بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

کسی زمانے میں ایک بادشاہ تھا جس نے دس خونخوار جنگلی کتے پال رکھے تھے۔ جب بھی کوئی وزیر یا مشیر کوئی غلطی کرتا، بادشاہ اسے ان کتوں کے آگے پھینکوا دیتا۔ کتے اس شخص کو نوچ نوچ کر مار ڈالتے۔

ایک دن بادشاہ کے ایک خاص وزیر سے ایک مشورے میں چُوک ہو گئی، جو بادشاہ کو بالکل پسند نہ آئی۔ غصے میں آ کر بادشاہ نے فیصلہ کیا کہ اس وزیر کو بھی کتوں کے آگے ڈال دیا جائے۔

وزیر نے عاجزی سے عرض کی:
“بادشاہ سلامت! میں نے دس سال تک وفاداری سے آپ کی خدمت کی ہے۔ دن رات ایک کیا ہے۔ کیا میری اتنی طویل خدمت کے بدلے میں مجھے صرف ایک موقع نہیں دیا جا سکتا؟
حکم تو آپ کا ہی چلے گا، مگر میری گزارش ہے کہ مجھے صرف دس دن کی مہلت دی جائے، اس کے بعد چاہے مجھے کتوں کے آگے ڈال دیں۔”

بادشاہ نے یہ بات سن کر دس دن کی مہلت دے دی۔

وزیر فوراً جا کر ان کتوں کے رکھوالے کے پاس گیا اور کہا:
“مجھے دس دن ان کتوں کے ساتھ گزارنے ہیں۔ میں خود ان کی دیکھ بھال کروں گا۔”

رکھوالا حیران ہوا مگر وزیر کی ضد دیکھ کر اجازت دے دی۔

ان دس دنوں میں وزیر نے کتوں کو کھلایا، پلایا، نہلایا، ان کے زخموں کی مرہم پٹی کی، ان کے ساتھ کھیلتا رہا اور ان کا پورا خیال رکھا۔

دس دن بعد بادشاہ نے وزیر کو حکم دیا کہ اسے کتوں میں پھینکا جائے۔
لیکن یہ دیکھ کر سب دنگ رہ گئے کہ کتے وزیر پر حملہ کرنے کے بجائے اس کے پیروں کو چاٹ رہے تھے، دم ہلا رہے تھے اور اس کے اردگرد گھوم رہے تھے جیسے وہ اسے پہچانتے ہوں۔

بادشاہ حیران رہ گیا۔ اس نے وزیر سے پوچھا:
“یہ کیا ماجرا ہے؟ آج تک تو یہ کتے کسی کو زندہ نہیں چھوڑتے تھے!”

وزیر نے نہایت سکون سے جواب دیا:
“بادشاہ سلامت! میں نے صرف دس دن ان کتوں کی خدمت کی، اور یہ میرے احسان کو بھولے نہیں۔
جبکہ میں نے آپ کی دس سال خدمت کی، اور آپ نے ایک غلطی پر سب کچھ بھلا دیا۔”

یہ سن کر بادشاہ کو اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا…
اور فوراً حکم دیا کہ وزیر کو مگرمچھوں کے تالاب میں پھینک دیا جائے۔

نوٹ: جب کمپنی ایک بار فیصلہ کر لے کہ آپ کو کھڈے لائن لگانا ہے، تو بس پھر لگانا ہے!

منقول

Leave a Reply

NZ's Corner