بلاعنوان

بلاعنوان

بہت پرانے زمانے کی بات ہے، جب جنگل بھی سلطنتیں ہوا کرتے تھے، درخت درباریوں کی طرح صف بستہ کھڑے رہتے تھے اور جانور اپنے اپنے عہدوں اور مرتبوں پر فخر کیا کرتے تھے۔
اس جنگل کا بادشاہ ایک طاقتور شیر تھا۔ اس کی دھاڑ سے پہاڑ کانپتے اور اس کی ایک نگاہ سے درندے بھی راستہ بدل لیتے تھے۔
مگر ایک دن قدرت کا ایسا حکم ہوا کہ شیر بیمار پڑ گیا۔
وہ اپنی غار میں پڑا کراہتا رہتا، نہ شکار پر جا سکتا تھا اور نہ دربار لگا سکتا تھا۔
جنگل کے حکیم، نجومی، جڑی بوٹیوں والے اور خود ساختہ ڈاکٹر سب جمع ہوئے۔
بڑی بحث کے بعد ایک بوڑھے حکیم نے اپنی داڑھی سہلاتے ہوئے کہا:
“عالی جاہ! آپ کی بیماری کا علاج صرف ایک چیز میں ہے۔”
شیر نے کمزور آواز میں پوچھا:
“کیا؟”
حکیم نے رازدارانہ انداز میں کہا:
“گدھے کا تازہ گوشت!”
یہ سن کر شیر کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔
اس نے فوراً اپنی سب سے چالاک مشیر، لومڑی، کو طلب کیا۔
لومڑی حاضر ہوئی تو شیر بولا:
“جاؤ، میرے لیے ایک گدھا لے آؤ۔ اگر میں ٹھیک ہو گیا تو تمہیں انعام ملے گا، اور اگر گدھا نہ آیا تو شاید تم ہی میرا اگلا کھانا بن جاؤ!”
لومڑی نے فوراً تعظیم کی۔
“حضور! آپ کی صحت بھی بحال ہوگی اور میرا عہدہ بھی۔”
یہ کہہ کر وہ جنگل کی پگڈنڈیوں پر روانہ ہو گئی۔
پہلا انٹرویو
کچھ فاصلے پر ایک گدھا گھاس چر رہا تھا۔
وہ دنیا کا سب سے محنتی اور شاید سب سے سادہ دل جانور تھا۔
لومڑی نے میٹھی آواز میں کہا:
“السلام علیکم، جناب گدھا صاحب!”
گدھا چونکا۔
اسے پہلی بار کسی نے “جناب” کہا تھا۔
اس نے فخر سے گردن سیدھی کی۔
“وعلیکم السلام! فرمائیے۔”
لومڑی بولی:
“مبارک ہو! جنگل کے بادشاہ نے آپ کو وزیرِ اعظم منتخب کیا ہے۔”
گدھے کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
“میں؟ وزیر؟”
“جی ہاں! شیر سلامت نے فرمایا ہے کہ اتنا باوقار چہرہ، اتنی بلند آواز اور اتنی مضبوط شخصیت صرف وزیر ہی کی ہو سکتی ہے۔”
گدھا خوشی سے پھولا نہ سمایا۔
اس نے زندگی میں پہلی بار اپنی ڈھینچو کو ایک سیاسی تقریر سمجھا۔
چنانچہ وہ لومڑی کے ساتھ محل کی طرف روانہ ہو گیا۔
وزیر کی پہلی پیشی
جیسے ہی گدھا شیر کی غار کے قریب پہنچا، بیمار شیر کی آنکھوں میں بھوک جاگ اٹھی۔
اس نے سوچا:
“وزارت بعد میں، دوپہر کا کھانا پہلے!”
اور یکایک پوری قوت سے گدھے پر جھپٹا۔
مگر گدھا اگرچہ سادہ تھا، بے جان نہ تھا۔
اس نے خطرہ بھانپ لیا اور ایسی دوڑ لگائی کہ گرد کا بادل اٹھ گیا۔
شیر کا پنجہ خالی رہ گیا۔
گدھا دور افق میں نقطہ بن گیا۔
لومڑی کی دوسری سفارت کاری
