بلاعنوان

بلاعنوان

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں میں ایک شخص رہتا تھا۔ اس کا روزگار ایک ہنر سے وابستہ تھا اور برسوں تک وہ اسی ہنر کے سہارے اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پالتا رہا۔ مگر وقت بدلا، حالات بدلے اور گاؤں میں کام کم ہوتا گیا۔ آخر ایک دن اس نے سوچا کہ کیوں نہ پڑوس کے گاؤں کا رخ کیا جائے، شاید وہاں قسمت کوئی نیا دروازہ کھول دے۔
صبح سویرے اس نے اپنا سامان باندھا، اپنے گدھے پر سوار ہوا اور سفر پر نکل پڑا۔

یہ گدھا اس کا پرانا ساتھی تھا۔ برسوں سے اس کے ساتھ تھا، اس لیے وہ اسے محض ایک جانور نہیں بلکہ اپنا وفادار دوست سمجھتا تھا۔
چلتے چلتے وہ ایک دریا کے کنارے پہنچا جہاں لوگوں کو پار لے جانے کے لیے ایک بیڑی کھڑی تھی۔ وہ گدھے سمیت اس میں سوار ہونے لگا تو ملاح نے ایک نظر گدھے پر ڈالی اور پھر مسکرا کر بولا:

“حضور، دریا آج کچھ بے چین ہے۔ لہریں تیز ہیں۔ اگر ممکن ہو تو گدھے کو یہیں چھوڑ جائیں یا کسی بندوبست سے دوسری طرف پہنچا دیں۔ بیچ دریا میں یہ مسئلہ پیدا کر سکتا ہے۔”

مسافر نے فوراً برا مان لیا۔
“یہ؟ مسئلہ پیدا کرے گا؟ جناب، آپ اسے جانتے نہیں۔ یہ تو میری جان سے بھی زیادہ وفادار ہے۔ میں اس کے بغیر ایک قدم بھی سفر کا تصور نہیں کر سکتا۔”
پھر اس نے گدھے کی وفاداری، محنت اور رفاقت پر ایسا طویل خطبہ دیا کہ ملاح خاموش ہو گیا۔

وہ عمر بھر دریا میں لوگوں کو لاتا لے جاتا رہا تھا۔ جانتا تھا کہ بعض لوگوں کو نصیحت سے زیادہ تجربہ سمجھاتا ہے۔

بیڑی چل پڑی۔
شروع میں سب ٹھیک رہا، مگر جب دریا کے درمیان پہنچے تو تیز لہریں بیڑی سے ٹکرانے لگیں۔ پانی کی آواز اور ہچکولوں سے گدھا گھبرا گیا۔

پہلے اس نے بے چینی سے پاؤں مارے۔ پھر ایک طرف سے دوسری طرف اچھلنے لگا۔
بیڑی خطرناک حد تک ہلنے لگی۔
ملاح فوراً بولا:
“جناب! اب بھی وقت ہے۔ اسے سنبھالیں، ورنہ ہم سب مشکل میں پڑ جائیں گے۔”
مگر گدھا مزید بدک گیا۔

ملاح نے پھر کہا:
“اگر یہ قابو میں نہیں آتا تو اسے دریا میں اتارنا ہوگا یا واپس کنارے جانا ہوگا، ورنہ سب ڈوب جائیں گے۔”

یہ سن کر مسافر غصے میں آگیا۔ “آپ شروع سے میرے گدھے کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں! میں پھر کہتا ہوں، اس کی جگہ اگر کسی کو پانی میں کودنا پڑا تو میں خود کود جاؤں گا، مگر اپنے گدھے کو ہرگز نہیں چھوڑوں گا”۔

ملاح نے خاموشی سے چپو چلانا جاری رکھا۔
مگر قسمت کو کچھ اور منظور تھا۔ اگلے ہی لمحے ایک بڑی لہر آئی، گدھا زور سے اچھلا اور بیڑی کا توازن بگڑ گیا۔
چند لمحوں میں پوری بیڑی الٹ چکی تھی۔ ہر طرف پانی ہی پانی تھا۔ ملاح چونکہ ماہر تیراک تھا، فوراً تیر کر کنارے کی طرف بڑھنے لگا۔

ادھر مسافر ہاتھ پاؤں مار رہا تھا۔
اور گدھا؟
وہ خوف کے مارے اپنے مالک سے ایسی طرح چمٹ گیا جیسے بچہ اپنی ماں سے لپٹتا ہے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ مالک جتنا اوپر آنے کی کوشش کرتا، گدھا اسے اتنا ہی نیچے دبا دیتا۔
اب وہ شخص چیخنے لگا:

“بچاؤ! بچاؤ! مجھے بچاؤ! یہ مردود تو مجھے ڈبو دے گا”۔

کنارے کے قریب پہنچ کر ملاح نے یہ آواز سنی تو زور سے بولا: “ارے حضور! ابھی تو آپ فرما رہے تھے کہ اس کی جگہ خود ڈوب جانا پسند کریں گے”
پانی میں غوطے کھاتے ہوئے وہ ہانپ کر بولا:
“میں نے تو بس ایسے ہی کہہ دیا تھا”۔
ملاح ہنس پڑا اور بولا:
“انسان کی محبت اور اصولوں کا اصل امتحان وہی لمحہ ہوتا ہے جب قیمت خود ادا کرنی پڑے۔”

اخلاقی سبق:
بعض اوقات ہم جذبات میں آ کر بڑی بڑی باتیں کر دیتے ہیں، مگر حقیقت کا وقت آنے پر پتا چلتا ہے کہ ہمارے الفاظ کتنے مضبوط تھے۔ دعوے کرنا آسان ہے، مگر ان پر قائم رہنا اصل امتحان ہوتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner