ایک چیونٹیوں کے بل میں ایک ننھی سی چیونٹی رہتی تھی۔
وہ نہ سب سے طاقتور تھی، نہ سب سے تیز، نہ سب سے زیادہ عقل مند۔ لیکن اس میں ایک ایسی خوبی تھی جو اسے سب سے منفرد بناتی تھی۔ وہ کبھی کسی کے دکھ کو نظر انداز کر کے آگے نہیں بڑھ سکتی تھی۔
اگر کوئی چیونٹی تھک جاتی اور دانہ نہ اٹھا پاتی تو وہ مدد کرتی۔ اگر کوئی لڑکھڑا جاتی تو اسے سہارا دیتی۔ جب بارش سرنگیں گرا دیتی تو سب سے پہلے وہی دوڑ کر انہیں دوبارہ بنانے لگتی۔
وقت کے ساتھ باقی چیونٹیاں اس کی عادی ہو گئیں۔ وہ ہمیشہ موجود ہوتی تھی۔ کوئی دانہ گر گیا؟ وہ اٹھا لیتی۔ کام پیچھے رہ گیا؟ وہ پورا کر دیتی۔ کوئی تھک گیا؟ وہ اپنا کندھا پیش کر دیتی۔
مگر کسی نے کبھی یہ نہیں پوچھا: “اور تم… کیا تم بھی تھک گئی ہو؟”
ہر دن وہ صرف اپنے لیے نہیں، بلکہ دوسروں کا بوجھ بھی اٹھاتی رہی—وہ بوجھ جسے اٹھانے کا نہ ان کے پاس وقت تھا، نہ طاقت۔
کیا اس نے کبھی آرام کیا؟ نہیں۔
وہ خاموشی سے خود کو سمجھاتی رہی: “بس تھوڑا سا اور۔ اپنی زات سے زیادہ اہم یہ ہے کہ سب کے لیے آسانی ہو جائے۔”
کہ ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کے
پھر ایک دن اس نے بہت کمزوری محسوس کی۔ اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ کمر میں درد تھا۔ اور دانہ پہلے سے کہیں زیادہ بھاری لگ رہا تھا۔
لیکن وہ ساتھی چیونٹیوں کو کیسے مایوس کر سکتی تھی؟
ایک چیونٹی نے مدد مانگی، اور اس نے کر دی۔
دوسری نے کہا، اور اس نے دانت بھینچ کر ہاں کر دی۔ تیسری نے کہا، “تم تو ہمیشہ وقت نکال لیتی ہو”، اور اس نے پھر انکار نہ کیا۔
پھر کچھ ایسا ہوا جس کی اسے خود بھی توقع نہ تھی۔ دوسروں کے بوجھ تلے دب کر وہ گر پڑی۔
دوسری چیونٹیاں اس کے پاس سے گزر گئیں اور کسی نے غور نہ کیا۔ سب کو یقین تھا: “وہ ابھی اٹھ کھڑی ہوگی۔”
مگر دن گزرتے گئے۔ دانے بکھرے رہے۔ سرنگیں ٹوٹتی رہیں۔ وہ جانا پہچانا کندھا موجود نہ رہا۔
تب جا کر چیونٹیوں کو احساس ہوا کہ وہ چیونٹی وہ سب کچھ کر رہی تھی جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔
انہوں نے اسے ڈھونڈا، مگر وہ کہیں نہ ملی۔
کالونی کے کنارے رہنے والی ایک بوڑھی چیونٹی نے آہ بھری اور کہا: “وہ چلی گئی ہے۔ اسے یہ احساس ہو گیا تھا کہ اس کی محنت کی قدر تب ہی کی جائے گی جب وہ موجود نہ رہے گی۔”
“مگر اس نے کچھ کہا کیوں نہیں؟” باقی چیونٹیاں بولیں۔
بوڑھی چیونٹی نے جواب دیا: “کیا تم میں سے کسی نے کبھی پوچھا تھا کہ وہ کیسی ہے؟”
چیونٹیوں کا لشکر خاموش ہو گیا۔
تب انہیں سمجھ آیا۔ وہ سب کے لیے موجود تھی۔ مگر جب اسے خود سہارا چاہیے تھا، کسی نے محسوس ہی نہ کیا کوئی اس کے لیئے موجود نہ تھا۔
❗ سبق:
ہر ٹیم، ہر خاندان، ہر کام کی جگہ پر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے حصے سے کہیں زیادہ بوجھ اٹھاتے ہیں۔ وہ خاموشی سے مدد کرتے ہیں۔ اپنی حد تک پہنچ کر بھی “ہاں” کہہ دیتے ہیں۔ بغیر کچھ مانگے دوسروں کا سہارا بنتے ہیں۔
اور جب وہ چلے جاتے ہیں، تب جا کر لوگوں کو احساس ہوتا ہے کہ وہ کتنے ناقابلِ بدل تھے۔
اصل سوال یہ ہے: کیا آپ وقت پر یہ بات سمجھ پائیں گے؟ اور اگر وہ چلے گئے تو… کیا وہ واپس آئیں گے؟
❗ اگر آپ کی زندگی میں بھی کوئی ایسا شخص ہے تو خاموش نہ رہیں۔ بات کو ٹالتے نہ رہیں۔
آج ہی پوچھیں: “کیا آپ ٹھیک ہیں؟ میں آپ کی کیسے مدد کر سکتا/سکتی ہوں؟”
کبھی کبھی ایک سچا سوال سب ایک زرا سی فکر سب کچھ بدل دیتا ہے۔
اچھے لوگ نعمت ہوتے ہیں۔خدارا وقت رہتے سنبھل جائیں لوگ ہمیشہ نہیں رہتے۔۔۔ وہ چلے جاتے ہیں۔
نعمتوں کی بے قدری اللہ بھی پسند نہیں کرتا۔
