کہتے ہیں ایک راجہ کا وزیر بڑا ہو شیار اور عقلمند تھا ۔ راجہ اُس کے کاموں سے اتنا خوش تھا کہ اُس نے اُس کو وزیر اعظم بنا دیا ۔ یہ بات رانی کو بہت ناگوار گزری ۔ کیونکہ وہ اپنے بھائی کو وزیر اعظم بنانا چاہتی تھی۔ پس وہ وزیر اعظم سے حسد کرنے لگی :
۔ ایک دن رانی نے راجہ سے کہا ۔ مہاراج ! آپ کا مزاج بھی دنیا سے نرالا ہے جس سے ذرا خوش ہوئے اُسی کو سر پر چڑھا لیا ۔ بھلا اس آدمی کے کون سے سرخاب کے پر لگے تھے کہ آپ نے اُسے وزیر اعظم بنا دیا اور میرے بھائی کے حقوق کا ذرا بھر خیال نہ کیا ۔ ایسا کونسا کام ہے جو یہ کر سکتا ہے۔ اور میرا بھائی نہیں کر سکتا ؟
راجہ نے کہا کہ یہ شخص بڑا عقلمند اور دور اندیش ہے ۔ اس کی قابلیت کو کوئی نہیں پہنچ سکتا ۔ لیکن رانی نے راجہ کے کہنے
کی مطلق پروا نہ کی اور بولی کہ اگر آپ کو میرے بھائی کی قابلیت میں کچھ شک و شبہ ہے ۔ تو اُس کا وزیر اعظم سے مقابلہ کر کے اپنی تسلی کر لیجئے ۔ جو شخص زیادہ قابل نکلے اسی کو یہ عہدہ دیجئے ، راجہ نے رانی کی بات منظور کر لی :
اتفاق سے ایک دن راجہ کے ننھے بچے نے کھیلتے کھیلتے راجہ کے لات مار دی اور اُس کے منہ پر تھوک دیا۔ پس راجہ نے وزیر اعظم اور اپنے سالے کی قابلیت معلوم کرنے کے لئے یہ موقع اچھا سمجھا۔ اُس نے دوسرے دن صبح ہی رانی کے بھائی کو بلا بھیجا اور رانی کی موجودگی ہی میں اس سے کہا ۔ کہ جو شخص بادشاہ کے لات مارے اور اس کے منہ پر تھوکے اس کو کیا سزا ملنی چاہئے ۔ کل ایک شخص نے میرے لات ماری ہے اور میرے منہ پر تھوکا ہے۔ اسے کیا سزا دی جائے۔ رانی کے بھائی نے بلا تامل جواب دیا کہ ایسے پاجی بے ایمان کی ٹانگیں کٹوا دینی چاہئیں۔ اور پگھلا ہوا سیسہ اُس کے منہ میں ڈال دینا چاہئے ۔
یہ سن کر راجہ نے اسے رخصت کیا اور وزیر اعظم کو بلوایا۔ اس سے بھی اُس نے وہی سوال کیا ۔ جو رانی کے بھائی سے
کیا تھا ۔ وزیر اعظم قہقہہ مار کر ہنس پڑا اور جواب دیا کہ مہاراج ایسے شخص کے پاؤں میں سونے کی پازیبیں پہنانی چاہئیں ۔ اور منہ کو پیار سے چوم لینا چاہئے ۔
اب راجہ نے رانی سے کہا کہ کل تمہارے لڑکے نے میرے منہ پر تھوکا تھا۔ اور میرے لات ماری تھی ۔ میں نے تمہارے بھائی اور وزیر اعظم دونوں سے علیحدہ علیحدہ طور پر مناسب سزا کا مشورہ کیا۔ تم نے دونوں قسم کی سزائیں سن لی ہیں ۔ اب یہ تم خود ہی فیصلہ کر دو کہ اپنے بھائی کی تجویز کی ہوئی سزا اپنے پیارے بچے کو دینا چاہتی ہو یا وزیر اعظم کی تجویز کی ہوئی سزا دینا چاہتی ہو
رانی راجہ کی بات سن کر لا جواب ہو گئی ۔ اس نے اپنے دل ہی دل میں وزیر اعظم کی عقلمندی اور دور اندیشی کی تعریف کی اور سمجھ گئی ۔ کہ راجہ نے وزیر اعظم کا عہدہ بہت سوچ سمجھ کر اس شخص کو دیا ہے ۔ واقعی یہ اسی قابل ہے ۔ میرا بھائی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا :
