بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ایک دن جحا بازار سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے دیکھا ایک بھوکا مسافر کباب فروش کی دکان کے سامنے کھڑا ہے۔ اس مسافر کے پاس کھانے کے پیسے نہیں تھے، اس لیے اس نے روٹی کا ایک خشک ٹکڑا نکالا اور اسے کبابوں سے اٹھنے والے دھوئیں کے اوپر رکھ کر سینکنے لگا تاکہ روٹی میں کبابوں کی خوشبو بس جائے اور وہ اسے کھا سکے۔

دکاندار بہت کنجوس اور جھگڑالو تھا۔ اس نے مسافر کا ہاتھ پکڑ لیا اور شور مچانے لگا:
“تم نے میرے کبابوں کے دھوئیں سے فائدہ اٹھایا ہے، اب اس کی قیمت ادا کرو!”

بیچارہ مسافر پریشان ہو گیا کہ دھوئیں کے پیسے کیسے دے؟ اتنے میں جحا وہاں پہنچ گئے اور سارا معاملہ سننے کے بعد بولے:
“فکر نہ کرو، اس مسافر کے بدلے میں قیمت میں ادا کروں گا۔”

جحا نے اپنی جیب سے چند سکے نکالے، انہیں مٹھی میں بند کیا اور دکاندار کے کان کے قریب لے جا کر زور زور سے کھنکھنانے لگے۔ سکوں کی کھنکھناہٹ سنانے کے بعد جحا نے سکے واپس اپنی جیب میں ڈال لیے۔

دکاندار حیرت سے بولا:
“یہ کیا مذاق ہے؟ مجھے پیسے دو!”

جحا نے مسکرا کر جواب دیا:
“میاں! انصاف تو یہی ہے کہ اگر اس مسافر نے تمہارے کبابوں کی ‘خوشبو’ لی ہے، تو تم نے بھی بدلے میں میرے سکوں کی ‘آواز’ سن لی ہے۔ حساب برابر!”

اس کہانی کا حاصل:
عربی ادب میں جحا کا کردار صرف بیوقوفی کے لیے نہیں بلکہ اپنی حاضر جوابی سے ظالم اور کنجوس لوگوں کو انہی کی زبان میں سبق سکھانے کے لیے مشہور ہے۔

#جحا #ملا_نصیر_الدین #عربی_ادب #مزاحیہ_قصے #حاضر_جوابی #لوک_کہانیاں #اردو_ادب #کباب_اور_خوشبو #عقل_و_دانش #پرانی_کہانیاں
#Juha #NasreddinHodja #ArabicLiterature #Folklore #FunnyStories #Wisdom #WitAndHumor #MiddleEasternTales #Storytelling #JuhaStories
#جحا #نوادر_جحا #الأدب_العربي #قصص_مضحكة #طرائف

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں

Leave a Reply

NZ's Corner