شیر غصے سے دہاڑا۔
“نادان لومڑی! میرا شکار بھاگ گیا!”
لومڑی نے ادب سے کہا:
“حضور، پہلی ملاقات تھی۔ سرکاری آداب سے ناواقف تھا۔”
شیر غراّیا:
“اگر دوبارہ نہ لائی تو تمہارا تقرر میرے معدے میں ہو جائے گا!”
لومڑی نے دل ہی دل میں اپنی قسمت کو کوسا اور دوبارہ گدھے کی تلاش میں نکل پڑی۔
کافی دیر بعد وہ اسے ایک میدان میں ملی۔
گدھا ابھی تک ہانپ رہا تھا۔
اس نے دور سے ہی چیخ کر کہا:
“دور رہو! تم مجھے موت کے منہ میں لے گئی تھیں!”
لومڑی نے حیرت کا ڈراما کیا۔
“موت؟ کون سی موت؟”
“وہ شیر مجھ پر جھپٹا تھا!”
لومڑی نے پیشانی پر ہاتھ مارا۔
“یا خدا! آپ نے سب غلط سمجھا!”
“غلط؟”
“حضورِ وزیر! وہ حملہ نہیں تھا، شاہی استقبال تھا!”
گدھا حیران رہ گیا۔
لومڑی بولی:
“بادشاہ آپ سے اتنا خوش ہوا کہ خوشی کے مارے دوڑ کر آپ کو گلے لگانے آیا۔ اور آپ… آپ تو ڈر کر بھاگ گئے!”
گدھا سوچ میں پڑ گیا۔
آخرکار عقل اور خوشامد کی جنگ ہوئی، اور حسبِ روایت خوشامد جیت گئی۔
“اچھا… واقعی؟”
“قسم جنگل کی! اب تو آپ کو وزیرِ اعظم ہی نہیں، شاید نائب بادشاہ بھی بنا دیا جائے۔”
گدھے نے خوش ہو کر کان ہلائے۔
“تو پھر چلتے ہیں۔”
آخری تقرری
اس بار جب گدھا غار میں داخل ہوا تو شیر پوری تیاری کے ساتھ موجود تھا۔
نہ اس نے استقبال کیا، نہ مبارک باد دی۔
اس نے سیدھا حملہ کیا۔
اور چند لمحوں میں گدھے کی وزارت، خوابوں اور سیاسی مستقبل  سب کا خاتمہ ہو گیا۔
شیر نے اطمینان کا سانس لیا۔
“آخرکار علاج مل گیا۔”
لومڑی ایک طرف کھڑی مسکرا رہی تھی۔
انعام اور عہدہ
کھانا تناول کرنے کے بعد شیر نے لومڑی سے کہا:
“تم واقعی غیر معمولی چالاک ہو۔”
لومڑی نے عاجزی سے سر جھکا لیا۔
شیر بولا:
“جس جانور کو ایک بار موت دکھائی دے اور وہ پھر بھی واپس آ جائے، اسے لانے کا ہنر ہر کسی میں نہیں ہوتا۔”
پھر اس نے اعلان کیا:
“آج سے تم میری پہلی وزیر ہو!”
لومڑی نے تعظیم کی، مگر دل ہی دل میں سوچا:
“جنگل میں عقل کی قدر ہے، مگر صرف اس وقت تک جب تک وہ کسی اور کے سر استعمال ہو رہی ہو۔”
سبق
جو شخص خوشامد سن کر اپنی عقل دروازے پر چھوڑ دے، وہ اکثر گدھے کی طرح دوسرا موقع نہیں، آخری موقع حاصل کرتا ہے۔
ہر بڑا عہدہ واقعی عزت نہیں ہوتا، اور ہر میٹھی بات سچ نہیں ہوتی۔
اور پنچتنتر کے داناؤں کی زبان میں:
“پہلی بار دھوکا دینے والا چالاک ہو سکتا ہے، مگر دوسری بار دھوکا کھانے والا خود اپنی مصیبت کا شریک ہوتا ہے۔”

دنیا میں لومڑیوں کی کمی کبھی نہیں رہی، مگر ان کی کامیابی ہمیشہ گدھوں کی دستیابی پر منحصر رہی ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner