بلاعنوان۔۔۔😃!

بلاعنوان۔۔۔😃!

میری دادی ایک کہانی سنایا کرتی تھیں ۔کسی زمانے کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں میں دو عورتیں رہا کرتی تھی ان دونوں عورتوں کی گائے نے ایک ہی دن بچہ دیا۔ ایک عورت کی گائے نے بچھڑا دیا جب کہ دوسری کے ہاں بچھڑی کی پیدائش ہوئی۔ جس عورت کے ہاں بچھڑا پیدا ہوا اس نے اب راتوں رات اپنے بچھڑے کو دوسری عورت کی بچھڑی کے ساتھ تبدیل کر دیا۔ وقت گزرتا گیا اور دونوں بچھڑا بچھڑی بڑے ہوتے گئے۔ جب بچھڑی بڑی ہو کر گائے بنی تو وقت آنے پر اس نے بھی بچہ جنا۔ 
پہلے زمانے میں رواج ہوتا تھا کہ گاؤں میں گائے کے پہلے دودھ سے بنی “بولی” ایک دوسرے کے گھر تحفے کے طور پر بھیجی جاتی تھی۔ اس عورت نے دوسری عورت کے گھر جب وہ بولی بھیجی تو اسے کھاتے ہی دوسری عورت نے فورا کہا کہ یہ گائے تواس کی بچھڑی تھی کیونکہ اس کی بولی کا ذائقہ ہو بہو اس کی اپنی گائے کے دودھ جیسا ہے۔ پہلی عورت نے فورا کہا کہ اس نے خود دیکھا ہے کہ یہ بچھڑی ہمیشہ سے اس کے ہی پاس ہے اور آج جب وہ گائے بن گئی ہے تو مارے حسد کے وہ اس پر اپنا حق جتا رہی ہے۔
مگر دوسری عورت نہ مانی۔ معاملہ بڑھتے بڑھتے حاکم وقت کے پاس جا پہنچا۔  بادشاہ نے دونوں کی بات غور سے سنی اور انہیں اگلے دن دوبارہ آنے کا کہا۔  جب وہ دونوں عورتیں وہاں سے روانہ ہو گئیں تو بادشاہ نے اپنے درباریوں کو حکم دیا کہ کل یہ دونوں عورتیں جس راستے سے آئیں اس راستے میں کیچڑ ڈال دی جائے۔
اگلے دن وہ دونوں عورتیں پاؤں کیچڑ میں لتھڑے ہوئے دربار میں پہنچیں۔ بادشاہ نے دونوں کے لیے ایک ایک لوٹا پانی کا لانے کا حکم دیا کہ اس سے اپنے پاؤں سے غلاظت صاف کر لیں۔
پہلی عورت جس نے الزام لگایا تھا کہ یہ گائے اس کی بچھڑی تھی اس نے پاؤں پانی سے دھو کر لوٹا شکریہ کے ساتھ واپس کر دیا دوسری عورت نے پاؤں دھوئے تو سہی مگر پانی تھوڑا کم پڑ گیا۔ اس نے دوبارہ پانی منگوایا۔
پاؤں دھونے کے بعد بادشاہ نے انہیں کھانے پر مدعو کیا۔ بادشاہ کے حکم کے مطابق ملازمین پہلے ہی چکی میں آٹا پیس کر گرما گرم روٹی پکا چکے تھے جس عورت نے پانی دوبارہ منگوایا تھا اس نے ہنسی خوشی کھانا کھایا اور بہت تعریف کی۔ جبکہ دوسری عورت نے روٹی کے دو تین نوالے چکھے اور وہیں چھوڑ دی۔ استفسار کرنے پر اس نے کہا کہ “جان کی امان پاؤں تو بادشاہ سلامت میں یہ روٹی نہیں کھا سکتی کیوں کہ یہ روٹی گندم کی بوریوں کے ڈھیر میں نچلی بوریوں سے نکالی گئی گیلی گندم سے بنائی گئی ہے۔”
بادشاہ نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا اور فیصلہ اس عورت کے حق میں دے دیا۔
آپ بھی میری طرح حیران ہوں گے کہ بادشاہ نے یہ فیصلہ کیوں دیا؟
تو جناب بادشاہ اور میری دادی جان کا کہنا تھا کہ جس عورت کو پانی استعمال کرنے کی تمیز نہ ہو وہ سلیقہ مند نہیں ہوتی ۔ اور نہ اپنا جانور پہچان سکتی ہے۔ اور دوسری عورت جس نے نچلی بوریوں کی گندم کا ذائقہ پہچان لیا۔ یقینا وہ اپنی گائے کی بولی کا ذائقہ کا بھی پہچان سکتی ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner