بلاعنوان

بلاعنوان

بشار بن برد کا ایک گدھا مر گیا تو اس نے کہا:
’’میرا گدھا قاضیوں سے بھی زیادہ سمجھ دار تھا؛ نہ اس سے کبھی کوئی لغزش ہوئی اور نہ کوئی خطا۔ اچانک، جب کہ کسی کو اس کے بیمار ہونے کا گمان بھی نہ تھا، وہ بیمار پڑا اور مر گیا۔پھر میں نے اسے خواب میں دیکھا تو اس سے کہا: کیا میں تیرے لیے جو صاف نہ کیا کرتا تھا؟ اور تیرے لیے پانی ٹھنڈا نہیں کرتا تھا؟ پھر تیری موت کا سبب کیا ہوا؟

اس نے کہا: کیا تمہیں یاد ہے جب تم مجھے دوا فروش، یعنی عطار، کے پاس لے کر کھڑے ہوئے تھے؟
میں نے کہا: ہاں۔
اس نے کہا: اسی وقت ایک گدھی وہاں سے گزری، تو میں اس پر فریفتہ ہوگیا اور اس کی محبت میں مر گیا۔
بشار نے کہا: میں نے اس سے پوچھا: کیا تم نے اس بارے میں کچھ شعر بھی کہے تھے؟
اس نے کہا: ہاں۔ پھر اس نے یہ اشعار پڑھے:

میرا دل اس گدھی پر فریفتہ ہوگیا
جو عطار کی دکان کے دروازے پر تھی۔

جس دن ہم وہاں سے گزرے،
اس نے اپنے خوب صورت دانتوں سے مجھے اپنا دیوانہ بنا لیا۔

وہ ناز و ادا والی تھی،
جس کی محبت نے میرے جسم کو گھلا کر رکھ دیا۔

اس کا رخسار نرم و ہموار تھا،
بالکل ’’شیفران‘‘ کے رخسار کی مانند۔

میں اسی کی محبت میں مر گیا،
اور اگر زندہ بھی رہتا تو اسی ذلت میں مبتلا رہتا۔

پھر بشار سے پوچھا گیا: ’’شیفران‘‘ کیا چیز ہے؟

اس نے کہا: یہ گدھوں کی عجیب و غریب زبان کا ایک لفظ ہے؛
جب تمہاری کسی گدھے سے ملاقات ہو تو اس سے پوچھ لینا۔‘‘😏

Leave a Reply

NZ's Corner