بلاعنوان۔۔۔😄!

بلاعنوان۔۔۔😄!

جب مرغے نے آدھی رات کو اذان دے کر پورے محلے کو جگا دیا
پپو کو پرندے پالنے کا بہت شوق تھا، اسی شوق میں وہ ایک ایسا مرغہ لے آیا جو شکل سے جتنا معصوم تھا، عقل سے اتنا ہی پیدل۔ اس مرغے کا بائیولوجیکل کلاک بالکل الٹا تھا۔ وہ صبح صادق کے بجائے تب اذان دیتا تھا جب اس کا موڈ ہوتا۔
ایک رات محلے میں بڑی خاموشی تھی، سب گہری نیند سو رہے تھے۔ پپو کے کمرے کی کھڑکی کے پاس مرغے نے دیکھا کہ گلی کی اسٹریٹ لائٹ اچانک تیز چمکی ہے۔ مرغے نے سمجھا شاید سورج نکل آیا ہے اور ڈیوٹی کا وقت ہو گیا ہے۔ اس نے سینہ تان کر ایک ایسی زوردار اور لمبی ککڑوں کڑوں ماری کہ پورے محلے کے کتے ایک ساتھ بھونکنے لگے۔
مرغے کی آواز سن کر محلے کے سب سے ضعیف بزرگ، چچا شکور، ہڑبڑا کر اٹھے۔ انہوں نے گھڑی دیکھے بغیر سمجھا کہ فجر کا وقت ہو گیا ہے۔ وہ جلدی میں اٹھے، اندھیرے میں اپنا جوتا ڈھونڈا جو دراصل ان کی پالتو بلی تھی اور وضو کے لیے غسل خانے کی طرف بھاگے۔
افراتفری میں چچا شکور نے مسجد کا رخ کیا اور راستے میں جتنے گھر آئے، سب کے دروازے کھٹکھٹا کر چلانے لگے کہ اٹھو بھائی، فجر ہو گئی، برکت کا وقت نکل رہا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے پورا محلہ جاگ گیا۔ دکانداروں نے دکانیں کھول دیں، اسکول کے بچوں نے روتے دھوتے بستے تیار کر لیے، اور ماسیوں نے گھروں میں جھاڑو مارنا شروع کر دیا۔ جب سب مسجد پہنچے تو پتہ چلا کہ ابھی تو رات کے دو بج رہے ہیں اور امام صاحب خود گہری نیند میں ہیں۔
تباہی اس وقت ہوئی جب غصے سے بھرا ہوا مجمع پپو کے گھر پہنچا تو دیکھا کہ وہ فتنہ خور مرغہ اب پپو کے ابو کی نئی گاڑی کی چھت پر بیٹھا دوبارہ اذان دینے کی تیاری کر رہا ہے۔ جیسے ہی لوگوں نے اسے پکڑنے کی کوشش کی، مرغہ اڑ کر سامنے والے تندور کی چمنی میں گھس گیا۔ چمنی سے نکلنے والی کالک نے مرغے کو کالا کوا بنا دیا اور جب وہ دوبارہ اڑ کر لوگوں کے اوپر سے گزرا، تو سب کے سفید کرتے اور استری شدہ کپڑے کالے دھبوں سے بھر گئے۔
آخر میں پپو کے ابو نے مرغے کو پکڑ کر اعلان کیا کہ کل صبح اس کی اذان نہیں، بلکہ اس کی کڑھائی کی خوشبو آئے گی۔ پپو بیچارہ کونے میں بیٹھا آنسو بہا رہا تھا اور مرغہ اب بھی ذبح ہونے سے پہلے ککڑوں کڑوں کر کے سب کو چڑا رہا تھا۔

Leave a Reply

NZ's Corner