بلاعنوان

بلاعنوان

پرانے زمانے کی بات ہے کہ ایک شخص اپنی بستی میں محبت کرنے والے انسان کے طور پر جانا جاتا تھا۔ اس کی دنیا بہت چھوٹی تھی، مگر اسی چھوٹی سی دنیا میں اس کے لیے سب کچھ موجود تھا۔ ایک بیوی، دو بچے، ایک چھوٹا سا گھر، اور ان سب کے لیے دھڑکتا ہوا اس کا دل۔

وہ صبح سویرے کام پر نکلتا، شام کو تھکا ہارا واپس آتا، مگر جیسے ہی بچے دوڑ کر اس سے لپٹتے، اس کی ساری تھکن غائب ہو جاتی۔ وہ اکثر لوگوں سے کہا کرتا تھا:

“میری جنت یہی ہیں، اگر یہ خوش ہیں تو مجھے اور کچھ نہیں چاہیے۔”

وہ اپنے بچوں کے لیے نئے کپڑے لاتا، بیوی کی چھوٹی چھوٹی خواہشیں پوری کرتا، اور ان کے آرام کے لیے اپنی ہر خواہش قربان کر دیتا۔ مگر ایک چیز تھی… جسے وہ ہمیشہ ٹالتا رہتا تھا۔

اپنے رب کو۔

نماز اس کے لیے “وقت ملنے پر” تھی۔ عبادت “بڑھاپے کا کام” تھی۔ اور دین، صرف جمعے یا جنازوں تک محدود تھا۔

ایک دن وہ شہر سے واپس آ رہا تھا کہ راستے میں چند تبلیغی جماعت والے مل گئے۔ ان کے چہروں پر عجیب سا سکون تھا۔

انہوں نے محبت سے کہا:

“بھائی، مسجد ہمارے ساتھ چلیں، نماز کا وقت ہو گیا ہے۔”

وہ ہلکا سا مسکرایا، مگر اس مسکراہٹ میں بے نیازی تھی۔

“بھائی، میرے بچے میرا انتظار کر رہے ہوں گے، میری عبادت یہی ہیں۔”

ایک بزرگ نے نرمی سے کہا:

“بچے نعمت ہوتے ہیں، مگر نعمت کو نعمت دینے والے سے زیادہ اہم نہیں بنایا جاتا۔”

اس نے بات سنی، مگر دل تک نہ جانے دی۔

“اللہ معاف کرے، ابھی میرے پاس بہت ذمہ داریاں ہیں، عبادت کے لیے پوری زندگی پڑی ہے۔”

اور وہ وہاں سے چلا گیا۔

وقت گزرتا رہا۔

پھر ایک دن،
وہ حسبِ معمول کام سے واپس آ رہا تھا۔ شام ڈھل رہی تھی، اور اس کے ذہن میں ہمیشہ کی طرح اپنے بچوں کے چہرے تھے۔ وہ راستے بھر یہی سوچ رہا تھا کہ آج گھر جا کر بچوں کے لیے کیا لے کر جائے گا، بیوی سے کیا باتیں کرے گا، اور رات کو سب اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھائیں گے۔

مگر قسمت اس دن خاموشی سے اس کے لیے کچھ اور لکھ چکی تھی۔

راستے میں چند مسلح آدمیوں نے اسے روک لیا۔

پہلے اسے لگا شاید عام ڈاکو ہیں، مگر وہ لوگ انسان کم اور درندے زیادہ لگ رہے تھے۔ انہوں نے اس کے ہاتھ باندھ دیے، آنکھوں پر کپڑا ڈال دیا، اور اسے اپنے ساتھ لے گئے۔

وہ چیختا رہا:

“مجھے چھوڑ دو، میرے بچے میرا انتظار کر رہے ہوں گے”

مگر ان لوگوں کے دل پتھر تھے۔

کئی دنوں کے سفر کے بعد اسے ایک دور دراز علاقے میں لے جایا گیا، جہاں انسانوں کی قیمت جانوروں سے بھی کم تھی۔ وہاں اسے غلام بنا کر بیچ دیا گیا۔

اب وہ ایک اجنبی زمین پر تھا… جہاں نہ اس کی زبان کوئی سمجھتا تھا، نہ اس کا درد۔

صبح سے رات تک اس سے مشقت کروائی جاتی۔ گرمی میں جلتی زمین پر کام، سردیوں میں کھلے آسمان تلے نیند، اور ہر غلطی پر کوڑے۔

وہ رات کو جب تھکا ہارا زمین پر گرتا، تو اس کی آنکھوں میں صرف اپنے بچوں کے چہرے ہوتے۔

وہ اکثر آسمان کی طرف دیکھ کر روتا اور کہتا:

“یا اللہ… میرے بچے کھانا کھاتے ہوں گے یا نہیں؟ وہ مجھے یاد کرتے ہوں گے یا بھول گئے ہوں گے؟”

وقت گزرتا گیا۔

ایک سال، پھر دوسرا، پھر تیسرا،
آہستہ آہستہ اس کے ہاتھوں کی طاقت ختم ہونے لگی، مگر دل میں ایک چیز ابھی زندہ تھی:

“مجھے واپس جانا ہے”

وہ ہر دن بھاگنے کا سوچتا، مگر خوف اسے روک لیتا۔

پھر ایک رات،
بارش ہو رہی تھی۔ آسمان پر بجلی چمک رہی تھی۔ اور پہرے دار نشے میں دھت سوئے پڑے تھے۔
اس نے کانپتے ہوئے زنجیر سمیت خاموشی سے بھاگ نکلنے کی کوشش کی۔ دیواریں اونچی تھیں، راستے اندھیرے، اور ہر طرف موت کا خوف بکھرا ہوا تھا۔ مگر شاید پہلی بار اس کے دل میں خوف سے زیادہ تڑپ تھی۔

“میرے بچے”

وہ زخمی قدموں کے ساتھ بھاگتا رہا۔ کانٹے اس کے پاؤں چیرتے رہے۔ جنگلوں میں درندوں کی آوازیں گونجتی رہیں۔ کئی دن وہ بھوکا پیاسا چلتا رہا۔ کبھی درختوں کے پتوں سے پانی پیتا، کبھی زمین پر گر کر بے ہوش ہو جاتا، پھر بچوں کی یاد اسے اٹھا دیتی۔

آخرکار برسوں بعد وہ اپنی بستی پہنچ گیا۔

اس کا جسم بوڑھا ہو چکا تھا۔ بال سفید، چہرہ جھریوں سے بھرا ہوا، اور آنکھوں میں برسوں کی تھکن۔

مگر دل میں ابھی بھی وہی امید زندہ تھی:

“آج میرے بچے مجھے دیکھ کر لپٹ جائیں گے، میری بیوی رو پڑے گی… میرا گھر پھر آباد ہو جائے گا”

وہ جیسے ہی اپنے گھر کے قریب پہنچا، اس کے قدم رک گئے۔

دروازہ بدل چکا تھا۔ دیواروں کا رنگ بدل چکا تھا۔ اور اندر سے ایک اجنبی مرد کی آواز آ رہی تھی۔

اس کا دل زور سے دھڑکا۔

اس نے کانپتے ہاتھوں سے دروازہ کھٹکھٹایا۔

دروازہ کھلا۔

سامنے اس کی بیوی تھی۔

مگر اس کی آنکھوں میں وہ انتظار نہیں تھا، جو کبھی ہوا کرتا تھا۔

چند لمحوں تک وہ اسے پہچان ہی نہ سکی۔

پھر اس کے ہونٹ کانپے۔

“تم؟”

وہ مسکرایا، آنکھوں میں نمی تھی۔

“میں واپس آ گیا”

مگر اگلا لمحہ اس کی روح توڑ گیا۔

اندر سے ایک نوجوان لڑکا نکلا، جو کبھی اس کی انگلی پکڑ کر چلتا تھا۔

اس نے اجنبی نظروں سے اسے دیکھا اور پوچھا:

“امّی، یہ کون ہیں؟”

وہ شخص جیسے اندر سے ٹوٹ کر زمین پر بکھر گیا۔

وہ بچے، جن کے لیے اس نے اپنی ہر خوشی قربان کی تھی، آج اسے پہچانتے بھی نہ تھے۔

پھر اس کی نظر گھر کے اندر بیٹھی اس کی بیوی کے نئے شوہر پر گئی۔

ابتدا میں اس کی بیوی نے انتظار کیا تھا۔ پھر مہینے گزر گئے۔ پھر سال۔

بچوں نے پہلے روز دروازے کی طرف دیکھنا چھوڑا، پھر آہستہ آہستہ باپ کا ذکر بھی کم ہو گیا۔

اور زندگی،
زندگی کسی کے لیے نہیں رکتی۔

اس لمحے اسے پہلی بار اپنی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت سمجھ آئی۔

وہ ساری عمر جنہیں “سب کچھ” سمجھتا رہا، وہ سب وقت کے ساتھ آگے بڑھ گئے۔

کوئی ظالم نہ تھا۔ کوئی بے وفا نہ تھا۔ یہ صرف دنیا کی فطرت تھی۔

جو رکتی نہیں۔

اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

اسے اچانک وہ بزرگ یاد آئے، جنہوں نے کہا تھا:

“نعمت کو نعمت دینے والے سے زیادہ اہم نہیں بنایا جاتا”

وہ لڑکھڑاتے قدموں سے مسجد کی طرف چل پڑا۔

برسوں بعد پہلی بار وہ سجدے میں گرا اور اس قدر رویا کہ مسجد کا فرش بھیگ گیا۔

وہ بار بار صرف ایک جملہ کہہ رہا تھا:

“یا اللہ، میں نے فانی چیزوں کے لیے تجھے بھلا دیا حالانکہ ہمیشہ رہنے والی ذات صرف تیری تھی”

اس دن اسے سمجھ آیا کہ دنیا کی ہر محبت عارضی ہے۔ اولاد بڑی ہو کر اپنی دنیا میں کھو جاتی ہے۔ بیویاں حالات کے مطابق فیصلے کر لیتی ہیں۔ لوگ وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں۔

مگر ایک ذات،
ایسی ہے جو انسان کے لوٹ آنے کا ہمیشہ انتظار کرتی ہے۔

اللہ تعالیٰ۔

اخلاقی سبق:

جو شخص دنیا کی محبت میں اپنے رب کو بھلا دیتا ہے، ایک دن دنیا اسے یہ ضرور دکھا دیتی ہے کہ یہاں کوئی ہمیشہ کسی کا نہیں رہتا۔ رشتے، محبتیں، اور لوگ وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں مگر اللہ کی رحمت کبھی ختم نہیں ہوتی۔ اس لیے نعمتوں سے محبت کریں، مگر نعمت دینے والے کو کبھی نہ بھولیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner