پرانے وقتوں کی بات ہے کہ شہرِ نُوران کے تخت پر ایک عظیم بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وہ عقل و تدبر میں بے مثال اور رعایا کا خیرخواہ تھا۔ اس کی سلطنت میں خوشحالی کا راج تھا، مگر اس کی خوشیوں کا اصل مرکز اس کی معصوم اور خوبصورت بیٹی شہزادی گلنار تھی۔
شہزادی کی پیدائش کے بعد، ماں کی ممتا کی چھاؤں زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ ملکہ کی اچانک وفات نے بادشاہ کو اندر سے توڑ کر رکھ دیا، مگر وہ بیٹی کی پرورش میں کوئی کمی نہیں آنے دینا چاہتا تھا۔ چند برس بعد، اس نے دوسری شادی کرلی۔ نئی ملکہ بظاہر خوش اخلاق اور شائستہ تھی، مگر درحقیقت وہ ایک چالاک اور سنگدل عورت تھی، جو جادوگری میں مہارت رکھتی تھی۔
یہ ملکہ ایک طلسمی آئینہ رکھتی تھی، جو نہ صرف ہر سوال کا سچ بتاتا بلکہ اس کے حسن کی برتری کی تصدیق بھی کرتا تھا۔ وہ روز آئینے سے پوچھتی:
“بتا، دنیا میں سب سے حسین کون ہے؟”
اورآئینہ ہمیشہ جواب دیتا:
“اے ملکہ! روئے زمین پر تم جیسی حسین کوئی نہیں!”
سال گزرتے گئے اور شہزادی گلنار چودھویں کے چاند کی مانند نکھرتی گئی۔ اس کی بڑی بڑی آنکھیں خوابیدہ جھیل کی مانند پرُسکون، رنگ دودھیا چمک دار، اور مسکراہٹ ایسی کہ ہر دل کو مسخر کر لے۔ جب ملکہ نے حسبِ معمول آئینے سے سوال کیا تو اس بار جواب مختلف تھا:
“اے ملکہ! اب زمین پر سب سے حسین شہزادی گلنار ہے!”
یہ سن کر ملکہ کا چہرہ زرد ہوگیا۔ اس کا غرور چکنا چور ہو گیا، اور حسد کی آگ میں جلتی وہ انتقام کی تدبیر سوچنے لگی۔
ملکہ نے ایک روز محل کے شکاری کو طلب کیا اور اسے حکم دیا کہ شہزادی گلنار کو جنگل میں لے جا کر ہلاک کر دے اور اس کا ثبوت لے کر آئے۔ شکاری جو اندر سے نیک دل تھا، حکم بجا لانے کے ارادے سے شہزادی کو شکار کے بہانے جنگل کی طرف لے گیا۔ جب وہ ویران گھنے جنگل میں پہنچے، تو اس نے تلوار نکال لی۔
گلنار نے جب اس کی آنکھوں میں بے چینی دیکھی تو سہم کر بولی:
“یہ کیسا کھیل ہے؟ تم مجھے کیوں مارنا چاہتے ہو؟”
شکاری نے آنکھیں جھکا کر کہا:
“اے شہزادی! میں مجبور ہوں، ملکہ نے تمہاری موت کا حکم دیا ہے۔ مگر میں اپنی روح پر یہ بوجھ نہیں لے سکتا۔ بھاگو! جتنی دور جا سکتی ہو، چلی جاؤ!”
شہزادی کے لیے یہ الفاظ بجلی سے کم نہ تھے، مگر موت کے خوف نے اس کے قدم تیز کر دیے، اور وہ جنگل میں دوڑتی چلی گئی۔ شکاری نے ایک جنگلی ہرن کا شکار کر کے اس کا خون شہزادی کی چادر پر لگا دیا اور ملکہ کے حضور پیش کر کے دعویٰ کیا کہ حکم کی تعمیل ہو گئی۔
رات کا اندھیرا چھانے لگا تھا، جنگل کی خاموشی خوفناک لگ رہی تھی۔ بھوک اور تھکن سے نڈھال شہزادی ایک پہاڑی کے دامن میں ایک ننھا سا جھونپڑا دیکھ کر وہاں جا پہنچی۔ اندر جھانکا تو گھر خالی مگر بکھرا ہوا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ اندر چلی آئی، برتنوں میں کھانے کی تھوڑی بہت باقیات دیکھیں، صفائی کا فقدان محسوس ہوا۔ شہزادی نے آستینیں چڑھائیں، گھر کو صاف کیا، برتن دھوئے اور بھوک مٹانے کے بعد ایک چھوٹے بستر پر جا لیٹی۔
رات گئے سات بونے گھر لوٹے۔ یہ جنگل میں نایاب جواہرات تلاش کرنے والے محنتی افراد تھے۔ جب انہوں نے گھر کے بدلے ہوئے نقشے کو دیکھا تو حیران رہ گئے۔ پھر جب انہوں نے بستر پر ایک نازک اندام دوشیزہ کو سوتے دیکھا، تو مزید پریشان ہو گئے۔
جب شہزادی بیدار ہوئی، تو بونوں کے چہرے دیکھ کر گھبرا گئی، مگر انہوں نے نرمی سے پوچھا کہ وہ کون ہے اور یہاں کیسے آئی؟ شہزادی نے ساری حقیقت بتائی تو بونوں نے اسے تسلی دی اور اپنے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی۔
دوسری طرف، ملکہ جب اپنی جیت کی خوشی میں دوبارہ آئینے کے سامنے آئی اور سوال دہرایا، تو آئینے نے حقیقت فاش کر دی:
“اے ملکہ! شہزادی گلنار زندہ ہے اور جنگل میں سات بونوں کے ساتھ رہ رہی ہے!”
یہ سن کر ملکہ کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ اب اسے خود کچھ کرنا تھا۔ وہ ایک سرخ سیب لائی، اس پر زہر کی باریک تہہ چڑھائی، اور ایک بڑھیا کا روپ دھار کر جنگل کی راہ لی۔
جب شہزادی اکیلی تھی، ملکہ اس کے پاس جا پہنچی اور میٹھے لہجے میں بولی:
“بیٹی، میں ایک مسافر ہوں۔ یہ دیکھو، میٹھے سیب لائی ہوں۔ ایک چکھو، تمہیں بہت پسند آئیں گے۔”
شہزادی نے پہلے انکار کیا، مگر ملکہ نے خود ایک طرف سے سیب کاٹ کر کھا لیا اور کہا:
“دیکھو، یہ زہریلا نہیں ہے۔”
شہزادی جھانسے میں آگئی۔ اس نے جونہی سیب کا دوسرا حصہ کھایا، زہر اس کے جسم میں سرایت کر گیا، اور وہ بے ہوش ہو کر زمین پر گر گئی
جب بونے لوٹے تو شہزادی کی بے جان حالت دیکھ کر آبدیدہ ہو گئے۔ مگر وہ جانتے تھے کہ اس کی خوبصورتی اور پاکیزگی کو مٹی میں ملانا مناسب نہیں۔ انہوں نے اسے ایک شیشے کے تابوت میں رکھ دیا اور ہر روز اس کے پاس آ کر بیٹھتے، امید رکھتے کہ وہ کبھی نہ کبھی بیدار ہو جائے گی۔
چند دن بعد، ایک شہزادہ وہاں سے گزرا۔ جب اس کی نظر تابوت میں پڑی، تو وہ حیرت زدہ رہ گیا۔ اس کے دل میں شہزادی کے لیے بے اختیار کشش پیدا ہوئی۔ بونوں سے اجازت لے کر، اس نے شہزادی کے قریب جا کر ایک خاص معطر روغن اس کی ناک سے لگایا۔
اچانک، شہزادی نے ایک چھینک لی اور اس کی آنکھیں کھل گئیں! بونے خوشی سے جھوم اٹھے۔ دوسری طرف، ملکہ جیسے ہی آئینے کے پاس گئی، تو اس کا چہرہ جھریوں سے بھر گیا اور وہ بوڑھی بڑھیا بن گئی۔
جب شہزادی گلنار نے حقیقت جانی، تو بونوں کے ساتھ مل کر محل کی جانب چل پڑی۔ وہاں پہنچ کر، بادشاہ کو اصل حقیقت کا علم ہوا۔ اس نے ملکہ کو قید خانے میں ڈال دیا، جہاں وہ اپنے جادو کے سائے میں ایک بے بس بوڑھی بن کر رہ گئی۔
شہزادے نے شہزادی سے نکاح کی خواہش ظاہر کی، اور بونوں کی رضا سے وہ شہرِ نُوران میں لوٹ آئی۔ شادی کی شاندار تقریب منعقد ہوئی، جس میں سات بونے مہمانِ خاص تھے۔
یوں، روشنی نے اندھیرے کو مات دے دی، اور سچائی نے ہمیشہ کے لیے فتح پائی۔
ختم شد
