بلاعنوان

بلاعنوان

نظیر بھائی کا ریاضی یعنی میتھس کا ٹیسٹ تھا، جس کی اس نے ایک لفظ بھی تیاری نہیں کی تھی۔ 😬💁‍♂️

صبح اٹھتے ھی اسے بخار کا بہانہ سوجھا، پھر پیٹ درد کا، لیکن جب امی نے عرقِ گلاب اور کڑوی دوا نکال لی تو نظیر بھائی نے پینترا بدلا۔ 🤮🙅‍♂️

اس نے سوچا کہ کوئی ایسا بڑا بہانہ ھونا چاہیے کہ ٹیچر اسے اگلے ایک ہفتے تک فون بھی نہ کریں۔ 🤓🤔

اس نے بڑی سنجیدگی سے ایک خط لکھا:

محترمہ ٹیچر صاحبہ! بڑے افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ھے کہ آپ کا پیارا اور ذہین طالب علم نظیر احمد آج صبح اس دنیا سے رخصت ھو گیا ھے، لہٰذا وہ آج ٹیسٹ دینے نہیں آ سکے گا۔

نیچے اس نے اپنے ابو کے جلی حروف میں دستخط بھی کر دیے۔ اس نے یہ خط اسکول کے چوکیدار کے ہاتھ پرنسپل کے آفس بھجوا دیا اور خود سکون سے چادر تان کر سو گیا کہ اب تو ہفتہ بھر کی چھٹی پکی ھے! 😁😂

نظیر بھائی ابھی خوابِ خرگوش کے مزے لے ھی رہا تھا کہ اچانک اس کے گھر کے باہر ایمبولینس کے سائرن، لوگوں کے رونے دھونے کی آوازیں آنے لگیں…

ھُوا یہ کہ پرنسپل صاحبہ نے خط پڑھتے ھی اسکول میں سوگ کا اعلان کر دیا، آدھے اسکول کی چھٹی کر دی اور تمام اساتذہ، کلاس فیلوز اور محلے کے قاری صاحب کو لے کر جنازے میں شرکت کے لیے نظیر بھائی کے گھر پہنچ گئیں۔ 😆😂

نظیر بھائی کے ابو، جو باہر صحن میں اطمینان سے اخبار پڑھ رھے تھے، جب انہوں نے دیکھا کہ پورا اسکول ان کے گھر روتا ھوا گھس رہا ھے اور قاری صاحب نظیر بھائی کی مغفرت کی دعائیں مانگ رھے ھیں، تو ان کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔

ابھی وہ کچھ پوچھتے، پرنسپل صاحبہ نے روتے ھوئے وہ خط ابو کے ہاتھ میں تھما دیا۔ ابو نے جیسے ھی نظیر بھائی کی لکھائی پہچانی، ان کا پارہ 100 ڈگری پر پہنچ گیا۔ وہ سیدھے کمرے میں گئے اور نظیر بھائی کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ھوئے تمام سوگواروں کے سامنے لے آئے اور بولے:

یہ رہا میرا مرحوم بیٹا!
قاری صاحب! ذرا اس کی غائبانہ نمازِ جنازہ کے بجائے حاضرانہ چھترول کا بندوبست کرتے ھیں۔ 😡🤣🤣

Leave a Reply

NZ's Corner