بلاعنوان  

    بلاعنوان  

ایک بادشاہ نے اپنے وزیر سے پوچھا:   
’’انسان زندگی میں سب سے زیادہ پریشان کب ہوتا ہے؟‘‘
وزیر نے جواب دیا:
’’حضور! جب وہ اُن چیزوں کو بھی اپنے قابو میں رکھنے کی کوشش کرتا ہے جو اس کے اختیار میں نہیں ہوتیں اور اللہ کی لکھی ہوئی تقدیر پر راضی نہیں ہوتا۔‘‘
بادشاہ کو یہ جواب پسند نہ آیا۔ اس نے وزیر کو حکم دیا کہ وہ سات دن کے اندر اس بات کو عملی طور پر ثابت کرے۔
وزیر بادشاہ کو شہر سے باہر ایک دریا کے کنارے لے گیا۔ وہاں ایک شخص دریا کے تیز بہاؤ کے خلاف زبردستی کشتی چلانے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ جتنا زور لگاتا، کشتی اتنی ہی پیچھے چلی جاتی اور وہ تھک کر نڈھال ہو رہا تھا۔
وزیر نے بادشاہ سے پوچھا: ’’حضور! یہ شخص کیا کر رہا ہے؟‘‘
بادشاہ نے کہا: ’’یہ بیوقوف ہے، یہ دریا کے بہاؤ کے خلاف لڑ رہا ہے، اسی لیے آگے نہیں بڑھ پا رہا اور خود کو تھکا رہا ہے۔‘‘
وزیر مسکرایا اور بولا: ’’حضور! بالکل یہی حال انسان کا اپنی زندگی میں ہے۔ وہ گزرے ہوئے وقت کو بدلنا چاہتا ہے، لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ زبردستی بنانا چاہتا ہے، دوسروں کے فیصلوں کو اپنی مرضی کے مطابق کرنا چاہتا ہے اور ہر آنے والے کل کی فکر میں آج کا سکون بھی کھو دیتا ہے۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ کائنات کا ایک نظام ہے جو اللہ کے حکم سے چل رہا ہے۔ جیسے قرآن پاک میں سورۃ الحدید میں ارشاد ہے:**
’’کوئی مصیبت زمین میں پہنچتی ہے اور نہ تمہاری جانوں میں، مگر اس سے پہلے کہ ہم اسے پیدا کریں ایک کتاب (لوحِ محفوظ) میں درج ہے۔ بے شک یہ اللہ پر آسان ہے۔ تا کہ جو کچھ تم سے جاتا رہے اس پر تم غم نہ کرو۔‘‘ (سورۃ الحدید: 22-23)
بادشاہ یہ سن کر خاموش ہو گیا۔
وزیر نے بات جاری رکھی: ’’حضور! دریا کا بہاؤ روکنا ہمارے اختیار میں نہیں، مگر اپنی کشتی کو درست سمت میں چلانا اور چپو چلانا ہمارے اختیار میں ضرور ہے۔ اسلام ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ تدبیر اور کوشش انسان کے ذمہ ہے، لیکن نتیجہ اللہ پر چھوڑ دینا چاہیے۔ بالکل اسی طرح جیسے اللہ کے نبی ﷺ نے اونٹ والے کو فرمایا تھا:**
’’پہلے اپنے اونٹ کو (رسی سے) باندھو، پھر اللہ پر توکل (بھروسہ) کرو۔‘‘ (جامع الترمذی)
پھر وزیر نے کہا: ’’حضور! کسی کا رویہ بدلنا ہمارے بس میں نہیں، مگر اپنے کردار کو بہتر بنانا ہمارے ہاتھ میں ہے۔ گزرے ہوئے کل کو واپس لانا ممکن نہیں، مگر آج کو بہتر بنانا ممکن ہے۔ مستقبل کی ہر مشکل کو روکنا ہمارے اختیار میں نہیں، مگر اس کے لیے تیاری کرنا ممکن ہے۔ جب انسان اپنی حد پہچان لیتا ہے تو وہ سکون پا جاتا ہے۔‘‘
بادشاہ نے ایک گہری سانس لی اور کہا: ’’آج مجھے سمجھ آیا کہ انسان اپنی آدھی زندگی اُن چیزوں سے لڑتے ہوئے گزار دیتا ہے جنہیں وہ کبھی بدل ہی نہیں سکتا۔‘‘

زندگی کا ایک خوب صورت اسلامی اصول یاد رکھیے!

زندگی میں سکون کا اصل راز “رضا بالرضا” (اللہ کے فیصلے پر راضی ہو جانے) میں ہے۔
• جو مل جائے، اس پر شکر کریں: کیونکہ اللہ کا وعدہ ہے: ’’اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔‘‘ (سورۃ ابراہیم: 7)
• جو نہ ملے یا تکلیف آئے، اس پر صبر کریں: کیونکہ مومن کا ہر حال میں فائدہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اگر مومن کو کوئی خوشی پہنچے اور وہ شکر کرے تو اس میں اس کا بھلا ہے، اور اگر نقصان پہنچے اور وہ صبر کرے تو اس میں بھی اس کا بھلا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم)
• جو بچھڑ جائے، اسے جانے دیں: اور جو آپ کے اختیار میں نہیں، اس کا فیصلہ وقت اور اللہ کی حکمت پر چھوڑ دیں کیونکہ: ’’جو اللہ پر بھروسہ کرے، تو اللہ اس کے لیے کافی ہے۔‘‘ (سورۃ الطلاق: 3)
سکون سب کچھ اپنے قابو (Control) میں کر لینے کا نام نہیں، بلکہ جو چیزیں آپ کے اختیار میں نہیں، انہیں اللہ کے سپرد کر دینے کا نام ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner