بولا:
“ابھی تک پانی اتنا نہیں اُبلا کہ میں اس میں چاول ڈال سکوں۔ اگر یقین نہیں تو آؤ تمہیں دکھا دیتا ہوں۔”
سب دوست ان کے ہمراہ باورچی خانے میں گئے کہ دیکھیں آخر پانی کیوں نہیں اُبل رہا۔
انہوں نے دیکھا کہ ملا نے ایک بڑا برتن چولہے پر چڑھا رکھا ہے اور اس کے نیچے، ایک چھوٹی سی موم بتی جل رہی ہے۔
دوستوں نے کہا:
“ملا! یہ کیسا مذاق ہے؟ بھلا چھوٹی سی موم بتی کیا اس بڑے برتن کو گرم کر سکتی ہے؟”
ملا نصرالدین مسکرا کر بولے:
“اگر یہ موم بتی برفانی رات میں، مجھے حرارت پہنچا سکتی ہے تو اس پتیلے کو کیوں نہیں؟
جب تک پانی اُبل نہ جائے اور کھانا تیار نہ ہو، کوئی گھر نہیں جائے گا۔
سب کو کھانے کا انتظار کرنا ہوگا۔”
سنا ہے کہ مُلا نے انہیں دو دن تک گھر میں بند رکھا جب تک انہوں نے سونے کا سکہ دے نہیں دیا۔
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ کسی شخص کے عمل یا نیت کے بارے میں رائے قائم کرنے سے پہلے مکمل صورتِ حال کو سمجھنا ضروری ہے۔ ملا نصرالدین کے دوستوں نے صرف ایک جزوی حقیقت… یعنی موم بتی کی موجودگی کو بنیاد بنا کر یہ نتیجہ نکال لیا کہ ملا نے شرط توڑ دی ہے، جبکہ انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ آیا وہ موم بتی واقعی سردی کا اثر زائل کرنے کی صلاحیت رکھتی بھی تھی یا نہیں۔
کبھی بھی جلد بازی میں اپنی منشاء کے مطابق نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہیے۔ ہم اکثر کسی ایک علامت، افواہ یا ظاہری منظر کو دیکھ کر پورے کردار یا نیت کا فیصلہ کر لیتے ہیں حالانکہ حقیقت کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
