کہتے ہیں ایک بادشاہ تھا جس کے محل کی دیواریں آسمان سے باتیں کرتی تھیں۔ اس کے خزانے سونے سے بھرے تھے، اس کی فوجیں ہزاروں میں تھیں، اور اس کے دربار میں خوشامد کرنے والوں کی کبھی کمی نہ تھی۔
مگر محل کی دیواروں سے ذرا باہر نکلو…
کہیں ایک ماں اپنے بچے کو بھوک سے بہلا رہی تھی، کہیں ایک بوڑھا دوا نہ ہونے کی وجہ سے آہستہ آہستہ مر رہا تھا، کہیں نوجوان امید کھو چکے تھے، اور کہیں انصاف صرف کتابوں میں زندہ تھا۔
ایک دن ایک درویش دربار میں آیا۔
بادشاہ نے فخر سے پوچھا:
“بتاؤ، میری سلطنت کتنی مضبوط ہے؟”
درویش نے کھڑکی سے باہر دیکھا، پھر بادشاہ کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا:
“جہاں محل محفوظ ہوں مگر عوام خوف میں جئیں، وہاں سلطنت نہیں، صرف خاموش چیخیں آباد ہوتی ہیں۔”
بادشاہ ہنس پڑا۔
کہنے لگا:
“میرے پاس خزانہ بھی ہے، فوج بھی، اختیار بھی… مجھے کون ہلا سکتا ہے؟”
درویش نے زمین سے ایک سوکھی جڑ اٹھائی اور کہا:
“بادشاہ سلامت! درخت کو آندھی نہیں گراتی، جڑوں کا سوکھ جانا گراتا ہے۔ قوم کی جڑ عوام ہوتے ہیں، اگر وہ کمزور ہو جائیں تو تخت زیادہ دیر قائم نہیں رہتے۔”
وقت گزرتا گیا…
محل مزید چمکتے گئے، مگر لوگوں کی آنکھوں کی روشنی مدھم ہوتی گئی۔ بازار بھر گئے، مگر گھروں سے سکون اٹھ گیا۔ قانون بڑھتا گیا، انصاف گھٹتا گیا۔
پھر ایک دن تاریخ نے خاموشی سے اپنا فیصلہ سنا دیا۔
محل باقی رہے، مگر سلطنت بکھر گئی۔
کیونکہ کوئی بھی حکومت توپوں، خزانوں یا دیواروں سے نہیں، عوام کے اعتماد سے کھڑی رہتی ہے۔
یہ صرف ایک پرانی کہانی نہیں…
یہ ہر دور کا آئینہ ہے۔
جب حکمران خدمت کو حق سمجھنے لگیں، جب چاپلوسی سچ سے زیادہ قیمتی ہو جائے، جب کمزور کی فریاد طاقتور کے شور میں دب جائے، تو زوال دروازہ نہیں کھٹکھٹاتا، وہ خاموشی سے گھر کے اندر داخل ہو چکا ہوتا ہے۔
اس لیے اپنے بچوں کے لیے صرف سڑکیں، پل اور عمارتیں نہ چھوڑو…
ایسا معاشرہ چھوڑو جہاں انصاف طاقت سے بڑا ہو، امانت دولت سے بڑی ہو، اور انسان کی عزت ہر کرسی سے بلند ہو۔
یاد رکھو…
تاریخ تاج نہیں گنتی، کردار گنتی ہے۔ اور جو حکمران عوام کے دل ہار دے، وہ چاہے کتنے ہی محل بنا لے، وقت اسے عبرت کی داستان بنا دیتا ہے۔
