ایک دن شیخ چلی نے سوچا کہ اب وہ بہت عقل مند ہو گئے ہیں اور کوئی بھی انہیں بیوقوف نہیں بنا سکتا۔
اسی دوران گاؤں کے ایک آدمی نے مذاق میں کہا: “شیخ چلی! اگر تم سارا دن خاموش رہو تو میں تمہیں دس روپے دوں گا۔”
دس روپے سن کر شیخ چلی فوراً مان گئے۔ انہوں نے دل میں کہا: “واہ! بغیر کچھ کیے دس روپے مل جائیں گے!”
صبح سے شام تک وہ خاموش رہے۔ لوگ انہیں چھیڑتے، سوال پوچھتے، ہنساتے، مگر وہ ایک لفظ نہ بولتے۔
دوپہر کو ان کی والدہ نے پوچھا: “بیٹا، کھانا کھاؤ گے؟”
شیخ چلی خاموش۔
دوستوں نے کہا: “شیخ چلی! تمہارے گھر کے پیچھے بندر ناچ رہا ہے!”
مگر وہ پھر بھی خاموش رہے۔
شام کے وقت وہ آدمی آیا اور بولا: “شاباش شیخ چلی! تم واقعی خاموش رہے۔ یہ لو تمہارے دس روپے۔”
شیخ چلی خوشی سے اچھل پڑے اور بولے: “دیکھا! میں جیت گیا!”
آدمی ہنسنے لگا اور بولا: “ارے شیخ چلی، شرط تو یہ تھی کہ شام تک بالکل نہ بولنا۔ تم آخری لمحے بول پڑے، اب روپے نہیں ملیں گے!”
یہ سن کر شیخ چلی اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئے، جبکہ پورا گاؤں ہنسنے لگا۔
سبق:
کبھی کبھی تھوڑا سا صبر آخر تک کامیابی دلاتا ہے۔
منقول۔
