تپتے ہوئے صحرا کے کنارے ایک مسافر چلا جا رہا تھا۔ سورج آگ برسا رہا تھا، ریت کے ذرے انگاروں کی طرح جل رہے تھے، اور اس کے ہونٹ پیاس سے پھٹنے لگے تھے۔
اس کے قدم لڑکھڑا رہے تھے، مگر منزل کی دھن اس کے سر پر سوار تھی۔
کچھ دور چلنے کے بعد اسے ایک صاف و شفاف چشمہ دکھائی دیا۔ پانی دھیرے دھیرے بہہ رہا تھا، جیسے کسی بانسری سے مدھر دھن نکل رہی ہو۔ اس کے کنارے سبز گھاس تھی اور ہوا میں تازگی کی خوشبو گھلی ہوئی تھی۔
پانی نے اپنی خاموش زبان میں پکارا:
“اے مسافر! رک جا، ایک گھونٹ پی لے۔ تیری تھکن بھی اتر جائے گی اور پیاس بھی بجھ جائے گی۔”
مسافر نے چشمے کی طرف دیکھا، مگر پھر اپنی راہ پر نظریں جما لیں۔
وہ بولا:
“ابھی نہیں۔ میرے پاس وقت نہیں۔ منزل بہت دور ہے، میں رک نہیں سکتا۔”
پانی خاموش ہو گیا۔
مسافر آگے بڑھتا رہا۔
سورج مزید بلند ہوتا گیا، گرمی اور شدت اختیار کرتی گئی۔ پیاس نے اس کے گلے کو کانٹوں کی طرح چبھونا شروع کر دیا، مگر وہ خود کو تسلی دیتا رہا:
“بس تھوڑا اور… پھر آرام کر لوں گا۔”
مگر زندگی ہمیشہ انسان کی منصوبہ بندی کے مطابق نہیں چلتی۔
کچھ ہی فاصلے پر اس کے قدم جواب دے گئے۔ وہ ریت پر بیٹھ گیا۔ اب اس کی سانسیں بھاری تھیں اور نگاہ دھندلانے لگی تھی۔
اسے اچانک وہ چشمہ یاد آیا۔
وہ ٹھنڈا پانی…
وہ سبز کنارا…
وہ خاموش دعوت…
اس نے حسرت سے آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا:
“کاش میں رک گیا ہوتا۔”
مگر چشمہ اب بہت پیچھے رہ گیا تھا۔
ہوا نے ریت اڑائی اور جیسے اس کے کان میں سرگوشی کی:
“بعض نعمتیں دوبارہ نہیں ملتیں۔”
زندگی بھی ایک چشمے کی مانند ہے۔
صحت، محبت، والدین کی موجودگی، دوستوں کی قربت، عبادت کے لمحات اور خوشیوں کے چھوٹے چھوٹے مواقع… یہ سب راستے میں ملنے والے وہ چشمے ہیں جو خاموشی سے کہتے ہیں:
“رک جا، ہمیں محسوس کر لے۔”
مگر انسان اکثر جواب دیتا ہے:
“ابھی وقت نہیں۔”
اور پھر ایک دن وقت گزر جاتا ہے، نعمتیں پیچھے رہ جاتی ہیں، اور دل صرف ایک جملہ دہراتا ہے:
“کاش میں نے اس وقت کی قدر کر لی ہوتی۔”
کیونکہ بعض اوقات پیاس انسان کو نہیں مارتے، بلکہ وہ لمحے مار دیتے ہیں جن میں پانی سامنے موجود تھا اور انسان نے پینے کے لیے وقت نہ نکالا۔
