ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک سرسبز میدان کے کنارے ایک کسان رہتا تھا۔ ہر سال موسمِ سرما آتے ہی وہ اپنی زمین میں گاجریں بوتا۔ اس کی زمین ایسی زرخیز تھی کہ چند ہی ہفتوں میں ہرے پتوں کے نیچے نارنجی گاجریں زمین میں بھرنے لگتیں۔
مگر کسان کی فصل کا ایک اور بھی مداح تھا۔
قریب کے جنگل میں خرگوشوں کی ایک بڑی آبادی رہتی تھی۔
جونہی گاجریں تیار ہوتیں، رات کے اندھیرے میں خرگوشوں کے جھنڈ آتے، خوب گاجریں کھاتے اور خوشی خوشی واپس لوٹ جاتے۔ کسان کئی بار انہیں دیکھتا، مگر نہ جال بچھاتا، نہ ڈنڈا اٹھاتا۔ وہ بس مسکرا کر کہتا:
“اللہ کی زمین ہے، میرا بھی رزق ہے اور ان کا بھی۔”
یوں کئی برس گزر گئے۔
ہر سال کسان گاجریں اگاتا اور ہر سال خرگوش ان سے لطف اندوز ہوتے۔
ایک دن جنگل کے نوجوان خرگوشوں میں سے ایک نے کسان کو ایک نیا پودا لگاتے دیکھا۔ کسان پہلے ایک ننھا سا پودا زمین سے نکالتا، پھر اسے کسی اور جگہ احتیاط سے لگا دیتا۔
نوجوان خرگوش نے یہ منظر دیکھا تو اس کے ذہن میں ایک خیال آیا۔
اس نے جنگل میں واپس جا کر کہا:
“آخر ہم کب تک کسان کے محتاج رہیں گے؟ سال میں چند مہینے گاجریں ملتی ہیں، باقی وقت انتظار کرنا پڑتا ہے۔ کیوں نہ ہم خود اپنی گاجریں اگائیں؟”
بزرگ خرگوشوں نے کہا:
“بیٹا، ہر کام دیکھنے میں آسان اور کرنے میں آسان نہیں ہوتا۔”
مگر نوجوان خرگوش جوش میں تھا۔
اس نے کہا:
“میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ کسان پودے ایک جگہ سے نکال کر دوسری جگہ لگا رہا تھا۔ بس یہی راز ہے!”
چند نوجوان خرگوش فوراً اس کے ساتھی بن گئے۔
اگلی رات وہ کسان کے کھیت میں پہنچے اور بڑے انہماک سے گاجروں کے پودے اکھاڑنے لگے۔ انہیں یہ معلوم ہی نہ تھا کہ اصل گاجر تو زمین کے اندر ہوتی ہے اور پودے کو جڑ سمیت اکھاڑ دینا فصل تباہ کرنے کے مترادف ہے۔
وہ سمجھتے رہے کہ جتنا زیادہ پودا اکھاڑیں گے، اتنی ہی زیادہ گاجریں اگیں گی۔
چنانچہ انہوں نے آدھا نہیں، پورا کھیت ہی صاف کر دیا۔
پھر وہ سب پودے جنگل میں لے گئے اور مختلف جگہوں پر گاڑ دیے۔
کام مکمل ہوا تو سب نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی۔
ایک نے کہا:
“اب تو ہم خود کسان بن گئے!”
دوسرے نے فخر سے کہا:
“اب گاجریں ہمارے دروازے پر اگیں گی!”
مگر دن گزرتے گئے۔
پھر ہفتے گزر گئے۔
نہ کوئی پودا پھلا، نہ کوئی گاجر نکلی۔
جو پودے اکھاڑ کر لائے گئے تھے، وہ ایک ایک کر کے سوکھنے لگے۔
ادھر کسان جب اپنے کھیت میں پہنچا تو اس کی محنت کا برسوں میں پہلا ایسا نقصان ہوا تھا جسے دیکھ کر اس کا دل بیٹھ گیا۔ پوری فصل برباد ہو چکی تھی۔
اس دن اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور آہ بھر کر کہا:
“اگر یہی ہونا ہے تو اب میں گاجریں نہیں اگاؤں گا۔”
اور واقعی اس نے اگلے سال گاجروں کی کاشت نہ کی۔
موسم آیا، مگر کھیت خالی رہے۔
خرگوش انتظار کرتے رہے، مگر گاجریں نہ آئیں۔
ایک سال گزرا، پھر دوسرا۔
اب جنگل کے بوڑھے خرگوش اکثر نوجوانوں کو اس ویران کھیت کی طرف اشارہ کرکے کہتے:
“یہ وہ جگہ ہے جہاں کبھی گاجروں کی نعمت بہتی تھی۔”
نوجوان شرمندگی سے سر جھکا لیتے۔
انہیں تب احساس ہوا کہ انہوں نے صرف فصل ہی تباہ نہیں کی تھی، بلکہ اپنے ہی رزق کا دروازہ بند کر دیا تھا۔
اخلاقی سبق:
بعض اوقات ہم کسی کام کی پوری حقیقت جانے بغیر دوسروں کی نقل کرنے لگتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نہ صرف کامیابی ہاتھ نہیں آتی بلکہ وہ نعمت بھی کھو بیٹھتے ہیں جو پہلے آسانی سے حاصل تھی۔ علم کے بغیر جوش اکثر فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بنتا ہے۔
