بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ایک دفعہ کا ذکر ہے، نصیر الدین نام کا ایک نوجوان بازار میں پھر رہا تھا۔ اس کی جیب میں ایک آخری روپیہ تھا، مگر اس کا سر بہت بڑے بڑے خوابوں سے بھرا ہوا تھا۔ بازار کے ہنگامے میں چلتے چلتے، اس کی نظر ایک مرغی کے انڈوں سے بھری ہوئی ٹوکری پر پڑی۔ اس نے سوچا، “یہ ٹوکری میری سلطنت کی پہلی اینٹ ہے۔” اس نے وہ آخری روپیہ دے کر وہ ٹوکری خرید لی۔
جیسے ہی وہ ٹوکری اپنے سر پر رکھ کر گھر کی طرف چلنے لگا، اس کا دماغ خوابوں کے پنکھ لگا کر اڑنے لگا۔ اس کے ذہن میں سب سے پہلے خیال آیا: “یہ انڈے تو چوزے بنیں گے۔” (تصویر میں وہ دیکھیں، ایک مرغی خانہ!)
اس کا دوسرا خیال تھا: “اور وہ چوزے بڑے ہو کر اور انڈے دیں گے۔ میں ان انڈوں اور چوزوں کو بیچ کر اتنے پیسے کماؤں گا کہ گائے خرید سکوں۔” (ہاں، وہ دیکھیں گائے کا ریوڑ!)
تیسرا خیال، “گائے کے دودھ سے میں اتنا امیر ہو جاؤں گا کہ ایک شاندار حویلی بنواؤں گا۔” (ہاں، وہ دیکھیں حویلی!)
چوتھا خیال، “پھر میری حویلی میں ایک خوبصورت لڑکی سے شادی ہوگی۔” (ہاں، وہ دیکھیں دولہا دلہن!)
پانچواں اور آخری خیال، “ہماری شادمانی میں ہمارے بچے خوشی سے کھیلیں گے۔” (ہاں، وہ دیکھیں بچے!)
اس آخری خیال پر نصیر الدین اتنا جوش میں آ گیا کہ اسے لگا وہ اپنے بچوں کے ساتھ کھیل رہا ہے۔ اس نے اپنا ہاتھ بے خیالی میں جھٹکا، جیسے ان کو پکڑنے کی کوشش کر رہا ہو۔
اور پھر… ‘تھاپ!’
ٹوکری سر سے پھسل کر زمین پر گری۔ انڈے ٹوٹ گئے، اور اس کے ساتھ ہی اس کے تمام خواب چکن، گائے، حویلی اور بچے سب ہوا میں غائب ہو گئے۔
بازار کا دکاندار، رشید، جو نصیر الدین کو ٹوکری لاتے ہوئے دیکھ رہا تھا، غصے سے لال ہو کر دوڑا اور چلا کر بولا: “ارے بے وقوف! یہ کیا کیا؟ سارے انڈے برباد کر دیئے!”
نصیر الدین نے حیرت اور دکھ سے ٹوٹے ہوئے انڈوں کو دیکھا، پھر دکاندار کو۔ اس کے چہرے پر ابھی بھی اس کے خوابوں کا اثر تھا۔ اس نے آہستہ سے کہا: “دیکھو رشید بھائی، میں اپنی حویلی میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، انہوں نے ہی مجھے دھکا دیا اور انڈے ٹوٹ گئے۔”
رشید نے سر پیٹ لیا۔ “ارے بدبخت! حویلی؟ بچے؟ کہاں ہیں وہ سب؟ یہ سب تیرے ذہن کے ‘خیالی پلاؤ’ تھے۔”
نصیر نے معصومیت سے ٹوٹے ہوئے انڈوں کے زرد حصے کی طرف اشارہ کیا اور کہا: “رشید بھائی، آپ ذرا دھیان سے دیکھیں، شاید آپ کو اس زردی میں کوئی چکن نظر آ جائ۔ آپ کے انڈے تو زردی میں گھل گئے، اور میرے سارے خواب بھی۔ اب میں اپنی حویلی کا راستہ کیسے ڈھونڈوں؟”

Leave a Reply

NZ's Corner