بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ایک گاؤں میں ایک بار سردیوں کی کالی رات میں ایک چور چوری کی نیت سے چوہدری صاحب کے ڈیرے میں داخل ہوا۔ بدقسمتی سے ابھی وہ تالا توڑنے ہی والا تھا کہ چوہدری کے کتے بھونکنے لگے اور ملازم جاگ گئے۔
چور کی جان پر بن آئی، وہ بھاگ کر قریبی قبرستان میں گھس گیا۔ وہاں ایک پرانی ٹوٹی ہوئی قبر کے پاس سفید چادر پڑی تھی۔ اس نے سوچا کہ اگر پکڑا گیا تو کٹ لگے گی، اس لیے اس نے فوراً وہ چادر اوڑھی اور ایک کتبے کے پاس آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا اور آنکھیں بند کر لیں۔
اتنے میں ملازم ٹارچیں لیے وہاں پہنچ گئے۔ جب انہوں نے اندھیرے میں سفید چادر پوش ہستی کو دیکھا تو ان کی سٹی پٹی گم ہوگئی۔ ایک ملازم تھر تھر کانپتے ہوئے بولا کہ بھائیو یہ تو کوئی پہنچے ہوئے بزرگ لگ رہے ہیں جو اس وقت عبادت میں مصروف ہیں۔
چور نے جب دیکھا کہ پانسہ پلٹ رہا ہے، تو اس نے موقع غنیمت جانا اور زور زور سے سانسیں کھینچنا شروع کر دیں جیسے کسی گہری وجد کی حالت میں ہو۔ ملازموں نے ڈر کے مارے وہاں سجدہ کیا اور گاؤں جا کر شور مچا دیا کہ قبرستان میں ایک بہت بڑے ولی اللہ تشریف لائے ہیں جن کے چہرے سے نور کی شعائیں (ٹارچ کی روشنی کی وجہ سے) نکل رہی ہیں۔
صبح ہوتے ہی پورا گاؤں نذرانے اور دودھ کے گلاس لے کر قبرستان پہنچ گیا۔ چور بیچارہ پریشان کہ اب اگر اٹھ کر بھاگا تو بھید کھل جائے گا اور لوگ زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ وہ سارا دن آنکھیں بند کیے تسبیح کے بغیر ہی انگلیاں ہلاتا رہا۔
دوپہر کے وقت گاؤں کا سب سے بڑا ضدی بدمعاش وہاں آیا۔ اس نے کہا کہ میں نہیں مانتا، میں ابھی ان کا امتحان لیتا ہوں۔ وہ چور کے بالکل پاس گیا اور کان میں آہستہ سے بولا کہ شاہ جی، اگر آپ سچے پیر ہیں تو بتائیں میں نے کل رات کیا کھایا تھا؟
چور کا دل حلق میں آگیا۔ اس نے سوچا کہ اب تو گیا! اس نے ہمت جمع کی اور آنکھیں کھولے بغیر گرج دار آواز میں پنجابی میں بولا:
اوئے بدبخت! توں کلے کلے مرغے چھکدا ایں تے پیر تیکر ہڈیاں وی نئیں اپڑاندے؟
(اوئے بدبخت! تو اکیلے اکیلے مرغے کھاتا ہے اور پیر تک ہڈیاں بھی نہیں پہنچاتے؟)
سچی بات یہ تھی کہ اس بدمعاش نے واقعی رات چوری کا مرغا کھایا تھا، وہ یہ سنتے ہی پیروں میں گر گیا اور چیخ کر بولا کہ واقعی یہ تو غیب کا علم جانتے ہیں!
شام ہوئی تو ہجوم تھوڑا کم ہوا۔ چور نے دیکھا کہ اب نکلنے کا وقت ہے۔ وہ اچانک کھڑا ہوا اور نعرہ مارا کہ میرا بلاوا آگیا ہے، مجھے جانے دو! لوگ راستے سے ہٹ گئے اور وہ ایسی دوڑ لگا کر جنگل کی طرف غائب ہوا کہ آج تک کسی کو نہیں ملا۔
گاؤں والے آج بھی وہاں دیے جلاتے ہیں کہ یہاں ایک پیر صاحب آئے تھے جو ہوا میں اڑ کر چلے گئے تھے، اور چور شہر جا کر توبہ کر چکا ہے کہ بھئی چوری سے تو پیر بننا زیادہ خطرناک کام ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner