“ایک دیہاتی کا گدھا بیمار ہو گیا اور وہ کھانا پینا چھوڑ کر سست بیٹھ گیا۔ دیہاتی پریشان ہو کر اسے گاؤں کے ایک دیسی حکیم صاحب کے پاس لے گیا۔
حکیم صاحب نے گدھے کا معائنہ کیا، پھر ایک لمبی سی نالی (پائپ) نکالی۔ انہوں نے نالی کا ایک سرہ گدھے کے منہ میں ڈالا، دوسری طرف ایک بڑی سی گولی رکھی اور دیہاتی سے کہا: ‘جیسے ہی میں اشارہ کروں، تم نالی کے اس سرے پر زور سے پھونک مارنا، تاکہ گولی گدھے کے گلے سے نیچے اتر جائے۔’
دیہاتی نے کہا: ‘جی بہتر حکیم صاحب!’
حکیم صاحب نے پائپ منہ میں لیا اور ابھی پوزیشن سنبھال کر اشارہ کرنے ہی والے تھے کہ… گدھے کو اچانک زور دار کھانسی آ گئی!
گدھے کی کھانسی کے دباؤ سے پائپ کے اندر موجود وہ بڑی سی کڑوی گولی سیدھی حکیم صاحب کے حلق میں چلی گئی اور انہوں نے فوراً اسے نگل لیا! حکیم صاحب کا منہ کڑوا ہو گیا، آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور وہ کھانسنے لگے۔
دیہاتی نے معصومیت سے پوچھا: ‘حکیم صاحب! اب میں پھونک ماروں؟’
حکیم صاحب نے روتے ہوئے غصے سے کہا: ‘اب پھونک مارنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے! علاج پورا ہو چکا ہے، بس اب دعا کرو کہ تمہارا گدھا کل صبح تک ٹھیک ہو جائے، ورنہ میں تو اگلی چند گھڑیوں کا مہمان ہوں!’
یاد رکھیں… زندگی میں دوسروں کے لیے کوئی بھی منصوبہ بناتے وقت احتیاط لازمی ہے، کیونکہ کبھی کبھی سامنے والے کی ایک چھوٹی سی حرکت آپ کا پورا پلان آپ پر ہی الٹا پھیر دیتی ہے!”
