ایک چور رات کے وقت ایک باغ میں گھس آیا۔
وہ دبے پاؤں آم کے درخت پر چڑھا اور شوق سے آم کھانے لگا۔
اتفاق سے باغبان وہاں آن پہنچا۔
اس نے اوپر نظر اٹھا کر کہا:
“او بے شرم! یہ کیا حرکت ہے؟”
چور مسکرایا، بڑی سنجیدگی سے بولا:
“ارے نادان! یہ باغ اللہ کا ہے، میں بھی اللہ کا بندہ ہوں۔
وہی مجھے کھلا رہا ہے اور میں کھا رہا ہوں۔
میں تو بس اس کے حکم کی تعمیل کر رہا ہوں،
ورنہ اس کے حکم کے بغیر تو پتہ بھی حرکت نہیں کرتا۔”
باغبان نے عاجزی سے سر جھکایا اور بولا:
“حضرت! آپ کا وعظ سن کر دل باغ باغ ہو گیا۔
ذرا نیچے تشریف لائیے تاکہ
میں آپ جیسے کامل مومن کی دست بوسی کر سکوں۔
سبحان اللہ! اس جہالت کے دور میں
آپ جیسا عارفِ توحید مل جانا غنیمت ہے۔
واقعی! جو کرتا ہے خدا ہی کرتا ہے
اور بندے کا کوئی اختیار نہیں۔
براہِ کرم نیچے تشریف لائیے۔”
چور اپنی تعریف سن کر پھولے نہ سمایا،
فوراً درخت سے نیچے اتر آیا۔
جیسے ہی وہ نیچے پہنچا،
باغبان نے اسے پکڑ لیا،
رسی سے درخت کے ساتھ باندھ دیا
اور خوب ڈنڈے برسانا شروع کر دیے۔
چور چیخ اٹھا:
“اے ظالم! کچھ تو رحم کر،
میرا جرم اتنا نہیں جتنا تُو مجھے مار رہا ہے!”
باغبان ہنس کر بولا:
“جناب! ابھی تو آپ فرما رہے تھے
کہ جو کچھ ہوتا ہے اللہ کے حکم سے ہوتا ہے،
اور اس کے بغیر کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔
اگر آم کھانے والا اللہ کا بندہ تھا،
تو مارنے والا بھی اللہ کا بندہ ہے۔
اور یہ سب بھی اسی کے حکم سے ہو رہا ہے،
کیونکہ اس کے حکم کے بغیر
تو پتہ بھی نہیں ہلتا۔”
چور نے ہاتھ جوڑ دیے،
آنکھوں میں ندامت آ گئی،
اور کہا:
“خدارا! مجھے چھوڑ دے۔
اصل مسئلہ اب میری سمجھ میں آ گیا ہے
کہ بندے کا بھی کچھ اختیار ہوتا ہے!”
باغبان نے کہا:
“اور اسی اختیار کی وجہ سے
انسان اپنے اچھے اور برے اعمال کا
ذمہ دار بھی ہوتا ہے۔”
اخلاقی سبق (Moral Lesson)
1. تقدیر کے نام پر گناہ کو جائز قرار دینا خود فریبی ہے۔
2. اللہ نے انسان کو اختیار دیا ہے، اسی لیے جزا و سزا کا تصور قائم ہے۔
3. جب فائدہ ہو تو جبر، اور جب نقصان ہو تو اختیار، یہ رویہ منافقت ہے۔
4. اصل معرفت یہ ہے کہ انسان اپنے عمل کی ذمہ داری قبول کرے۔
حوالہ (Reference)
یہ حکایت مثنوی معنوی میں
جبر و اختیار (Free Will vs Determinism) کے فلسفے کی وضاحت کے لیے بیان کی گئی ہے،
جہاں مولانا رومیؒ انسان کو
تقدیر اور اختیار کے درمیان متوازن فہم سکھاتے ہیں۔
