ایک ریاست تھی جس کا بادشاہ عقل، فہم اور تدبر میں مشہور تھا۔
اس کے دربار میں خوشامد کی اجازت نہ تھی، چاپلوسی وہاں جرم سمجھی جاتی تھی۔
بادشاہ کا یقین تھا کہ خوشامدی دیمک کی طرح ہوتے ہیں، جو ایک بار اقتدار کے گرد بس جائیں تو سچ، ضمیر اور حقیقت کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔
اسی لیے اس کے گرد صرف وہ لوگ ہوتے تھے جو سچ بولنے کی ہمت رکھتے تھے۔
وزیر، مشیر اور اہلِ دربار جانتے تھے کہ یہاں تعریف نہیں، دلیل کام آتی ہے۔
بادشاہ کا ایک اصول تھا:
اگر کوئی شخص عقل، ذمہ داری یا فہم میں غیر معمولی سمجھا جاتا، تو بادشاہ پہلے اس کا امتحان لیتا۔
جو اس امتحان میں پورا اترتا، اسے ریاست کا اہم عہدہ سونپ دیا جاتا، تاکہ اس کی صلاحیتیں ریاست کے کام آ سکیں۔
ایک دن بادشاہ نے وزیروں سے سوال کیا:
“کیا اس ریاست میں کوئی ایسا شخص بھی ہے جو عقل اور ذمہ داری میں مجھ سے بڑھ کر ہو؟”
وزیروں نے ایک نام پر اتفاق کیا۔
ایک ایسا شخص جس کی سمجھ داری اور ذمہ داری کے چرچے پوری ریاست میں تھے۔
کہا جاتا تھا کہ وہ جو کام صبح کرنا ہوتا، اس کی تیاری رات کو کر لیتا تھا، اور پھر ہر حال میں اسے پورا کرتا تھا۔
بادشاہ نے اسے بلوانے کا حکم دیا۔
جب وہ شخص دربار میں حاضر ہوا تو بادشاہ نے کہا:
“میں تمہیں ایک موقع دینا چاہتا ہوں۔
کل صبح سورج طلوع ہونے سے لے کر شام سورج غروب ہونے تک، ریاست کے تمام خزانے تمہارے اختیار میں ہوں گے۔
جو چاہو منتخب کرو، جو چاہو اٹھاؤ۔
لیکن ایک شرط ہے۔
شام سے پہلے تمہیں واپس آ کر ان تمام چیزوں کی رسیدیں اور کاغذات مجھ سے لینے ہوں گے، اور جو چیزیں تم حقیقت میں اپنے گھر تک لے جا سکو گے، وہ ہمیشہ کے لیے تمہاری ہوں گی۔
جو یہاں رہ گئی، وہ ریاست کی ہی رہے گی۔”
یہ سن کر بادشاہ کی بیوی سخت خفا ہوئی۔
اس نے کہا:
“آپ نے بہت بڑی حماقت کی ہے۔
بادشاہ مسکرایا، مگر خاموش رہا۔
اگلی صبح وہ شخص خزانے میں داخل ہوا۔
سونے کے انبار، چاندی کے صندوق، ہیرے جواہرات، قیمتی اشیاء
ہر طرف دولت کی چمک تھی۔
اس نے ایک چیز اٹھائی۔
پھر نظر دوسری پر پڑی۔
دل نے کہا:
“یہ اس سے زیادہ قیمتی ہے۔”
پہلی چیز ایک طرف رکھی، دوسری اٹھا لی۔
پھر تیسری نظر آئی، اس سے بھی زیادہ دلکش۔
وہ خود سے کہنے لگا:
“یہ بھی نہ لی تو نقصان ہو جائے گا۔”
وقت گزرتا گیا۔
دوپہر تک وہ چیزیں سمیٹنے کے بجائے گنتا رہا، پرکھتا رہا، فہرستیں بناتا رہا۔
لالچ آہستہ آہستہ عقل پر غالب آتا چلا گیا۔
آنکھیں بوجھل ہوئیں، مگر نیند نہ آئی۔
تھکن تھی، مگر ہاتھ رکتے نہ تھے۔
ہر نئی چیز پچھلی سے زیادہ ضروری لگنے لگی۔
وہ سوچتا رہا:
“بس یہ بھی لے لوں، پھر واپس آ جاؤں گا۔
یہ آخری ہے، اس کے بعد۔”
واپسی، رسیدیں، شرط
سب اس کی نظروں سے اوجھل ہو چکا تھا۔
اور سورج غروب ہو گیا۔
وہ کبھی واپس نہ آیا۔
شام کو وزیروں نے حیرت سے کہا:
“بادشاہ سلامت، آپ کی قسمت بہت اچھی تھی کہ آپ بچ گئے۔
وہ شخص تو کبھی ناکام نہیں ہوا تھا۔
وہ ہر کام سے پہلے مکمل تیاری کرتا تھا،
اگر وہ تیاری کر لیتا تو آج نتیجہ مختلف ہوتا۔”
بادشاہ مسکرایا،
کچھ دیر خاموش رہا،
پھر بولا:
“میں نے اسے اپنی سلطنت میں نہیں آزمایا تھا،
میں نے اسے لالچ کی سرزمین پر کھڑا کر دیا تھا۔
اور یاد رکھو،
لالچ وہ اندھی سرزمین ہے
جہاں عقل کا کوئی وجود نہیں ہوتا،
جہاں انسان
جنت کے بدلے
جہنم کا سودا کر آتا ہے۔”
“کیونکہ اس کی عقل پر لالچ غالب آ گئی۔
وہ حقیقت کے بجائے خواہش کے پیچھے چل پڑا۔
انسان جب حقیقت سے دور ہوتا ہے، تو گمراہی کے قریب ہو جاتا ہے۔
لالچ عقل پر ایسا پردہ ڈال دیتی ہے کہ انسان شرط، اصول اور انجام سب بھول جاتا ہے۔
وہ ساری رات تیاری کرنے کے بجائے شیخ چلی کی طرح خیالی منصوبوں میں کھو گیا۔
اور یوں اس نے سب کچھ ہوتے ہوئے بھی سب کچھ کھو دیا۔”
بادشاہ نے ایک لمحے کو توقف کیا اور کہا:
“اصل دانائی یہ نہیں کہ کتنا حاصل کیا جا سکتا ہے،
بلکہ یہ ہے کہ کب رکنا ہے، کیا اٹھانا ہے، اور کس قیمت پر۔”
اخلاقی سبق
لالچ انسان کی عقل کو مفلوج کر دیتا ہے۔
حقیقی کامیابی خوابوں میں نہیں، حقیقت کو قبول کرنے اور اصولوں کی پابندی میں ہے۔
جو شخص سب کچھ پانے کی دوڑ میں شرط اور انجام بھول جائے، وہ آخرکار خالی ہاتھ رہ جاتا ہے۔
