بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ایک قدیم شہر میں بادشاہ نے اعلان کیا کہ محل کے نیچے ایک خفیہ کمرہ ہے جہاں بے پناہ خزانہ رکھا ہے، مگر دروازہ صرف اسی پر کھلے گا جو دھوکے کے بغیر اندر داخل ہو سکے۔

دو آدمی آگے بڑھے۔
ایک اندھا تھا، دوسرا بہرا۔

نگہبانوں نے ہنسی میں کہا:
“یہ تو خود ہی ناکام ہیں۔”

اندھا بولا:
“میں راستہ نہیں دیکھ سکتا، مگر قدموں کی نیت جانچ سکتا ہوں۔”
بہرا بولا:
“میں آواز نہیں سنتا، مگر آنکھوں کے فریب پہچان لیتا ہوں۔”

دونوں نے ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا۔

راستے میں دیواروں سے آوازیں آئیں:
“ادھر آؤ، خزانہ یہیں ہے!”
بہرا نہ رکا۔
آگے زمین پر سنہری روشنی تھی اندھا ٹھٹھک گیا:
“یہ چمک سچی نہیں، یہ جلدی کی آزمائش ہے۔”

آخر وہ کمرے تک پہنچے۔ دروازہ بند تھا۔
اندر سے آواز آئی:
“اپنی کمزوری بتاؤ!”

اندھا بولا:
“میں دیکھ نہیں سکتا، اس لیے میں فریب سے محفوظ ہوں۔”
بہرا بولا:
“میں سن نہیں سکتا، اس لیے میں جھوٹ سے محفوظ ہوں۔”

دروازہ کھل گیا۔

مگر اندر خزانہ نہ تھا صرف ایک تختی جس پر لکھا تھا:
“جو اپنی کمی کو پہچان لے، وہی سب سے بڑا امیر ہے۔”

دونوں باہر آئے۔ بادشاہ نے پوچھا:
“خزانہ کہاں ہے؟”

انہوں نے مسکرا کر کہا:
“ہم اسے لے آئے ہیں۔”

سبق

اصل کمزوری وہ نہیں جو نظر آئے،
بلکہ وہ ہے جسے انسان ماننے سے انکار کرے۔
جو اپنی حد پہچان لے،
وہی فریب کے دروازے پار کر لیتا ہے۔

حوالہ جات

الف لیلہ و لیلہ — مشرقِ وسطیٰ کی تمثیلی داستانیں

عربی و فارسی زبانی روایات (Public Domain)

اخلاقی و علامتی ادب: کمزوری بطور طاقت

Leave a Reply

NZ's Corner