ہسپانیہ کے ایک قدیم گاؤں میں، جہاں پتھروں سے بنی گلیاں دوپہر کی دھوپ میں چمکتی تھیں اور سرخ چھتوں پر کبوتر منڈلاتے رہتے تھے، ایک پرانا اناج گھر تھا۔ اس اناج گھر میں ایک نہایت چالاک چوہا رہتا تھا، جو بلیوں کے لیے کسی معمہ سے کم نہ تھا۔
ایک دن وہ چوہا حسبِ معمول دانے چراتا ہوا نکلا ہی تھا کہ دو بلیوں کی نگاہ اس پر پڑ گئی۔
ایک بلی جوان، پھرتیلی اور کچھ حد تک جلدباز تھی۔
دوسری عمر میں ذرا بڑی، سنجیدہ اور تجربہ کار تھی۔
چوہے نے دونوں کو اپنی طرف لپکتے دیکھا تو بجلی کی سی تیزی سے دوڑا اور ایک تنگ سے بل میں گھس گیا۔
دونوں بلیاں بل کے دہانے پر آ کر رک گئیں۔
پہلی بلی نے اپنی مونچھیں ہلاتے ہوئے کہا:
“فکر کی کوئی بات نہیں! میں ابھی اندر جا کر اسے پکڑ لیتی ہوں۔”
دوسری بلی نے بل کا جائزہ لیا اور آہستہ سے بولی:
“یہ بل بہت تنگ ہے۔ تم اندر جاؤ گی تو پھنس جاؤ گی۔”
مگر پہلی بلی کو اپنی پھرتی پر بڑا ناز تھا۔
اس نے ناک سکوڑی اور کہا:
“تم ڈرتی ہو، اس لیے ایسا کہہ رہی ہو۔”
یہ کہہ کر وہ بل میں گھسنے لگی۔
پہلے سر اندر گیا، پھر کندھے، مگر کچھ ہی لمحوں بعد…
وہ درمیان میں جا کر اٹک گئی۔
نہ آگے جا سکتی تھی، نہ پیچھے آ سکتی تھی۔
دوسری بلی نے سر ہلاتے ہوئے کہا:
“میں نے پہلے ہی کہا تھا۔”
پہلی بلی جھنجھلا کر بولی:
“اب نصیحتیں بند کرو اور مجھے نکالو!”
اسی دوران بل کے اندر بیٹھا چوہا یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا۔
اس نے مسکراتے ہوئے بل کے دوسرے سرے کا راستہ اختیار کیا اور خاموشی سے باہر نکل کر کھیتوں کی طرف دوڑ گیا۔
جب تک بلیوں کو خبر ہوئی، وہ نظروں سے اوجھل ہو چکا تھا۔
اب سارا مسئلہ چوہا نہیں، پھنسی ہوئی بلی تھی۔
دوسری بلی نے کافی کوشش کے بعد اپنے پنجوں سے مٹی ہٹائی، زور لگایا اور بڑی مشکل سے اپنی ساتھی کو بل سے باہر نکالا۔
پہلی بلی باہر آتے ہی غصے سے بولی:
“چوہا تمہاری وجہ سے بچ گیا! اگر تم میری مدد کرتی تو میں اسے پکڑ لیتی۔”
دوسری بلی نے تحمل سے اپنی مونچھیں درست کیں اور جواب دیا:
“میں نے تمہیں روکا بھی تھا، سمجھایا بھی تھا، اور آخر میں نکالا بھی۔ چوہا میری وجہ سے نہیں، تمہاری جلدبازی کی وجہ سے بچا ہے۔”
پہلی بلی خاموش ہو گئی۔
اب اس کے پاس کہنے کو کچھ نہ تھا۔
دور کہیں کھیتوں میں وہ چوہا اپنی کامیابی کا جشن منا رہا تھا، اور اناج گھر کی دیوار پر بیٹھا سورج ڈھلتی روشنی میں جیسے مسکرا رہا تھا۔
سبق
بعض اوقات مسئلہ حل کرنے کی جلدی، مسئلے سے بڑی مصیبت پیدا کر دیتی ہے۔ جو شخص سوچے بغیر تنگ راستوں میں گھس جاتا ہے، وہ خود پھنس جاتا ہے اور مقصد بھی ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔
🐱🐭✨
اور ایک ہلکے پھلکے انداز میں:
“چوہے کو پکڑنے کے شوق میں اگر خود بل میں پھنس جاؤ، تو یاد رکھو چوہا شاید تم سے زیادہ سمجھدار نکلا!” 😄🌾🐾
#منقول
