بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ابلیس، جسے شیطان بھی کہا جاتا ہے، اسلامی عقائد کے مطابق ایک جن تھا جس نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی اور حضرت آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ قرآن مجید میں اس کا ذکر کئی بار آیا ہے، اور اس کی سرکشی اور نافرمانی کو انسانیت کے لیے ایک سبق کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اللہ نے تمام فرشتوں اور جنوں کو حکم دیا تھا کہ وہ آدم کو سجدہ کریں، کیونکہ آدم کو اللہ نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تھا اور ان میں اپنی روح پھونکی تھی۔ اس وقت ابلیس، جو جنات میں سے تھا اور اپنی عبادت کی وجہ سے فرشتوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا تھا، نے غرور اور تکبر کی وجہ سے انکار کر دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ آگ سے بنا ہے جبکہ آدم مٹی سے بنے ہیں، اور آگ مٹی سے بہتر ہے۔ اس نافرمانی کی وجہ سے اللہ نے ابلیس کو اپنی بارگاہ سے نکال دیا اور اسے راندہ درگاہ قرار دیا۔ ابلیس نے اللہ سے قیامت تک مہلت مانگی تاکہ وہ انسانوں کو بہکا سکے اور انہیں سیدھے راستے سے بھٹکا سکے۔ اللہ نے اسے یہ مہلت عطا کی، لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کر دیا کہ جو لوگ مخلص ہوں گے اور اللہ پر ایمان رکھیں گے، ابلیس انہیں بہکا نہیں سکے گا۔ ابلیس کا بنیادی کام انسانوں کو وسوسے ڈالنا، انہیں گناہوں کی طرف راغب کرنا، اور انہیں اللہ کی نافرمانی پر اکسانا ہے۔ وہ انسانوں کے دلوں میں شک پیدا کرتا ہے، انہیں ایک دوسرے سے لڑاتا ہے، اور انہیں برائی کے راستے پر چلاتا ہے۔ تاہم، اس کی قوت محدود ہے اور وہ صرف انہیں بہکا سکتا ہے جو خود برائی کی طرف مائل ہوں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق، ابلیس اللہ کا دشمن ہے اور انسانیت کا بھی دشمن۔ مومنوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ شیطان کی چالوں سے ہوشیار رہیں، اللہ کی پناہ مانگیں، اور اس کے وسوسوں کا مقابلہ کریں۔ آخرت میں ابلیس اور اس کے پیروکاروں کو جہنم کی آگ کا سامنا کرنا ہوگا۔ ابلیس کی کہانی انسان کو تکبر سے بچنے، اللہ کے احکامات کی اطاعت کرنے، اور ہمیشہ سیدھے راستے پر قائم رہنے کا درس دیتی ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner