ایک زمانے کی بات ہے۔
ایک عظیم سلطنت کا بادشاہ اپنی شان و شوکت، دولت اور اقتدار کے باعث دور دور تک مشہور تھا۔ اس کے محل کے مینار بادلوں سے باتیں کرتے تھے، اس کے خزانوں میں سونا چاندی یوں بھرا تھا جیسے سمندر میں پانی، اور اس کے حکم پر ہزاروں سپاہی سر جھکائے کھڑے رہتے تھے۔
مگر ایک چیز تھی جو اس کے پاس نہیں تھی۔
سننے والا کوئی نہ تھا۔
ہر صبح دربار سجتا۔
وزیر آتے، مشیر آتے، درباری آتے۔
بادشاہ بولتا، سب سر ہلاتے۔
بادشاہ ہنستا، سب ہنستے۔
بادشاہ ناراض ہوتا، سب خاموش ہو جاتے۔
مگر ان میں سے کوئی ایسا نہ تھا جو واقعی اس کی بات سنتا۔
سب صرف اس کی آواز سنتے تھے، اس کے دل کی دھڑکن نہیں۔
وقت گزرتا گیا۔
ایک رات بادشاہ محل کی چھت پر اکیلا بیٹھا تھا۔ آسمان پر چاند اپنی چاندنی بکھیر رہا تھا، مگر اس کے دل میں اندھیرا تھا۔
اس نے آہ بھری اور خود سے کہا:
“میرے پاس سب کچھ ہے، مگر جب میں کچھ کہنا چاہتا ہوں تو سننے والا کوئی نہیں۔”
اتفاق سے وہ بات ایک بوڑھے مالی نے سن لی جو باغ میں پودوں کو پانی دے رہا تھا۔
مالی نے ادب سے سر جھکا کر کہا:
“حضور، اگر اجازت ہو تو ایک بات عرض کروں؟”
بادشاہ نے حیرت سے پوچھا:
“کہو۔”
مالی بولا:
“آپ کے پاس بہت سے لوگ ہیں جو آپ کی بات مانتے ہیں، مگر شاید کوئی ایسا نہیں جسے آپ نے اپنی بات سننے کا حق دیا ہو۔”
بادشاہ چونک گیا۔
“اس میں کیا فرق ہے؟”
مالی مسکرایا۔
“فرق بہت بڑا ہے، حضور۔ حکم ماننے والے کان رکھتے ہیں، دل نہیں۔ سننے والے دل رکھتے ہیں، خوف نہیں۔”
یہ سن کر بادشاہ خاموش ہو گیا۔
اس رات وہ دیر تک جاگتا رہا۔
پہلی بار اسے احساس ہوا کہ اقتدار لوگوں کو قریب تو لا سکتا ہے، مگر دلوں کو قریب نہیں لا سکتا۔
اگلے دن اس نے ایک عجیب حکم جاری کیا۔
اس نے دربار میں اعلان کیا:
“آج کوئی میری تعریف نہیں کرے گا، کوئی میری ہاں میں ہاں نہیں ملائے گا۔ میں صرف سچ سننا چاہتا ہوں۔”
دربار پر سناٹا چھا گیا۔
کسی کو بولنے کی ہمت نہ ہوئی۔
آخر وہی بوڑھا مالی آگے بڑھا۔
اس نے کہا:
“بادشاہ سلامت! آپ ہمیشہ بولتے رہے، مگر کبھی یہ نہ پوچھا کہ دوسروں کے دل میں کیا ہے۔ جو صرف اپنی بات سنانا چاہے، ایک دن اس کے پاس سننے والا کوئی نہیں بچتا۔”
یہ الفاظ تیر کی طرح بادشاہ کے دل میں اتر گئے۔
اس دن کے بعد اس نے بولنے سے زیادہ سننا شروع کیا۔
لوگوں کے دکھ سنے، ان کی امیدیں سنیں، ان کی شکایتیں سنیں۔
اور عجیب بات یہ ہوئی کہ جوں جوں وہ دوسروں کو سننے لگا، لوگ بھی اسے دل سے سننے لگے۔
اب جب بادشاہ کچھ کہتا، تو دربار صرف خاموشی سے سر نہیں ہلاتا تھا؛ لوگ اس کی بات کو سمجھتے بھی تھے۔
کیونکہ اب الفاظ تخت سے نہیں، دل سے نکلتے تھے۔
سبق
دنیا میں بولنے والے بہت ہیں، سننے والے کم۔
اور جو شخص صرف اپنی آواز کا عادی ہو جائے، وہ ایک دن ہجوم میں بھی تنہا رہ جاتا ہے۔
سننا ایک فن ہے، اور سنا جانا ایک نعمت۔
“لوگ ہمیشہ اس شخص کی بات سنتے ہیں جو پہلے ان کی بات سننے کا حوصلہ رکھتا ہو۔”
بادشاہ کے پاس سلطنت تھی، مگر جب تک وہ سننا نہ سیکھا، اس کے پاس کوئی اپنا نہ تھا۔
#منقول
